عبدالرحمن ثالث
مستعین باللہ
مستعین کا ذکر اوپر سے چلا آتا ہے۔ اب یہ مستقل طور پر قرطبہ کا خلیفہ بن گیا۔ مگر جابجا صوبوں کے حاکم خود مختار بادشاہ بن بیٹھے۔ ابن عباد نے اشبیلیہ میں ابن افطس نے بطلیوس میں۔ ابن ذی النون نے طیطلہ میں۔ ابن ابی عامر نے بلنسیہ و مرسیہ میں۔ ابن ہود نے سرقطہ میں اور مجاہد عامری نے رانیہ اور جزائر میں خود مختارانہ حکومتیں شروع کر دیں۔ شمالی عیسائی سلاطین نے اس مناسب موقع اور موزوں وقت سے فائدہ اٹھانے میں کمی نہیں کی۔ ہر ایک عیسائی ریاست نے اپنے حدود کو وسیع کر کے اپنے قریبی علاقوں کو اپنی اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ غرض اندلس میں طائف الملوکی کا زمانہ شروع ہو گیا۔ اور حکومت اسلامیہ پارہ پارہ ہو کر بے حد کمزور و ناتواں ہو گئی۔