شکلیں بگڑنے کے واقعات کا پیش آنا
شکلیں بگڑنے کے واقعات کا پیش آنا
۸۷۔شکلیں بگڑنے کے واقعات کا پیش آنا
۸۸۔زمین میں کے اندردھنسنا
۸۹۔آسمانوں سے پتھر برسنا
یہ بھی ان عقوبات میں سے ہیں جو آخری زمانے کے بعض لوگوں کے ساتھ پیش آئیں گی۔یہ قیامت کی نشانیاں ہیں ۔ سیّدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس امت کے آخر میں زمین میں دھنسا دینا چہرے کا مسخ ہونا اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہوگی۔ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا :یا رسول اللہ !ایسا کب ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب گانے والیاں اور گانے بجانے کے آلات رواج پکڑ لیں ۔‘‘ (ترمذی)
جب بھی لوگ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر سے خاموش ہوجائیں گے، توبرائیاں ظاہر اور عام ہوں گی، اور ان کی سزاؤں کا وقت قریب تر ہوتا جائے گا۔، سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اس امت کے آخر میں زمین میں دھنسا دینا چہرے کا مسخ ہونا اور آسمان سے پتھروں کی بارش پھر فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں جب کہ فسق و فجور پذیر ہوگا ۔‘‘ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ: زمین مین دھنسنا ؛ چہروں کا بگڑنا اورآسمانوں سے پتھروں کا برسنا اہل بدعت کی مختلف اقسام میں ہوگا جو کہ عقیدہ میں مخالف ہوں گے جیسے زندیق، جو کہ سب سے بڑے منافق اور ملحد ہیں ، اور قدریہ، جو کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور بندوں کے فعل کو جھٹلاتے ہیں ۔ سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں :
’’ہم عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہا : اہل شام کا فلاں آدمی آپ کو سلام کہہ رہا تھا۔ تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ اس نے کوئی بدعت ایجاد کرلی ہے۔ اگر ایسے ہو تو میری طرف سے اسے سلام نہ پہنچانا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرمارہے تھے: میری امت میں چہرے کا مسخ ہونا اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہونے کے واقعات ہوں گے، اور یہ زندیقیت اور قدریہ میں ہوگا۔‘‘ (احمد)
دوسری روایت میں ہے کہ زمین میں دھنسنے کا واقعہ آخری زمانے میں اس لشکر کے ساتھ پیش آئے گا جو بیت اللہپر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پہلے سے لے کر آخری آدمی تک کو زمین میں دھنسادیں گے۔
قعقاع بن ابی حدرد کی بیوی بقیرہ سے روایت ہے ؛ وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تم سنو کہ ایک لشکر ( بیت اللہ کے قریب ) زمین میں دھنس گیا ہے تو جان لو کہ اب قیامت بالکل قریب ہے ۔‘‘ (مسند احمد)
یعنی ان لوگوں کو مدینہ کے قریب زمین میں دھنسا دیا جائے گا، اس لشکر کے بارے میں تفصیل نشانی نمبر ۱۲۲ میں آرہی ہے۔
آخر میں (یہ کہوں گاکہ) اس سے پہلے یہ سزائیں گنہگاروں اوران گناہوں پر خاموش رہنے والوں کے ساتھ پیش آچکی ہیں ۔مسلمان کوان سے خبر دار رہنا چاہیے۔