خوارج کا ظہور
خوارج کا ظہور
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک، بعض ان فرقوں کا ظہور بھی ہے جن کا منہج ( طریق کار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے منہج کے خلاف ہوگا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی جماعت کے ساتھ مل گئے تھے اور پھر سیّدنا علی اور جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین تحکیم (ثالثی) کے مسئلہ پر آپ کی اطاعت گزاری سے بھی نکل گئے، اورانہوں نے کوفہ کے قریب حروراء نامی گاؤں میں ڈیرے ڈال دیے۔
خوارج کے بعض عقائد:
۱۔ کبیرہ گناہ(جیسے شراب نوشی اورزنا کاری ) کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں ۔ ایسے انسان کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ یہ انسان ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ یہ کھلم کھلی گمراہی ہے۔ حق بات تو یہ ہے کہ جب کسی مسلمان سے کوئی کبیرہ گناہ واقع ہو جائے تو اسے کافر نہیں کہا جائے گا مگر وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گنہگار او راللہ کی نافرمانی کرنے والا ہوگا۔ اور اس پر واجب ہوتا ہے کہ فوراً گناہ کو چھوڑ دے اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی اس معصیت پر توبہ کرے۔
۲۔ یہ لوگ سیّدنا علی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ دیگر بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو جوکہ تحکیم (ثالثی)کے مسئلہ پر راضی تھے ؛ کافر کہتے ہیں ۔
۳۔ ان حکمرانوں کے خلاف جنگیں کرتے ہیں جو ایسے فسق و فجور کے کام کرتے ہیں جو کہ حد کفر کو نہیں پہنچتے۔
۴۔ یہ لوگ علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور عبادت میں بڑی محنت و مشقت کرتے ہیں ۔ مگر کتاب اللہ کے احکام سے بالکل جاہل ہیں ، ان ہی لوگوں میں سے ایک ذو الخویصرہ بھی تھا جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔‘‘[1]
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’آخری زمانہ میں ایک قوم پیدا ہوگی جو نوعمر اور کم عقل ہوں گے، باتیں تو اچھے لوگوں جیسی کریں گے (لیکن) وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ کائنات کے لوگوں میں بہترین باتیں کہیں گے۔وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔‘‘ ( متفق علیہ )
خوارج کے ظہور کی ابتدا:
معرکہ صفین کے ختم ہونے کے بعد اہل شام اور اہل عراق دونوں گروہوں کے مابین ثالثی کے مسئلہ راضی ہونے اور سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے کوفہ واپس ہونے کے بعد خوارج ان سے علیحدہ ہوگئے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی۔اور کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد سولہ ہزار تھی۔ بعد میں انہوں نے حروراء کے مقام پر پڑاؤ ڈال دیا تھا۔
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا جنہوں نے ان کے ساتھ مناظرہ [1]کیا۔ پھر ان میں سے بعض جناب علی رضی اللہ عنہ خلیفہ مسلمین کی اطاعت میں واپس آگئے، اور باقی لوگ اپنی گمراہی پر قائم رہے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ انہیں کوفہ کی جامع مسجد میں انہیں خطبہ دیاتو یہ لوگ مسجدکے کونوں سے آوازیں لگانے لگے: ’’ اللہ کے علاوہ کسی کا حکم نہیں چلے گا۔‘‘ نیز یہ بھی کہنے لگے : ’’ تم نے شرک کیا ہے، تم نے لوگوں کو ثالث بنایا ہے، اللہ تعالیٰ کی [1] کتاب کو ثالث نہیں بنایا۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا :’’ تمہارے ہم پر تین حق ہیں :
۱۔ یہ کہ تمہیں مسجدوں میں آنے سے نہ روکیں ۔
۲۔ اور نہ ہی تم سے مالِ فے روکیں گے۔
۳۔ اور یہ کہ تم سے قتال کرنے میں ابتدا نہ کریں جب تک کہ تم پہلے کوئی فساد بپا نہ کرو۔ ‘‘
پھر یہ لوگ جمع ہوگئے اورجو بھی مسلمان ان کے قریب سے گزرتا اس کو قتل کردیتے۔ انہوں نے سیّدنا عبد اللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ؛ اور ان کی بیوی کا پیٹ چاک کردیا۔ جب جناب علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا : انہیں کس نے قتل کیا ہے ؟ تو جواب میں کہنے لگے : ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے۔ پھر سیّدناعلی رضی اللہ عنہ نے ان کے مقابلہ کے لیے ایک لشکر تیار کیا، نہروان کے مقام پر دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا، اور انہیں انتہائی عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔