شریف لوگوں کی ہلاکت اور گھٹیا لوگوں کاغلبہ

شریف لوگوں کی ہلاکت اور گھٹیا لوگوں کاغلبہ

یہ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ شریف لوگ، قوموں کے سردار اور حکیم اہل علم و عقل مر جائیں گے۔ پھر ان کی جگہ دوسرے لوگ آئیں گے۔ تو نچلے درجے کے لوگ اوپر آجائیں گے۔ یہ لوگوں میں سے جاہل ترین نچلے طبقے کے اور فسادی ہوں گے، اس لیے کہ ان کے لیے جگہ خالی ہوگئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ(اور فرمایا ) … وعول( سردار لوگ) مر جائیں گے اور تحوت (کمتر ) لوگ غالب آجائیں گے۔‘‘ آپ سے پوچھا گیا : ’’یارسول اللہ ! وعول کیا ہے اور تحوت کیا ہے ؟‘‘ آپ نے فرمایا: وعول لوگوں کے بڑے اور سردار ہیں لوگ ہیں اور تحوت وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے قدموں کے نیچے ہوا کرتے تھے، اور ان کا کوئی پتہ ہی نہیں چلتا تھا۔‘‘ (مستدرک حاکم ، طبرانی فی الاوسط، سلسلہ صحیحہ للالبانی:۳۲۱۱) نچلے طبقے کے لوگوں کا غلبہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ انہیں مختلف منصبوں پر فائز کیا جائے اور ذرائع نشرو اشاعت کو ان کی خدمت میں لگا دیا جائے۔ ان کے آس پاس ڈھول باجے والوں کی کثرت ہو۔ وعول سے مراد شریف لوگ، عقل مند، خیر خواہ، اور لوگوں سے چھپ کر رہنے والے ہیں جو کہ ذرائع نشر و اشاعت سے دور رہیں گے۔ پس لوگوں میں وہی شخص شہرت رکھے گا جو گانے بجانے، رقص و سرور ؛ فحاشی اور بد کرداری کو معمولی سمجھتا ہو۔ رہے وہ سائنس دان، انجینئر طب اور ھندسہ کے ماہر اور اس طرح کے دوسرے لوگ، ان کے لیے کو ئی جگہ نہیں ہوگی۔ اب یہ علامت ہر طرح سے ظاہر ہے۔ اگرچہ ابھی تک لوگوں کی ایک بڑی تعداد دینی پروگراموں ، مثلاً لیکچراور درس وغیرہ میں شریک ہوتے ہیں ، اور آپ دیکھیں گے کہ اکثر اسلامی ممالک میں عام مسلمان لوگ علماء اور دعوت ِ دین کا کام کرنے والوں کا بڑا احترام کرتے ہیں ؛ اورعلم و ذکر کی مجالس میں شرکت کے لیے بڑی حرص رکھتے ہیں ۔ سیٹلائٹ چینلز پر پیش کیے جانے والے دینی پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں ۔ اور روز بروز دینی چینلز بڑھ رہے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ بہت بڑی تعداد میں غیر مسلم لوگ بھی ان پروگراموں سے استفادہ کرتے ہیں جس سے بہت بڑا فائدہ بھی ہوا ہے۔