بخل اور خود غرضی کا عام ہوجانا

بخل اور خود غرضی کا عام ہوجانا

۲۹۔بخل اور خود غرضی کا عام ہوجانا ۳۰۔قطع رحمی ۳۱۔ہمسائے سے برا سلوک قیامت کی نشانیوں میں سے نفسیاتی امراض کا پھیل جانا ہے جن کی وجہ سے معاشرتی وحدت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ ان امراض میں سے ایک خود غرضی ہے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ خود غرضی عام ہو جائے۔‘‘ (طبرانی فی اوسط ) اور سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاملہ دنیا میں شدت بڑھتی ہی جائے گی اور دنیا میں ادبار (افلاس اخلاق رذیلہ) بڑھتا ہی جائے گا لوگ بخیل سے بخیل تر ہوتے جائیں گے۔‘‘ (ابن ماجہ ) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت کا زمانہ قریب ہوگا، تو عمل کم ہوجائیں گے بخل پیدا ہوجائے گا، فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج کی کثرت ہوگی۔‘‘ (بخاری ) (شح ) خود غرضی سے مراد مال کی حرص کے ساتھ ساتھ بخل ہے۔ اور ہر اس چیز کو عربی میں (شُح) کہا جاتا ہے جو دل کے لیے مال خرچ کرنے یا نیکی کے کام کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بدگوئی اور فحاشی عام نہ ہوجائے اور قطع رحمی کی جانے لگے اور پڑوس والوں کے ساتھ برا سلوک کیا جائے ۔‘‘ (مسند احمد ، مستدرک حاکم ) سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ فحاشی اور بخل پھیل جائے ؛ خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا۔وعول ( سردار لوگ) مر جائیں گے اور تحوت (کمینے ) لوگ غالب آجائیں گے۔‘‘ آپ سے پوچھا گیا :’’یارسول اللہ ! وعولکیا ہے اور تحوت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: ’’وعول لوگوں کے بڑے اور سردار ہیں لوگ ہیں اور تحوت وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے قدموں کے نیچے ہوا کرتے تھے، اور ان کا کوئی پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔‘‘ (مستدرک حاکم ، طبرانی فی الاوسط، سلسلہ صحیحہ للالبانی:۳۲۱۱) جس چیز کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ پیش آچکی ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ فساد لوگوں کے مابین چار سو پھیلا ہوا ہے ؛ قطع رحمی اور پڑوس کے ساتھ برا سلوک کیا جارہا ہے۔ پیار و محبت اور صلہ رحمی کی جگہ بغض و نفرت اور قطع رحمی نے لے لی ہے۔ یہاں تک کہ پڑوسی اپنے پڑوسی کے بارے میں نہیں جانتا کہ کون ہے ؟اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جنہیں اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے بارے میں کوئی علم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ۔