عبدالرحمن ثالث
محمد بن ابی عامر منصور کے عہد پر تبصرہ
منصور اعظم کی مثال ایسی سمجھنی چاہیئے جیسے خلافت بغداد میں دیلمی و سلجوقی وغیرہ سلاطین کی حالت تھی۔ کہ خلیفہ برائے نام ہوتا تھا۔ اور اصل حکومت ان سلاطین کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ منصور اعظم نے اپنے آپ کو حاجب یعنی وزیر اعظم ہی کے نام سے موسوم رکھا لیکن باقی تمام امور میں وہ مطلق العنان فرماں روا تھا۔ اس نے مدینہ زاہر کے نام سے ایک قصر قرطبہ کے قریب چند میل کے فاصلے پر تعمیر کرایا تھا۔ جو قلعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی میں وہ تمام دفاتر اور خزائن کو لے گیا تھا۔ خطبہ میں ہشام کے ساتھ اس کا نام بھی لیا جاتا تھا۔ سکہ میں بھی اس کا نام درج ہوتا تھا۔ امراء اور اراکین سلطنت اس کی ایسی ہی تکریم کرتے اور تمام آداب دربار اسی طرح بجا لاتے جس طرح وہ خلفائے بنو امیہ کے لیے بجا لاتے تھے۔
ابن ابی عامر یعنی منصور اعظم کا وجود اندلس اور اندلس کی اسلامی حکومت و سلطنت کے لیے بہت ہی مبارک و مسعود تھا۔ اس نے لیون اور اس کی ارد گرد کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو خلافت قرطبہ کا براہ راست ایک صوبہ بنا لیا تھا۔ برشلونہ‘ قسطلہ اور نوار کو اس نے خراج گذار اور پورے طور پر فرماں بردار بنانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ ایک مرتبہ غرسیہ والی ریاست کشکبتشکے پاس منصور اعظم کا کوئی ایلچی کسی ضرورت سے گیا۔ غرسیہ نے اس کا نہایت شان دار استقبال کیا اور اپنے تمام ملک کی اس کو سیر کرائی۔ اس سیر و سیاحت میں اس ایلچی کو معلوم ہوا کہ کسی کلیسہ میں کوئی مسلمان عورت قید ہے۔ جس کو راہبوں نے قید کر رکھا ہے۔ ایلچی نے واپس آ کر حالات سنائے اور اس مسلمان عورت کا بھی تذکرہ کیا۔ منصور اعظم اسی وقت فوج لے کر ریاست بشکنس پر حملہ آور ہوا۔ جب حدود کشکبتش کے قریب پہنچا تو غرسیہ عاجزانہ حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ مجھ سے کوئی حرکت گستاخانہ سرزد نہیں ہوئی۔ منصور نے کہا کہ تونے وعدہ کیا کہ اپنے ملک میں کوئی مسلمان قیدی نہ رکھے گا۔ پھر فلاں گرجا میں ایک مسلمان عورت قید کیوں ہے۔ اس نے اس مسلمان عورت کو منصور کے حوالے کر کے اس گرجا کو منصور کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے مسمار کرا دیا۔
۲۴ ماہ جمادی الآخر ۳۸۷ھ کو منصور نے قرطبہ سے شہر قوریہ کی جانب کوچ کیا۔ قوریہ کو فتح کر کے جلیقیہ میں داخل ہوا۔ یہاں عیسائی سرداروں نے آ آ کر ملازمت و شرکت اختیار کی۔ ان سب کو لے کر منصور اعظم سمندر کے کنارے تک تمام علاقے کے سرکش لوگوں کو سزا دے کر اور اس طرف کے قلعوں کو جو سامان بغاوت تھے مسمار کرا کر بحر اطلانطک کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کو فتح کیا اور مفرورین کو جو وہاں جا کر پناہ گزین ہوئے تھے گرفتار کیا۔ ساحل فرانس کے شہروں کو فتح کیا اور ان عمارتوں کو جو سازش خانے بنائے گئے تھے مسمار کرنے کے بعد واپس ہوا۔ یہ منصور اعظم کا اڑتالیسواں جہاد تھا۔