بیت المقدس کی ویرانی

بیت المقدس کی ویرانی

۱۱۰۔بیت المقدس کی ویرانی ۱۱۱۔مدینہ کی ویرانی اور اس کا اہل مدینہ اور زائرین سے خالی ہوجانا سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی تخریب کا سبب ہے، اور جنگ وجدال قسطنطنیہ کی فتح کا سبب ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کا سبب ہے۔‘‘ پھر آپ نے اپنی حدیث بیان کرنے والے کی ران یا کندھے پر مارا اور فرمایا کہ’’ بے شک یہ ایسا ہونا اسی طرح سچ اور حق ہے جیسا کہ تمہارا یہاں ہونا یا یہاں بیٹھا ہونا حق ہے۔‘‘ (ابو داؤد ) مدینہ منورہ کی تخریب کا معنی یہ ہے کہ یہ شہر اس کے باشندوں اور زیارت کرنے والوں سے خالی ہوجائے گا۔ سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ بن جبل کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ایک عظیم فتنہ اور اس کے بعد فتح قسطنطنیہ اور دجال کا نکلنا سات ماہ کے اندر ہوگا۔‘‘ (ابو داؤد ) اس حدیث میں جن حوادثات کا بیان ہواہے، یہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔ پس بیت المقدس کی آبادی، یعنی یہاں پر آبادی کا کثرت سے پھیل جانا اور کثرت کے ساتھ عمارتیں تعمیر ہونے کی وجہ سے شہر کا حدود اربعہ بڑھ جاناا ور لوگوں کایہاں پر رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دینایہ بیت المقدس کی آبادی ہے۔ اس کے بعد مدینہ طیبہ کی تخریب ہوگی۔ لوگ یہاں پر رہائش اختیار کرنے سے بے رغبتی برتیں گے۔اوریہاں پر مزید عمارتیں بننے کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور آج کل حقیقت میں لوگ مدینہ منورہ میں کم ہوتے جارہے ہیں بڑھ نہیں رہے۔اور بہت سارے لوگ مدینہ چھوڑ کر دوسرے شہروں میں منتقل ہورہے ہیں ۔ حدیث شریف میں آتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لوگ مدینہ کو اچھے حال میں چھوڑو گے یہاں تک کہ وہاں پرکتے اور بھیڑیے داخل ہوں گے، اور مسجد کے کسی ستون پر پیشاب کردیں گے۔یا فرمایا کہ منبر پر پیشاب کریں گے۔ تو صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ایسے زمانہ میں پھل کن کے لیے ہوگا؟ فرمایا: پھرنے والے پرندوں اور درندوں کے لیے۔‘‘( موطا امام مالک) بیت المقدس کی آباد کاری سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ آخری زمانے میں خلافت اس علاقے میں قائم ہوگی۔جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن حوالہ کی روایت میں ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پاپیادہ ایک غزوہ کے لیے روانہ فرمایا ؛تاکہ ہم مال غنیمت حاصل کریں ۔ آخر کار ہم اس حال میں واپس ہوئے کہ مال غنیمت میں سے ہمیں کچھ بھی ہاتھ نہ لگا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں سے مشقت اور تھکن کے آثار محسوس فرما لیے ؛پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ یہ فرما رہے تھے: اے اللہ! تو ان کو اس طرح میرے حوالہ مت کر کہ ان کی خبر گیری سے عاجز رہ جاؤں ۔ اور خود ان کو ان کے حوالہ بھی مت کر کہ وہ اس سے عاجز رہ جائیں ۔ اور دوسرے لوگوں کے بھی حوالہ مت کر کہ وہ اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگیں ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر دست مبارک پھیرا اور فرمایا: ’’ اے ابن حوالہ! جب تو خلافت کو ارض مقدس (شام)میں اترتا دیکھے گا؛ تو سمجھ لے کہ زلزلے مصائب اور حوادث قریب آ گئے اور اس دن قیامت لوگوں سے اس قدر قریب ہوگی جس قدر تیرے سر سے میرا ہاتھ ہے ۔‘‘ (ابو داؤد) حدیث میں وارد لفظ : مدینہ کی تخریب، بڑی جنگ کاظہور ،اس سے مراد وہ آخری معرکہ ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین ہوگا۔ جس میں بہت زیادہ قتل ہوگا، اسے خون ریز جنگ اس لیے نام دیاگیا ہے کہ اس جنگ میں بہت سارے لوگ قتل ہوں گے، اس جنگ کے بعد قسطنطنیہ فتح ہوگا۔ اسے آج کل ’’استنبول‘‘ کہا جاتا ہے جو کہ ترکی کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔