محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

قطع موالات

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے سے قریش کو بڑا صدمہ پہنچا‘ ادھر مسلمان علانیہ خانہ کعبہ میں نمازیں پڑھنے لگے‘۳؎ بہت سے مسلمان نجاشی کے ملک میں جا چکے تھے جن پر قریش کا کوئی زور نہیں چلتا تھا‘ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مکہ کے مسلمانوں پر بھی وہ بلا خطرہ ہاتھ نہیں ڈال سکتے تھے۔۱؎ ان حالات کو دیکھ کر نبوت کے ساتویں سال کی ابتداء یعنی ماہ محرم میں قریش نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی‘ مسلمانوں کی روز افزوں جماعت کے خطرات سے قوم کو آگاہ کیا اور اس اندیشہ و خطرہ سے محفوظ رہنے کی تدبیر پر غور کیا گیا۔بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ نبی ہاشم اور نبی عبدالمطلب اگرچہ سب کے سب مسلمان نہیں ہوئے لیکن وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حمایت اور رعایت سے باز نہیں آتے لہذا اول ابوطالب سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم (اپنے بھتیجے) کو ہمارے حوالے کر دیں‘ اگر وہ انکار کریں تو بنو ہاشم اور نبی عبدالمطلب سے شادی بیاہ میل ملاقات‘ سلام پیام سب ترک کر دیا جائے‘ کوئی چیز ان کے ہاتھ فروخت نہ کی جائے اور کھانے پینے کی کوئی چیز ان کے پاس نہ پہنچنے دی جائے‘ اور اس سخت اذیت رساں مقاطعے کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو ہمارے سپرد نہ کریں۔ چنانچہ اس مقاطعہ کے متعلق ایک عہد نامہ لکھا گیا‘ ۱؎ تمام رئوساء قریش نے اس پر قسمیں کھائیں اور عہد نامہ پر دستخط کئے‘ یہ دستخط شدہ عہد نامہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا گیا اور مقاطعہ شروع ہو گیا‘ ابوطالب تمام بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کو لے کر مکہ کے قریب ایک پہاڑی درے میں جا کر محصور ہو گئے ‘ جس قدر مسلمان تھے وہ بھی ان کے ساتھ اسی درے میں جو شعب ابی طالب کے نام سے مشہور ہے چلے گئے‘ بنو ہاشم سے صرف ایک شخص ابولہب اس قیدونظر بندی سے آزاد رہا‘ وہ کفار قریش کے ساتھ تھا‘ غلہ وغیرہ جو کچھ بنو ہاشم اپنے ساتھ لے گئے تھے وہ جلد ختم ہو گیا‘ اور ان لوگوں کو کھانے پینے کی بڑی تکلیف ہونے لگی‘ درے میں جانے کا صرف ایک تنگ راستہ تھا کوئی شخص باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ تین برس تک بنو ہاشم اور مکہ کے مسلمانوں نے بڑی بڑی تکلیفیں اور اذیتیں شعب ابوطالب میں برداشت کیں جن کے تصور سے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں‘ صرف ایام حج میں یہ محصور لوگ باہر نکلتے تھے اور عرب کے دستور کے موافق ان ایام میں جو امن عام ہوتا تھا اس سے فائدہ اٹھاتے اور اپنے کھانے پینے کا سامان خرید کر ذخیرہ کر لیتے تھے‘ انہیں ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی باہر نکلتے اور باہر سے آئے ہوئے لوگوں میں تبلیغ اسلام کرتے تھے‘ لیکن قریش آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ساتھ لگے رہتے اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم جاتے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں سننے سے منع کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیوانہ اور جادو گر بتا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف کسی کو متوجہ نہ ہونے دیتے تھے۔ شعب ابوطالب کی سہ سالہ سختیوں کا تصور کرنے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ قبیلوں کی حمیت اور خاندان و نسل کا پاس و لحاظ بھی ایک بڑی چیز ہے اور اسی نے بنو ہاشم کے ان لوگوں کو جو مسلمان نہیں ہوئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ساتھ دینے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدد کرنے پر مجبور کر دیا تھا‘ دوسری طرف شعب ابوطالب کی قیدو نظر بندی نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کا زیادہ مطالعہ کرنے‘ زیادہ متاثر ہونے اور اسلام سے زیادہ واقف ہونے کا موقع دیا اور اس نسلی امتیاز نے ان کو (بنی ہاشم) کو بجا طور پر مستحق تکریم بنا دیا۔ تین سال کی اس ظالمانہ قید اور بنی ہاشم کے مصائب نے بالآخر قریش کے بعض افراد کو متاثر کیا۔ بنی ہاشم کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا بھوک کے مارے تڑپنا اور فاقہ زدہ والدین کے سامنے ان کی اولاد کا بلکنا ایسی چیزیں تھیں کہ قریش مکہ ان کا صحیح اندازہ کر سکتے تھے‘ زہیر بن ابی امیہ بن مغیرہ نے بنی ہاشم کی مصیبت کو اس لیے سب سے پہلے محسوس کیا کہ ابو طالب اس کے ماموں تھے‘ زہیر نے اول مطعم بن عدی بن نوفل بن عبدمناف کو رشتہ داری کی طرف توجہ دلا کر عہد نامے کے توڑنے پر مجبور کیا‘ پھر ابوالبختری بن ہشام اور زمعہ بن الاسود کو اپنا ہم خیال بنا لیا‘ غرض مکہ میں کئی شخص جو بنو ہاشم سے قرابت داری رکھتے تھے بنو ہاشم کو مظلوم سمجھ کر اس ظالمانہ عہد نامہ کی تنسیخ کے متعلق چرچا کرنے لگے۔ انہیں ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ابوطالب سے کہا کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی ہے کہ اس عہد نامہ کی تمام تحریروں کو کیڑوں نے کھا لیا ہے اس میں جہاں جہاں اللہ کا نام ہے وہ بدستور لکھا ہوا ہے‘ لفظ اللہ کے سوا باقی تمام حروف غائب ہو چکے ہیں‘ یہ سن کر ابوطالب اپنی گھاٹی سے باہر نکلے اور انہوں نے قریش سے کہا کہ مجھ کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی خبر دی ہے‘ تم عہد نامہ کو دیکھو اگر یہ خبر صحیح ہے اور عہد نامہ کی تحریر معدوم ہو چکی ہے تو مقاطعہ ختم ہو جانا چاہیے‘ چنانچہ اسی وقت قریش خانہ کعبہ میں دوڑے ہوئے آئے‘ دیکھا تو دیمک نے تمام حروف چاٹ لیے تھے‘ جہاں جہاں لفظ اللہ لکھا ہوا تھا وہ البتہ بدستور موجود تھا‘ یہ دیکھ کر سب حیران اور ششدر رہ گئے اور اسی وقت مقاطعے کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا۔ بنو ہاشم اور تمام مسلمان شعب ابوطالب سے تین سال کے بعد نکلے‘ اور مکہ میں آ کر اپنے گھروں میں رہنے سہنے لگے‘ شعب ابوطالب میں مسلمانوں کو بھوک سے بیتاب ہو کر اکثر درختوں کے پتے کھانے پڑتے تھے‘ بعض بعض شخصوں کی حالت یہاں تک پہنچی کہ اگر کہیں سوکھا ہوا چمڑا مل گیا تو اسی کو صاف اور نرم کر کے آگ پر رکھا اور بھون کر چبایا‘ ۱؎ حکیم بن حزام کبھی کبھی اپنے غلام کے ہاتھ اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ کے لیے کچھ کھانا چھپا کر بھیجوایا کرتے تھے‘ اس کا حال جب ایک مرتبہ ابوجہل کو معلوم ہوا تو اس نے غلام سے غلہ چھین لینا چاہا اور زیادہ سختی سے نگرانی شروع کر دی۔۲؎