عبدالرحمن ثالث

عیسائیوں سے جہاد

اس کے بعد اس نے عیسائیوں پر جہاد کیے اور کی عیسائی ریاستوں کو ممالک محروسہ میں شامل کر کے باقیوں کو ایسی سخت سزائیں دیں کہ عیسائی سلاطین ان کے نام سے لرزنے اور کانپنے لگے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ خود عیسائی سلاطین اور سرداروں نے اس کی فوج میں شریک ہو کر عیسائی ملکوں کو پامال کیا۔ اور خود عیسائیوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گرجوں کو ڈھانے اور مسمار کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ مگر محمد بن ابی عامر نے ان کو معبدوں کی بے حرمتی و تباہی سے روک دیا۔ پھر اس نے افریقہ کی طرف توجہ کی۔ ادھر بھی سلطنت اندلس کی حدود کو وسیع کیا۔ غرض اس نے اپنے عہد حکومت میں چھپن (۵۶) جہاد کیے۔ اور ہر ایک لڑائی میں فتح مند ہوا۔ آخری ایّام حکومت میں اس نے اپنا خطاب ’’منصور‘‘ تجویز کیا۔ چنانچہ وہ نہ منصور بلکہ منصور اعظم کے خطاب سے مشہور ہوا۔