محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

سفر طائف

غرض قریش کی ضد دم بدم ترقی کرتی گئی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے شعب ابوطالب ہی کے زمانے سے قریش کے سوا باہر کے لوگوں میں جب کہ وہ حج کے لئے مکہ آتے تھے تبلیغ کا کام شروع کر دیا تھا‘ جس کا کوئی معتدبہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا‘ اب مکہ والوں کو حد سے زیادہ سخت اور اسلام سے متنفر دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارادہ کیا تھا کہ طائف والوں کو دعوت اسلام دیں۔ طائف مکہ سے تین منزل یعنی ساٹھ میل کے فاصلہ ۱؎ پر مکہ ہی کے برابر بڑا شہر تھا‘ وہاں ثقیف آباد تھے جو لات کی پرستش کرتے تھے‘ وہاں لات کا مندر تھا اور سارا شہر اسی مندر کا پجاری تھا ۱۰ نبوی شوال کے مہینے میں یعنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کی وفات کے ایک مہینہ بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم زید بن حارثہ کو ہمراہ لے کر پیدل طائف میں پہنچے‘ وہاں پہنچنے سے پہلے راستہ میں اول آپ صلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ بنی بکر میں تشریف لے گئے‘ جب ان کو بھی مکہ والوں کا ساتھی اور ہم خیال پایا تو قوم قحطان کے پاس گئے ان کو بھی سنگ دلی میں قریش کے ہمسر پایا تو طائف میں پہنچے۔ طائف میں داخل ہو کر اول آپ صلی اللہ علیہ و سلم وہاں کے رئوساء سے ملے‘ طائف کے سرداروں میں عبدیا لیل بن عمرو بن عمیر اور اس کے دونوں بھائی مسعود و حبیب سب سے زیادہ با اثر اور بنی ثقیف کے رئیس سمجھے جاتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم تینوں سے ملے اور اسلام کی طرف دعوت دی‘ یہ بڑے مغرور و متکبر تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ اپنا رسول بناتا تو تو یوں ہی پیدل جوتیاں چٹخاتا پھرتا؟ دوسرے نے کہا کیا اللہ تعالیٰ کو کوئی اورآدمی نہ ملا جو تجھ کو رسول بنایا۔ لولانزلھذالقرانعلیرجلمنالقریتینعظیمتیسرا بولا میں تجھ سے کلام کرنا نہیں چاہتا‘ کیونکہ اگر تو اپنے قول کے موافق اللہ تعالیٰ کا رسول ہے تو تیرے کلام کا رد کرنا خطرناک بات ہے اور اگر تو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے تو مناسب نہیں کہ ایسے شخص سے کلام کیا جائے۔