عبدالرحمن ثالث
اراکین دولت کے مشورے
جب خلیفہ حکم ثانی کا انتقال ہوا ہے۔ تو فائق وجو ذر کے سوا اور کوئی اس وقت موجود نہ تھا۔ ان دونوں نے خلیفہ کے انتقال کے بعد مشورہ کیا کہ شہزادہ ہشام کی تخت نشینی حکومت اسلامیہ کے لیے خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ خلیفہ حکم کے بھائی مغیرہ کو تخت نشین کیا جائے کیونکہ وہ بار خلافت کے تحمل کی قوت و قابلیت رکھتا ہے۔ جو ذر کی رائے یہ تھی کہ وزیر اعظم جعفر مصحفی کو سب سے پہلے قتل کر دیا جائے۔ تاکہ مغیرہ کی تخت نشینی میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ مگر فائق نے کہا کہ مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم وزیر مصحفی کے سامنے اپنا خیال بیان کریں اور اس کو اپنا ہم خیال بنائیں۔ بہت زیادہ ممکن ہے کہ جعفر ہمارا ہم خیال ہو جائے اگر وہ ہم خیال نہ ہوا تو پھر اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ چنانچہ اسی تجویز کے موافق وزیر جعفر کو طلب کیا گیا۔ جب وزیر آ گیا تو اس کو خلیفہ کے فوت ہونے کی اطلاع دے کر ان دونوں نے اپنی رائے پیش کی وزیر فوراً موقعہ کی نزاکت کو تاڑ گیا اور اس نے کہا کہ میں آپ دونوں کی رائے کے موافق ہی عمل کروں گا۔ مگر دوسرے اراکین سلطنت کو بھی اس مشورہ میں شریک کر لینا ضروری ہے۔ اس طرح ان دونوں کو دھوکا دے کر وہاں سے نکل آیا اور اپنے مکان پر آتے ہی اس نے ارکان و اعیان سلطنت کو طلب کیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو خلیفہ کی وفات کا حال سنا کر فائق وجو ذر کی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ اسی وقت مغیرہ بر ادر حکم کو قتل کر دیا جائے۔ تاکہ ہر ایک فتنہ کا سدباب ہو جائے۔ اس کو سن کر سب نے پسند تو کیا مگر اس بے گناہ کے قتل کرنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی۔ آخر محمد بن ابی عامر اٹھا اور اس نے کہا کہ میں اس کام کو انجام دیتا ہوں۔ جب محمد بن ابی عامر مغیرہ کے مکان پر پہنچا تو وہ سو رہا تھا۔ اس کو ابھی تک اپنے بھائی کے فوت ہونے کا حال معلوم نہ ہوا تھا۔ بیدار ہو کر جب اس نے محمد بن ابی عامر سے اس حادثہ کا حال سنا تو بہت غمگین ہوا اور اپنے بھتیجے ہشام کی اطاعت کا اقرار اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔ محمد بن ابی عامر نے یہ رنگ دیکھ کر اور مغیرہ کو بالکل بے ضرر محسوس کر کے جعفر مصحفی کے پاس خبر بھیجی کہ مغیرہ ہر طرح ہشام کی فرماں برداری پر آمادہ اور بغاوت و سرکشی کا کوئی خیال نہیں رکھتا۔ ایسی حالت میں زیادہ سے زیادہ اس قدر احتیاط کافی ہے کہ مغیرہ کو قید کر دیا جائے۔ اس کی جان لینے کی کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ مگر وزیر جعفر نے فوراً پیغام بھیجا کہ اگر تم اس کام کو نہیں کر سکتے تو میں کسی دوسرے شخص کو بھیجتا ہوں تاکہ وہ بلا توقف مغیرہ کا کام تمام کر دے۔ یہ سن کر محمد بن ابی عامر نے مغیرہ کو بے گناہ قتل کر دیا۔ اور جس کمرہ میں اس کو قتل کیا تھا۔ اس کمرہ کو اسی وقت بند کرا دیا۔