باقی امتوں کا ایک دوسرے کو مسلمانوں کے خلاف بلانا

باقی امتوں کا ایک دوسرے کو مسلمانوں کے خلاف بلانا

آخری زمانے میں پیش آنے والی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمام امتیں امت ِ اسلامیہ پر ٹوٹ پڑیں گی، مگر اللہ تعالیٰ اس امت کی حفاظت فرمائیں گے۔ تاریخ سے یہ بات واضح ہے کہ امت اسلامیہ نے بڑے بڑے معرکے لڑے ہیں ، اور ان پر بہت بڑی بڑی پریشانیاں آئی ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی، اور مدد کی۔ صلیبی جنگوں میں تمام عیسائی مسلمانوں کے خلاف جمع ہوگئے تھے، مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان پر فتح دی۔ تاتاریوں نے اسلامی ریاستوں کو روند ڈالا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی چالیں ان پر ہی الٹ دیں ۔ ہمارے اس زمانے میں بھی یہودو نصاریٰ کا گٹھ جوڑ مسلمانوں کے خلاف ایسی ہی امیدوں پر قائم ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے یہ امید اس سے بڑھ کر ہے کہ مسلمان اپنے دین کی طرف رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ انہیں فتح و نصرت سے سرفراز کردیں ۔ فرمان ِ الٰہی ہے: ’’اورجو کوئی اللہ کی مدد کرے (اس کے دشمنوں سے لڑے )اللہ تعالیٰ بھی بے شک اس کی مدد کرے گا کیوں کہ اللہ زبردست ہے عزت والا (یاغالب )۔‘‘ (الحج: ۴۰) نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ’’اللہ (لوح محفوظ یا اگلی کتابوں میں ) یہ لکھ چکاہے کہ (آخر کار) میں غالب ہوں گا اور میرے پیغمبر غالب ہوں گے (تلوار سے یادلیل سے) بے شک زور اللہ زور آور ہے زبردست ۔‘‘ (المجادلہ: ۲۱) سیّدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’قریب ہے کہ تم پر دنیا کی اقوام چڑھ آئیں گی (تمہیں کھانے اور ختم کرنے کے لیے) جیسے کھانے والوں کو کھانے کے پیالے پر دعوت دی جاتی ہے۔ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ !کیا ہم اس زمانہ میں بہت کم ہوں گے؟ فرمایا : نہیں ؛بلکہ تم اس زمانہ میں بہت کثرت سے ہو گے؛ لیکن تم سیلاب کے اوپر چھائے ہوئے کوڑے کباڑے کی طرح ہوگے؛ اوراللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت و رعب نکال دے گا؛ اور اللہ تعالیٰ تمہارے قلوب میں بزدلی ڈال دے گا ۔‘‘ کسی کہنے والے نے کہا :یا رسول اللہ! وہن (بزدلی)کیا چیز ہے ؟ فرمایا :دنیا کی محبت اور موت سے بیزاری۔‘‘ (ابو داؤد) یہ حدیث نبوت کے دلائل اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ یقیناً کافرامتیں ایک دوسرے دوسرے کو ایسے بلاچکی ہیں جیسے کھانے کے پیالے پر دعوت دی جاتی ہے۔ اور اس رسوائی کا سبب مسلمانوں کی قلت ہر گز نہیں ، بلکہ وہ تو کثرت میں ہیں ؛ لیکن وہ ایسے ہی ہیں جیسے سیلاب کے اوپر جھاگ، ان کا کوئی وزن نہیں ۔ امت اسلامیہ کا آج کل یہی حال ہے۔ ان کی تعداد سوا ارب کے قریب ہے۔ مگر یہ کثرت صرف تعداد میں ہے، کیفیت کچھ بھی نہیں ۔ اس تعداد کے باوجود دشمن کے دلوں میں ان کی کوئی ہیبت نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے۔ ان سے جنگیں لڑتے ہیں ، اور جب اورجہاں چاہتے ہیں ان پر چڑھ دوڑتے ہیں ۔ یہ اسی وقت ہوا ہے جب ان کے دلوں میں بزدلی ڈال دی گئی ہے، یعنی زندگی سے محبت اور موت سے نفرت۔