قیامت کو پیش آمدہ واقعات پر منطبق کرنے کے قواعد
قیامت کو پیش آمدہ واقعات پر منطبق کرنے کے قواعد
قدیم و جدید ہر دور کے علمائے کرام نے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں کتابیں لکھی ہیں اور نئی تالیفات آرہی ہیں ۔ ریڈیو؛ ٹی وی پروگرام، انٹرنیٹ اور رسائل کے صفحات تمام ہی اس مضمون سے مزین ہیں اور بعض لوگ جو اس بارے میں تحقیق کی دھن میں لگے ہوئے ہیں ان سے کچھ غلطیاں بھی ہوئی ہیں ، جن کی وجہ سے وہ خلط و اضطراب کا شکار ہوئے ہیں ۔ میں نے مناسب سمجھا کہ یہاں پروہ قواعدذکر کردوں جو قیامت کی نشانیوں کے ساتھ تعامل کے بارے میں شرعی نصوص میں وارد ہوئے ہیں ۔
صرف قرآن و سنت کی صحیح نصوص سے استدلال
اس بارے میں استدلال کرتے ہوئے صرف قرآن اور سنت کی صحیح نصوص پر ہی انحصار کیا جائے۔ اس لیے کہ قرآن و حدیث ہی وہ مصدر ہیں جن کے ذریعہ غیب کی معرفت حاصل کرنا ممکن ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے:
’’ کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے۔‘‘ (النمل :۵۶)
’’ وہی غیب کی بات جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس (کو غیب کی باتیں بتا دیتا ہے اور اس) کے آگے اور پیچھے نگہبان مقرر کر دیتا ہے۔‘‘ (الجن: ۲۶۔۲۷)
پس اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دینی مصلحتوں کی وجہ سے بعض غیبی امورکی خبر دیتے ہیں ۔ ان ہی میں سے قیامت کی نشانیاں بھی ہیں ، جو کہ مستقبل میں پیش آنے والا ایک غیبی علم ہے۔
رہا اسرائیلی روایات سے یا خواب سے قیامت کی نشانیوں کا علم حاصل کرنا، یا سیاسی واقعات کو بغیر کسی صحیح دلیل کے قیامت کی نشانیوں پر منطبق کرنا تو یہ کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ جس نص (روایت ) سے استدلال کیا جارہاہو وہ روایت بھی صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو، خواہ یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو،یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے کسی ایک کی طرف۔
قیامت کی نشانیوں نے انتقامی سیاست ؛ تجارت اور کتابوں کی خرید وفروخت نے قارئین کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے بھی ایسی نئی راہیں کھولی ہیں جن میں کثرت کے ساتھ عجیب و غریب قسم کی شاذ اور جھوٹی روایات، اوہام اور افکار و خیالات کو جمع کیا جارہا ہے۔ اس بارے میں جو کچھ میری نظر سے گزرا ہے، اس کی ایک جھلک قارئین کے سامنے پیش کی جارہی ہے۔ ایک مؤلف کہتا ہے:
’’ ایک اثر( حدیث) میں ہے ؛ جو کہ تیسری صدی ہجری میں لکھی جانے والی کتابوں کے ایک نادرو نایاب مخطوطہ میں ’’ دار الکتب الاسلامیۃ ‘‘ کے کتب خانہ میں استنبول میں موجود ہے۔ جناب ابو ہریرہ، ابن عباس اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم اجمعین سے روایت کیا گیا ہے، روایت میں ہے کہ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس روایت کو بیان کرنے میں خوف محسوس کرتے تھے۔ مگر جب انہیں اپنی موت قریب محسوس ہوئی، اور اپنا علم چھپانے کا احساس ہوا تو اپنے پاس موجود لوگوں سے کہنے لگے: ’’ میں ایسی خبر جانتا ہوں جو کہ آخری زمانے میں ہونے والی ((حروب)) [1] جنگوں سے متعلق ہے۔ کہنے لگے : ’’ ہمیں بتادیجئے ! اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ آپ کوجزائے خیر دے۔ آپ نے فرمایا:
’’ تیرہویں صدی ہجری کی دھائیوں میں ؛ اور انہوں نے پانچ یاچھ دھایاں گنی؛ (یعنی ۱۳۵۰ ھ یا ۱۳۶۰ ھ کے آس پاس ) مصر میں ایک شخص حاکم بنے گا، اس کی کنیت ناصر ہوگی، اسے عرب لوگ ’’ شجاع العرب ‘‘ کے نام سے پکاریں گے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر جنگ میں ذلیل کریں گے۔ اور اس کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ مصر کی حقیقی مدد اپنے مہینوں میں سے کسی ایک مہینہ میں کرے گا؛ جو اس کا مہینہ (یعنی حرمت والامہینہ)ہے۔ سو مصر بیت اللہ کے رب کو راضی کرے گا۔اور عرب میں ایک سانولا سادا ( سادات ) ہوگا، اس کا باپ اس سے زیادہ روشن ہوگا ؛ مگر نیک انسان ہوگا۔ مسجد اقصیٰ کے چور غموں کے شہر میں ہوں گے۔‘‘[1]
عراق میں ایک انتہائی جابر …اور … سفیانی شخص حاکم ہوگا، اس کی ایک آنکھ میں تھوڑا سا عیب ہوگا۔ اور اس کا نام صدام ہوگاجو کہ ہر اس انسان سے ٹکرائے گا جو اس کی مخالفت کرے گا اور اس کے خلاف دنیا ایک چھوٹے سے ’’کوت‘‘ میں جمع ہوگی، جس میں وہ داخل ہوچکا ہوگا؛ اور وہ نشے میں ہوگا۔ اس سفیانی میں اسلام کے علاوہ کوئی خیر نہیں ہوگی۔ باقی خیر بھی ہوگی اور شر بھی۔ اس کے لیے ہلاکت ہو جو مہدی ٔامین کے لیے خیانت کرے گا۔اور چودہویں صدی ہجری کی دوسری یا تیسری دھائی میں مہدی امین کا خروج ہوگا جو تمام کائنات سے جنگ کرے گا۔ سب گمراہ اور اللہ کے غضب کے مارے ہوئے(یہود و نصاریٰ)اس کے خلاف جمع ہوجائیں گے۔ اور ان کے ساتھ وہ لوگ بھی ہوں گے جو اسرا و معراج کے ملک میں منافقت کی حد ِکمال تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ یہ سب لوگ ’’مجدون‘‘ نامی پہاڑ کے پاس جمع ہو جائیں گے۔ اورساری دنیا کی مکار و بدکار ملکہ؛ جس کا نام زانیہ (امریکا) ہوگا، ان کے مقابلہ کے لیے نکلے گی۔ جو اس دن سارے عالم کو کفر اورگمراہی پر لانے کے لیے بہکائے گی۔اس دن دنیا کے یہودی کمال کی بلندیوں پر پہنچے ہوئے ہوں گے؛ وہ بیت المقدس اور مقدس شہر ( یروشلم ) کے حاکم ہوں گے۔ بحر و بر اور فضاء سے تمام ممالک آ دھمکیں گے، سوائے انتہائی خطرناک برف والے ملک کے اورانتہائی خطرناک گرمی والے ملک کے۔ مہدی دیکھے گا کہ پوری دنیا خوفناک جال بُن کر اس کے خلاف صف آراء ہے۔ اور وہ دیکھے کہ گا اللہ کی تدبیر سب سے زیادہ کار گر ہوگی، وہ دیکھے گا کہ کائنات اللہ کی ہے، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ساری دنیا کی بمنزلہ ایک درخت کے ہے، جس کی جڑیں اور شاخیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں ۔ وہ ان پر انتہائی تکلیف دہ تیر پھینکے گا، اور زمین و آسمان اور سمند ر کو ان پر جلا کر راکھ کر ڈالے گا، آسمان سے آفتیں برسیں گی۔ زمین و الے سب کافروں پر لعنت بھیجیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کے کفر کو مٹانے کی اجازت دے دے گا۔‘‘
ثقہ علماء کی طرف رجوع کرنا
اس بارے میں جس انسان کے دل میں کچھ بھی اشکال پیدا ہو تو اس پر واجب ہوتا ہے کہ وہ اس کے اظہار میں جلدی نہ کرے ؛ بلکہ پہلے اسے علماء پر پیش کرے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔‘‘ (الانبیاء: ۷)
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’ اگر یہ لوگ اس رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں ؛ اور اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔‘‘ (النساء: ۸۳)
سلف صالحین میں یہی طریقہ رائج تھا۔ اسی طرح کی ایک خبر حضرت ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’ میں کوفہ میں تھا۔ تو کہا گیا کہ ’’دجال نکل کیا گیا ہے۔ ‘‘سو ہم حذیفہ بن اسید کے پاس آئے، وہ حدیث بیان کررہے تھے، میں نے کہا : ’’یہ دجال نکل گیا ہے۔ ‘‘ تو فرمانے لگے : ’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ میں بیٹھ گیا۔تووہ عریف[1]کے پاس آئے اورکہا : ’’یہ دجال ہے، جو یقیناً نکل چکا ہے اور اہل کوفہ اس پر طعن کررہے ہیں ۔‘‘ اس نے کہا: بیٹھ جاؤ۔ توآپ بیٹھ گئے۔ سو آواز لگائی گئی : ’’ یہ ابن صباغ کا جھوٹ ہے۔‘‘ ہم نے کہا : ’’اے ابو سریحہ ! تم نے تو ہمیں کسی کام سے بٹھایا ہے، سو ہم سے حدیث بیان کرو۔‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’ اگر دجال تمہارے زمانے میں نکلے تو بچے اسے کنکریوں سے ماریں ، مگر دجال لوگوں کے مابین انتہائی بغض ؛ دین کی خفت ؛ اور لوگوں کے مابین بدمعاملگی کے وقت نکلے گا۔ وہ ہر گھاٹ پر جائے گا اور زمین اس کے لیے ایسے سمیٹ دی جائے گی جیسے مینڈھے کی کھال سمیٹ دی جاتی ہے۔‘‘[2]
لوگوں سے ان کی اہلیت کے مطابق گفتگو کریں
بہت سارے وہ لوگ جو قیامت کی نشانیوں کے متعلق گفتگو کرتے ہیں ، وہ ان احادیث اور نشانیوں کو عام لوگوں میں بیان کرتے وقت سستی سے کام لیتے ہیں ۔ یاان لوگوں کے سامنے بیان کرتے وقت جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہوتے ہیں جن کی عقلیں مسئلے کا پوری طرح ادراک نہیں کرسکتیں حالانکہ یہ بات طے شدہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا علم حاصل کیا جاتا ہے، وہ لوگوں کے سامنے بیان نہیں کی جاتی اور نہ ہی ہر صحیح روایت نشر کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ اس لیے کہ کم عقل والے لوگ کبھی کبھار برداشت نہیں کرسکتے۔ یا اس کے ساتھ برا تعامل کیا جاتا ہے، یا اس کلام کو اس کی صحیح منزلت پر نہیں پیش کیا جاتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں :
’’لوگوں سے ایسے حدیث بیان کرو جس کو وہ جانتے ہو، اور اسے چھوڑ دو جس کو نہ جانتے ہوں ، کیاتم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا جائے۔‘‘ [1]
ایک روایت میں ہے:
’’ اے لوگو! کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے ؟ لوگوں سے وہ حدیث بیان کرو جسے وہ جانتے ہوں اور اس حدیث کوچھوڑ دو جسے وہ جانتے نہیں ۔ ‘‘[2]
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’جب تم لوگوں سے ایسی احادیث بیان کروگے جہاں ان کی عقلیں نہ پہنچ سکیں تو بعض لوگوں کے لیے یہ فتنہ کا باعث بن جائے گی یعنی وہ گمراہ ہو جائیں گے، اس لیے ہر شخص سے اس کی عقل کے موافق بات کرنی چاہیے۔ ‘‘[3]