جھوٹ کی کثرت
جھوٹ کی کثرت
جھوٹ ایک انتہائی بری آفت ہے۔ کوئی انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ؛ اور وہ جھوٹ کی تلاش میں ہی رہتا ہے یہاں تک اللہ کے ہاں اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے : ’’مومن کے اندر تمام خصلتیں ہو سکتی ہیں سوائے جھوٹ اور خیانت کے ۔‘‘ (مسند احمد)
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اپنے اہل خانہ میں سے کسی کے بارے میں خبر ہوتی کہ اس نے کوئی (معمولی سا) جھوٹ بولا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مسلسل منہ موڑے رہتے یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگوں میں جھوٹ عام ہوجائے گا، کوئی انسان جھوٹ بولنے میں اور لوگوں میں جھوٹی خبریں پھیلانے میں ذرا بھر بھی احتیاط سے کام نہیں لے گا۔ یہ جھوٹ کی برائی کے ساتھ اور اس کے برے اثرات کے باوجود لوگوں میں کثرت سے (جھوٹ پھیل جانے کی وجہ سے ) ہوگا۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’آخری زمانہ میں جھوٹے دجال لوگ ہوں گے؛ تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو نہ تم نے نہ تمہارے آباء اجداد نے سنا ہوگا ؛ تم ایسے لوگوں سے بچے رہنا ؛ مبادا وہ تمہیں گمراہ اور فتنہ میں مبتلا نہ کر دیں ۔‘‘ (مسلم)
اسی طرح ایک اور حدیث سیّدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’بے شک قیامت سے پہلے جھوٹے لوگ ظاہر ہوں گے، ان سے بچ کر رہنا ۔‘‘ (مسلم)
اس زمانے میں کتنی ہی جھوٹی باتیں ، جھوٹی خبریں اور عجیب و غریب قسم کے بیان کیے جاتے ہیں ، یہ صرف تقویٰ کے کم ہوجانے کی وجہ سے ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک چیز کی تصدیق کرنے اور اس کی خبر لوگوں میں پھیلانے سے منع کیا تھا۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ خبر کی تصدیق کرلی جائے، تاکہ ہم بھی ان ہی لوگوں میں سے ایک نہ ہوجائیں جنہیں جھوٹا کہا گیا ہے، اس طرح ہم لغزش او رنافرمانی کا شکار ہوجائیں ۔
آج کل جو ہوائی خبریں پھیلائی جارہی ہیں ؛ خبروں کی تصدیق نہیں کی جاتی، اور نہ ہی واقعات سے متعلق اس خبر میں کمی بیشی کی تحقیق کی جاتی ہے، یہ صرف اور صرف جھوٹ کی ہی ایک قسم ہے۔ ( کہ جس نے جو سنا وہی اڑا دیا، بات کے سچ یا جھوٹ ہونے کے متعلق کوئی تحقیق نہ کی ۔)