علامات ِقیامت کی اقسام

علامات ِقیامت کی اقسام

أشراط الساعۃ ’’قیامت کی نشانیوں ‘‘ کا معنی أشراط (علامات) اشراط: شرط کی جمع ہے۔ شرط نشانی یا علامت کو کہتے ہیں ۔ اشراط الساعۃ سے مراد قیامت کی نشانیاں اور اسباب ہے۔ یہی وہ نشانیاں ہیں جن کے بعد قیامت قائم ہوگی۔[1] الساعۃ (قیامت) اس سے مراد وہ گھڑی ہے جس میں قیامت قائم ہوگی۔ اور اس کا نام ’’الساعۃ‘‘ یعنی ایک گھڑی اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ گھڑی بھر میں لوگوں کو گھیرلے گی اورتما م لوگ ایک چیخ سے مر جائیں گے۔[2] علامات ِقیامت کی اقسام قیامت کی نشانیوں کی دو قسمیں ہیں : ۱۔چھوٹی نشانیاں ۲۔بڑی نشانیاں پہلی قسم:…چھوٹی نشانیاں اس کی بھی دو قسمیں ہیں : ۱۔ دُور کی نشانیاں ۲۔ متوسط نشانیاں ۱۔دور کي نشانیاں :ان سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو ظاہر ہوئیں اور گزرچکیں ۔یہ چھوٹی نشانیاں ہیں ۔ وقوع ِ قیامت کی گھڑی سے دور ہونے کی وجہ سے۔ جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، چاند کا دو ٹکڑے ہونا، اورمدینہ منورہ سے ایک بہت بڑی آگ کا ظاہر ہونا۔ (دیکھیں علامت نمبر ۱-۳-۱۳) ۲۔ متوسط نشانیاں :وہ نشانیاں جوظاہر تو ہوئی ہیں مگر ختم نہیں ہوئیں ؛ بلکہ روزانہ بڑھ رہی ہیں ، یہ نشانیاں بہت زیادہ ہیں ۔ ان کا شمار بھی قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں ہوتا؛ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ ان میں سے جیسے لونڈی کا اپنے آقا کو جنم دینا۔ ننگے پاؤں اور ننگے سر والے بکریوں کے چرواہوں کا بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرنا۔ اور تیس جھوٹے دجالوں کاظاہر ہونا جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ دوسری قسم:… بڑی نشانیاں یہی وہ نشانیاں ہیں جن کے بعد قیامت آئے گی۔ یہ دس نشانیاں ہیں ، ان میں سے کوئی ایک بھی پوری نہیں ہوئی۔ سیّدناحذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم کس بات کا تذکرہ کر رہے ہو؟‘‘ ہم نے عرض کیا:’’ ہم قیامت کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ ہرگز قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس علامات دیکھ لوگے۔‘‘ پھر آپ نے ان کو ذکر کیا، جو درج ذیل ہیں : ۱۔ دھواں ۲۔دجال ۳۔ دابۃ الارض(چوپایہ ) ۴۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ۵۔سیّدنا عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا ۶۔ یاجوج وماجوج تین جگہوں کے دھنسنے کے واقعات: ۷۔ ایک دھنسنا مشرق میں ۸۔ ایک دھنسنا مغرب میں ۹۔ایک دھنسنا جزیرہ العرب میں ۔[1] ۱۰۔یمن سے نکلنے والی آگ جو لوگوں کوحشر( جمع ہونے کی جگہ) کی طرف لے جائے گی۔ بعض دوسری احادیث امام مہدی میں کعبہ گرانے کے واقعہ اور زمین سے قرآن کے اٹھائے جانے کا ذکر بھی آیا ہے۔ جیسا کہ آگے ان کا تذکرہ آرہا ہے۔ [2] قیامت کی چھوٹی نشانیاں پہلی قسم:… وہ نشانیاں جو واقع ہوچکي ہیں : ۱۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ۲۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ۳۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا ۴۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (کے دور )کا گزرنا ۵۔ بیت المقدس کی فتح ۶۔ بکریوں کی عقاص نامی بیماری جیسی کثیر الوقوع موت ۷۔ مختلف انواع کے فتنوں کی کثرت ۸۔ فضائی چینلز کا ظہور ۹۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صفین کے بارے میں خبر دینا ۱۰۔ خوارج کا ظہور ۱۱۔ جھوٹی نبوت کے دعویداروں کا ظہور ۱۲۔ امن و امان اور فراختگی کا عام ہو جانا ۱۳۔ حجاز سے آگ کا ظاہر ہونا ۱۴۔ ترکوں سے جنگ ۱۵۔ ظالموں کا ظہور جولوگوں کو کوڑوں سے ماریں گے ۱۶۔ قتل و غارت کی کثرت ۱۷۔ امانت کا ضائع ہوجانا اوردلوں سے اس کا اٹھ جانا ۱۸۔ سابقہ امتوں کی اتباع ۱۹۔ لونڈی کا اپنے آقا کو جنم دینا ۲۰۔ لباس پہنے ہوئے مگر ننگی عورتوں کا ظہور ۲۱۔ ننگے پاؤں اور ننگے سر چلنے والوں کا بڑی عمارتوں کی تعمیرمیں فخر کرنا ۲۲۔ صرف خاص لوگوں کو سلام کرنا ۲۳۔ تجارت کا عام ہوجانا ۲۴۔ عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ تجارت میں شریک ہونا ۲۵۔ بعض تاجروں کا مارکیٹ پر راج ہونا ۲۶۔ جھوٹی گواہی ۲۷۔ سچی گواہی کا چھپانا ۲۸۔ جہالت کا پھیل جانا ۲۹۔ بخل اور کنجوسی کا عام ہوجانا ۳۰۔ قطع رحمی ۳۱۔ ہمسایہ سے برا سلوک ۳۲۔ فحاشی کا ظہور ۳۳۔امین کو خائن اور خائن کو امین بنانا ۳۴۔ شریف لوگوں کی ہلاکت اور گھٹیا لوگوں کاغلبہ ۳۵۔ مال کے حلال و حرام کی پرواہ نہ کرنا ۳۶۔ مالِ فے کو اپنی دولت سمجھنا ۳۷۔ امانت کو غنیمت سمجھنا ۳۸۔ زکوۃ کو تاوان سمجھنا ۳۹۔ غیر اللہ کے لیے علم حاصل کرنا ۴۰۔ بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی ۴۱۔ دوست کی قربت اور والد سے دوری ۴۲۔ مساجد میں شور وشرابا ۴۳۔ قبائل پر فاسق لوگوں کی قیادت ۴۴۔ قوم کے سب سے گھٹیا انسان کا بڑا بن جانا ۴۵۔ انسان کے شر سے بچنے کے لیے اس کی عزت کرنا ۴۶۔ لونڈیوں کوحلال سمجھنا ۴۷۔ ریشم کو حلال سمجھنا ۴۸۔ شراب کو حلال سمجھنا ۴۹۔ گانے بجانے کے آلات کو حلال سمجھنا ۵۰۔ موت کی تمنا کرنا ۵۱۔ ایسا وقت آنا کہ انسان صبح کو مومن اور شام کو کافر ہو ۵۲۔ مساجد میں نقش و نگار اور ان کی بناوٹ پر فخر کرنا ۵۳۔ گھروں میں نقش و نگار اور زیب وزینت ۵۴۔ قرب قیامت میں آسمانی بجلی کی کثرت ۵۵۔ کتابت (کتابوں )کی کثرت اور انتشار ۵۶۔ زبان سے مال کمانا اور کلام پر فخر کرنا ۵۷۔ قرآن کے علاوہ باقی کتابوں کا عام ہوجانا ۵۸۔ ایسا زمانہ جب پڑھنے والے زیادہ ہوں گے علماء اور فقہاء کم ہوں گے ۵۹۔ چھوٹے لوگوں کے پاس علم تلاش کرنا ۶۰۔ اچانک موت کا بڑھ جانا ۶۱۔ بیوقوف لوگوں کی امارت ۶۲۔ زمانے کا قریب ہوجانا ۶۳۔ چھوٹے سر والوں ( بیوقوفوں ) کا کلام کرنا ۶۴۔ سب سے گھٹیا انسان کا سب سے خوش قسمت ہوجانا ۶۵۔ مسجدوں کو راہداری بنالینا ۶۶۔ مہر کابڑھ جانا اورپھر کم ہونا ۶۷۔ گھوڑوں کی قیمت کا بڑھنا اور پھر کم ہوجانا ۶۸۔ بازاروں کا قریب قریب ہوجانا ۶۹۔ باقی امتوں کی ایک دوسرے کو مسلمانوں کے خلاف بلانا ۷۰۔ لوگوں کا امامت کے لیے ایک دوسرے کو آگے کرنا ۷۱۔ مومن کا سچے خواب دیکھنا ۷۲۔ جھوٹ کی کثرت ۷۳۔ لوگوں میں بیگانگی کا پھیل جانا ۷۴۔ زلزلوں کی کثرت ۷۵۔ عورتوں کی کثرت ۷۶۔ مردوں کا کم ہوجانا ۷۷۔ فحاشی کا ظہور اور اعلانیہ ارتکاب ۷۸۔ قرآن پڑھنے پر اجرت لینا ۷۹۔ لوگوں میں موٹاپے کی کثرت ۸۰۔ ایسے لوگوں کاظہور جو گواہی دیں گے، مگر ان سے گواہی طلب نہیں کی جائے گی ۸۱۔ ان لوگوں کاظہور جو منتیں مانیں گے مگر انہیں پورانہیں کریں گے ۸۲۔ طاقتور کا کمزور کو کھا جانا ۸۳۔ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کو ترک کرنا ۸۴۔ اہل روم کی کثرت اور اہل عرب کی قلت وہ علامات جو ابھي تک وقوع پذیر نہیں ہوئیں : ۸۵۔ مال کا بہہ پڑنا اور لوگوں میں اس کا کثرت سے ہونا ۸۶۔ زمین کا اپنے خزانے اگل دینا ۸۷۔ شکلیں بگڑنے کے واقعات کا پیش آنا ۸۸۔ زمین کا دھنسنا ۸۹۔ آسمانوں سے پتھر برسنا ۹۰۔ تباہ کن بارشیں (جن سے کوئی بھی مٹی کا گھر نہیں بچ سکے گا) ۹۱۔ آسمانوں سے بارشیں ہوں گی مگر زمین کچھ بھی نہیں اُگائے گی ۹۲۔ تمام عربوں کے لیے شامل فتنہ ۹۳۔ درختوں کا گفتگو کرنا ۹۴۔ پتھر کا مسلمانوں کی مدد کے لیے گفتگو کرنا ۹۵۔ مسلمانوں کا یہودیوں کو قتل کرنا ۹۶۔ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونا ۹۷۔ ایسازمانہ آنا جب انسان کو گناہ یا عاجزی کے اظہار کے لیے اختیار دیا جائے گا ۹۸۔ جزیرہ عرب میں سر سبزہ و شادابی اوردریاؤں کاپلٹ آنا ۹۹۔ احلاس (بھاگنے) کے فتنے کا ظہور ۱۰۰۔ نعمتوں کے فتنے کا ظہور ۱۰۱۔ مسلسل برقرار رہنے والا سیاہ ترین فتنہ ۱۰۲۔ ایسا زمانہ آئے گا جب ایک سجدہ دنیا و ما فیہا کے برابر ہوگا ۱۰۳۔ چاند کا پھول (بڑاہو) جانا ۱۰۴۔ ایسا زمانہ آئے جب سب لوگ شام چلے جائیں گے ۱۰۵۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین انتہائی خون ریز جنگ کا ہونا ۱۰۶۔ قسطنطنیہ کی فتح ۱۰۷۔ یہ کہ میراث تقسیم نہیں کی جائے گی ۱۰۸۔ لوگوں کو غنیمت پر کوئی خوشی نہیں ہوگی ۱۰۹۔ لوگ پھر سے پرانی سواریوں اور اسلحہ کی طرف پلٹ جائیں گے ۱۱۰۔ بیت المقدس کی ویرانی ۱۱۱۔ مدینہ کی ویرانی اور اس کا اہل مدینہ اور زائرین سے خالی ہوجانا ۱۱۲۔ مدینہ کا برے لوگوں کو نکال دینا ۱۱۳۔ پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا ۱۱۴۔ قحطانی کا ظہور لوگ جس کی پیروی کریں گے ۱۱۵۔ جہجاہ نامی آدمی کا ظہور ۱۱۶۔ درندوں اورجمادات کا گفتگو کرنا ۱۱۷۔ لاٹھی (کوڑے) کا ایک کونا بات کرے گا ۱۱۸۔ جوتے کے تسمے کا بات کرنا ۱۱۹۔ انسان کی ران اس کے گھر والوں کی متعلق خبریں دے گی ۱۲۰۔ اسلام ختم ہونے تک قیامت قائم نہیں ہوگی ۱۲۱۔ قرآن صحیفوں او ردلوں سے اٹھالیا جائے گا ۱۲۲۔ بیت اللہ پر حملہ آور لشکر ۱۲۳۔ بیت اللہ کا حج ترک کردینا ۱۲۴۔ بعض عرب قبیلوں کا بتوں کی پوجا پر لوٹ جانا ۱۲۵۔ قریشی قبیلے کا ختم ہوجانا ۱۲۶۔ ایک حبشی کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تباہی ۱۲۷۔ مومنین کی روحیں قبض کرنے کے لیے پاکیزہ ہوا کا چلنا ۱۲۸۔ مکہ مکرمہ میں بلند و بالا بلڈنگیں ۱۲۹۔ امت کے آخری لوگوں کا پہلوں پر لعنت کرنا ۱۳۰۔ سفر کے نئے سازو سامان کا عام ہونا(گاڑیاں وغیرہ) ۱۳۱۔ امام مہدی کا ظہور