عبدالرحمن ثالث

مہدی کے خلاف سازش

ادھر خلیفہ مہدی بربریوں سے بھی بدل ناخوش اور فوجیوں کے اس اقتدار کو مضر سلطنت سمجھ کر خفیہ طور پر ان کا زور توڑنے کی تدبیروں میں مصروف تھا اتفاقاً اہل لشکر یعنی بربریوں کو اس بات کا علم ہو گیا کہ خلیفہ ہماری تباہی اور بربادی کی فکر میں ہے۔ انھوں نے یہ سنتے ہی خاندان خلافت کے ایک شہزادے ہشام بن سلیمان بن عبدالرحمن ثالث کو تخت خلافت پر بٹھانے اور مہدی کے معزول کرنے کی سازش کی۔ اس سازش کا حال مہدی کو معلوم ہوا تو اس نے فتنے کے برپا ہونے سے پہلے ہی ہشام بن سلیمان اور اس کے بھائی ابوبکر دونوں کو گرفتار کر کے اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔