قرآن پڑھنے پر اجرت لینا
قرآن پڑھنے پر اجرت لینا
قرآن مجید پڑھنا عبادت اور اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اصل تو یہ ہے کہ کوئی بھی عبادت دنیا کی طلب کے لیے نہیں ۔ بلکہ آخرت اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرب قیامت ایک ایسی قوم آئے گی جو قرآن پڑھے گی، اور وہ لوگ غمی اور خوشی کی مجلسوں میں اپنی آوازوں کو خوبصورت بنائیں گے تاکہ وہ اس پر کچھ مال حاصل کرسکیں ۔ سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا گزر ایک آدمی پر ہوا، جو کچھ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سنا رہا تھا۔ جب قراء ت سے فراغ ہوا تو ان سے مال مانگنے لگا۔ تو سیّدنا عمران نے کہا : إنا للّٰہ و إ نا إلیہ راجعون۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؛ آپ فرماتے تھے : ’’جو کوئی قرآن پڑھے، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے سوال کرے۔ بے شک ایسی قوم آئے گی جو قرآن پڑھیں گے اور لوگوں سے اس پر اجرت طلب کریں گے۔‘‘ (مسند احمد، شعیب ارناؤوط نے حسن کہا ہے۔)
سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن پڑھ رہے تھے۔ ہم میں عربی بھی تھے اور عجمی بھی۔ تو آپ نے فرمایا: ’’پڑھو؛ سب اچھا ہے۔ اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے وہ اسے ایسے قائم کریں گے جیسے پیالے کھڑے کیے جاتے ہیں ۔اور وہ اس(پرثواب ) کے بارے میں جلدی کریں گے، کوئی انتظار نہیں کریں گے۔‘‘ (ابو داؤد)
نوٹ :… اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ ریاکاری اور شہرت کمانے میں مبالغہ سے کام لیں گے گویا کہ کوئی آدمی کھانے کے برتن کی صفات بیان کررہا ہے۔اور اپنی قراء ت پر لوگوں سے ثناء و توصیف اورمال کے طلب گار ہوں گے، وہ اس قراء ت کے ثواب کو کل آخرت کے دن تک کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔