عبدالرحمن ثالث

خلیفہ عبدالرحمن کی عالمگیر عظمت

خلیفہ عبدالرحمن ناصر کی عظمت و شہرت نے بہت جلد دنیا کا محاصرہ کر لیا۔ ۳۳۶ھ میں قسطنطین بن الیون بادشاہ قسطنطنیہ نے اپنے سفیر نہایت شاندار اور قیمتی تحائف کے ساتھ خلیفہ ناصر کی خدمت میں قرطبہ کی طرف روانہ کئے قسطنطین نے ان شاندار تحائف کو بھیج کر ایک طرف اپنی شان و عظمت اور مال و دولت کی نمائش کرنی چاہی تھی اور دوسری طرف وہ خلیفہ ناصر کی دوستی سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں تھا۔ خلیفہ ناصر نے اس سفارت کے قریب پہنچنے کا حال سن کر شہر قرطبہ کی آراستگی کا حکم دیا۔ فوجیں زرق برق وردیوں میں دورویہ استادہ ہوئیں۔ دروازوں اور دیواروں پر زر دوزی کے پردے ریشمیں نمگیرے خوبصورت قناتیں اور انواع و اقسام کی زینت اور صنعت کاری دیکھ کر قسطنطنیہ کے ایلچی حیران و ششدر رہ گئے اور اپنے لائے ہوئے ہدیوں کو حقیر دیکھنے لگے۔ سنگ مرمر کے خوبصورت ستونوں اور پچی کاری کے سنگین و رنگین فرشوں پر سے گذرتے ہوئے یہ ایلچی دربار کے ایوان علی شان میں پہنچے جہاں خلیفہ ناصر تخت خلافت پر جلوہ افگن اور امرا و وزراء و علماء و شعراء اور سرداران فوج اپنے اپنے اور مرتبے پر ایستادہ تھے ان سفیروں پر یہ پر ہیبت و عظیم الشان نظارہ دیکھ کر عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ یہر حال وہ سنبھلے اور نہایت ادب و تپاک سے کورنش بجا لائے اور تخت کے قریب جا کر اپنے بادشاہ کا خط پیش کیا۔ ایک آسمانی رنگ کا غلاف تھا۔ جس پر سونے کے حروف سے کچھ لکھا ہوا تھا۔ اس غلاف کے اندر ایک صندوقچہ تھا جو نہایت خوب صورت اور مرصع کار تھا۔ اس صندوقچہ پر ایک سونے کی مہر لگی ہوئی تھی۔ جس کا وزن چار مثقال تھا۔ اس مہر کے ایک طرف مسیح کی اور دوسری طرف شاہ قسطنطین کی تصویر کندہ تھی۔ اس صندوقچہ کے اندر ایک اور صندوقچہ بلور کا تھا۔ جس پر طلائی و نقرئی مینا کا ربیل بوٹے منقوش تھے۔ اس کے اندر ایک نہایت خوب صورت ریشمی لفافہ تھا۔ جس کے اندر نہایت خوب صورت آسمانی رنگ کی جھلی پر طلائی حروف میں لکھا ہوا خط رکھا تھا۔ عنوان خط میں خلیفہ عبدالرحمن ناصرلدین اللہ کو نہایت شاندار القاب کے ساتھ مخاطب کیا گیا تھا۔ خلیفہ نے خط پڑھوا کر سنا۔ اس کے بعد محمد بن عبدالبر کی طرف اشارہ کیا کہ وہ حسب حال تقریر کریں۔ ان فقیہ صاحب کو برجستہ تقریر کرنے میں خاص ملکہ حاصل تھا مگر اس وقت اس دربار کی عظمت اور مجلس کے رعب کا یہ عالم تھا کہ فقیہ مذکور کھڑے ہوئے اور چند الفاظ ادا کرنے کے بعد بے ہوش ہو کر گر پڑے ان کے بعد ابو علی اسمٰعیل بن قاسم کھڑے ہوئے اور حمد و نعت کے بعد کوئی لفظ زبان سے نہ نکال سکے یہ معلوم ہوتا تھا کہ فکر و اندیشہ میں مستغرق ہیں یہ رنگ دیکھ کر منذر بن سعید جو معمولی درجہ کے علماء میں شامل تھے۔ کھڑے ہوئے اور بلاتامل تقریر شروع کر دی یہ تقریر اس قدر لطیف و پرجوش اور حسب موقعہ تھی کہ بے اختیار تحسین و آفرین کی صدائیں بلند ہوئیں۔ خلیفہ نے اس حسن خدمت کے صلہ میں منذر بن سعید کو قاضی القضاۃ کے عہدے پر مامور کر دیا۔ معمولی مراسم کے بعد دربار برخاست ہوا سفیروں کو نہایت عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرایا گیا۔ اور بڑی شان دار مہمانی کی گئی۔ چند روز کے بعد قسطنطنیہ کی سفارت کو واپسی کی اجازت دی گئی۔ اور اس کے ساتھ ہی خلیفہ نے ہشام بن ہذیل کو اپنی طرف سے بطور سفیر شاہ قسطنطین کے پاس روانہ کیا اور اس کو ہدایت کر دی کہ قسطنطین سے ایک دوستانہ معاہدہ لکھوا لائے۔ چنانچہ ہشام بن ہذیل کامیابی کے ساتھ ۳۳۸ھ میں شاہ قسطنطنیہ سے ایک دوستانہ عہد نامہ لکھوا کر واپس قرطبہ میں آیا۔ اس کے بعد بادشاہ اٹلی‘ بادشاہ جرمن‘ بادشاہ فرانس‘ بادشاہ صقالیہ کے سفیر یکے بعد دیگرے دربار قرطبہ میں حاضر ہوئے۔ اور اپنے اپنے بادشاہوں کی طرف سے اظہار عقیدت بجا لائے۔ اور محبت و ہمدردی کے تعلقات پیدا کرنے کی درخواست کی۔ اور ہر ایک بادشاہ نے خلیفہ عبدالرحمن ناصر کی چشم عنایت اپنی طرف مبذول کرنے کے لیے منت و سماجت اور خوشامد میں کوتاہی نہیں کی۔ یورپ کا ہر ایک بادشاہ یہ چاہتا تھا کہ خلیفہ عبدالرحمن میرا حامی و مددگار بن جائے تاکہ میں دشمنوں کے حملوں سے محفوظ ہو جائوں۔ خلیفہ عبدالرحمن نے اپنے بیٹے حکم کو اپنا ولی بنایا تھا۔ دوسرا بیٹا عبداللہ نمار روزہ کی طرف زیادہ مائل اور الزاہد کے نام سے مشہور تھا۔ عبداللہ کو قرطبہ کے ایک فقیہ نے جن کا نام عبدالباری تھا بہکایا اور حکومت کی طمع دلا کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ خلیفہ عبدالرحمن اور حکم کو قتل کرنے کی ایک زبردست کوشش کی جائے۔ چنانچہ فقیہ عبدالباری اور عبداللہ نے مل کر خلیفہ اور ولی عہد کے قتل کرنے کی تیاری کی اس سازش میں اور لوگوں کو بھی شریک کیا گیا۔ ۱۰ ذوالحجہ ۳۳۹ھ یعنی بروز عیداضحیٰ اس سازش کا انکشاف ہو گیا اور خلیفہ مع ولی عہد قتل ہوتے ہوتے بچ گئے۔ خلیفہ نے اپنے بیٹے عبداللہ اور فقیہ عبدالباری دونوں گرفتار کر کے جیل خانے بھجوا دیا۔ پھر اسی روز اپنے بیٹے عبداللہ کو جیل خانے سے نکال کر قتل کرایا فقیہ صاحب نے جب عبداللہ کے قتل ہونے کا حال سنا تو خود ہی جیل خانے میں خود کشی کر کے ہلاک ہو گئے۔ ۳۴۲ھ میں رذمیر بادشاہ جلیقیہ کے فوت ہونے پر اس کا بیٹا اردونی چہارم تخت نشین ہوا اور خلیفہ عبدالرحمن ناصر کی خدمت میں سفیر بھیج کر اپنی حکومت اور باپ کی جانشینی کی اجازت چاہی۔ خلیفہ نے اس کی تخت نشینی کو منظور کر کے اجازت نامہ بھیج دیا۔ ۳۴۵ھ میں فرڈی نند سردار قسطلہ نے اردونی چہارم کو اپنا سفارشی بنا کر خلیفہ کی خدمت میں اپنی مستقل ریاست و حکومت کے تسلیم کئے جانے کی درخواست بھیجی۔ خلیفہ نے فردی نند کی اس دوخواست کو منظور کر لیا۔ اور اس کو ریاست قسطلہ کا مستقل حاکم و فرمانروا بنا دیا۔ فردی نند اب تک ریاست جلیقیہ یعنی زدمیر کا ماتخت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن چونکہ اردونی چہارم کو تحت نشین کرانے میں فردی نند نے خاص طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ اس لیے اردونی چہارم نے سفارش کر کے اس کو بھی مستقل فرمانروا اور خود مختار رئیس بنوا دیا۔ اس سے قبل یہ صورت پیش آ چکی تھی کہ شانجہ جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے اپنی آبائی ریاست لیون پر قابض ہو چکا تھا اور کئی برس سے ریاست لیون ریاست جلیقیہ سے جدا شانجہ کے تصرف میں تھی۔ ریاست نوار میں اس کی نانی طوطہ حکمران تھی شانجہ مٹاپے کے مرض میں مبتلا ہو کر اس قدر موٹا ہو گیا تھا کہ گھوڑے پر چڑھنا تو بڑی بات ہے پیدل بھی دو قدم نہیں چل سکتا تھا۔ ۴۴۶ھ میں فردی نند اور اردونی چہارم نے مل کر شانجہ ریاست لیون سے بے دخل کر دیا۔ شانجہ اپنی نانی طوطہ کے پاس ریاست نوار میں چلا گیا ریاست نوار میں شانجہ کا ایک ماموں بادشاہ تھا مگر عنان حکومت ان کی نانی ہی کے ہاتھ میں تھی۔ جو قابلیت و تجربہ کاری کی وجہ سے اپنے بیٹے شاہ نوار کی سرپرست و اتالیق بھی تھی ملکہ طوطہ نے خلیفہ کی خدمت میں بہت سے تحفے اور ہدئیے بھیج کر درخواست کی کہ خلیفہ شانجہ کا ملک اردونی سے واپس دلا دے اور ایک طبیب قرطبہ سے بھیج دے جو شانجہ کے مرض کا علاج کرے۔ خلیفہ نے ایک شاہی طبیب کو نوار کی فوراً روانہ کر دیا۔ اور ملک کے واپس دلانے کا مسئلہ غور و تامل کے لیے دوسرے وقت پر ٹال دیا۔ طبیب کے علاج سے شانجہ کو آرام ہو گیا اور اس کی پہلی چستی و چالا کی پھر واپس آ گئی۔