محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم

مکہ کو واپسی

نخلہ سے روانہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کوہ حرا پر تشریف لائے اور یہاں مقیم ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض سرداران قریش کے پاس پیغام بھیجا مگر کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی ضمانت اور پناہ میں لینے کے لئے تیار نہ ہوا۔ مطعم بن عدی کے پاس جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پیام پہنچا تو وہ بھی اگرچہ مشرک اور کافر تھا مگر عربی شرافت اور قومی حمیت کے جذبہ سے متاثر ہو کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سیدھا کوہ حرا پر پہنچ کر اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے ہمراہ لے کر مکہ آیا‘ مطعم کے بیٹے ننگی تلواریں لے کر خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو گئے‘ سیدنامحمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خانہ کعبہ کا طوائف کیا‘ اس کے بعد مطعم اور اس کے بیٹوں نے ننگی تلواروں کے سایہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو گھر تک پہنچا دیا۔ قریش نے مطعم سے پوچھا کہ تم کو محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا واسطہ ہے‘ مطعم نے جواب دیا کہ مجھ کو واسطہ تو کچھ نہیں‘ لیکن میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا حمایتی ہوں‘ جب تک وہ میری حمایت میں ہیں کوئی نظر بھر کر ان کو نہیں دیکھ سکتا‘ مطعم کی یہ ہمت و حمایت دیکھ کر قریش کچھ خاموش سے ہو کر رہ گئے۔۲؎ ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم طائف سے اس مذکورہ بالا حالت میں نکلے تو ایک فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم حکم دیں تو میں پہاڑ اٹھا کر اہل طائف پر ڈال دوں‘ یہ سب کے سب فنا ہو جائیں گے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ نہیں ہرگز نہیں‘ مجھے امید ہے کہ اگر یہ لوگ اسلام نہ لائے تو ان کی اولاد ضرور خادم اسلام بنے گی‘ اور ان کی آئندہ نسلیں سب مسلمان ہوں گی میں ان کی ہلاکت کو پسند نہیں کرتا۔۱؎