چاند کا ٹکڑے ہونا
چاند کا ٹکڑے ہونا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں یہ پہلے سے چلا آتا ہوا جادو ہے۔‘‘ (القمر: ۱۔۲)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا، جیساکہ صحیح اسناد کے ساتھ متواتر احادیث میں وارد ہوا ہے۔ علمائے کرام کے مابین یہ امر متفق علیہ ہے کہ چاند کا دو ٹکڑے ہونے والا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ایک تھا۔ ‘‘(تفسیر ابن کثیر :۷/ ۴۷۲)
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ، انہوں نے بیان کیا کہ:’’ اہل مکہ نے آپؐ سے سوال کیا کہ ان لوگوں کو کوئی نشانی دکھائیں تو آپ نے ان لوگوں کو چاند کا دو ٹکڑے ہونا دکھلایا۔‘‘ (متفق علیہ)
سیّدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ :’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوگیا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا ٹکڑا پہاڑ سے ہٹ کر تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سب سے مخاطب ہو کر) فرمایا : ’’گواہ رہو۔‘‘ (بخاری ومسلم)
سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :’’ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوئے، اور کہنے لگے : اگر آپ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو ہمارے سامنے چاند کو دوٹکڑے کردیں ، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر ہو، او ردوسرا قعیقعان کی پہاڑی پر ہو۔ یہ چودھویں کی رات تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ان لوگوں کی طلب پوری کی جائے۔ توچاند دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا جبل ابی قبیس پر تھا اور دوسرا قعیقعان پر(اور اس موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’اب گواہ رہنا۔ ‘‘ اسے ابو نعیم نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں روایت کیا۔