حکومت بنی حمود

امویوں کا قتل عام

چند روز کے بعد امراء بربر قاسم سے ناراض ہو گئے۔ ادھر باشندگان قرطبہ پھر اس خیال میں مصروف ہوئے کہ کسی اموی شہزادے کو تخت سلطنت پر بٹھایا جائے۔ قاسم نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر امویوں کو قید و قتل کرنا شروع کیا۔ اس ظلم و تشدد کو دیکھ کر رعایا نے بغاوت اختیار کی۔ اہل شہر کی بغاوت دور کرنے کے لیے قاسم نے بربری فوج استعمال کی۔ شہریوں نے مجتمع ہو کر نہایت پامروی سے مقابلہ کیا اور بالآخر قاسم نے بربری فوج کو شکست دے کر شہر سے نکال دیا۔ بربری فوج شکست کھا کر یحییٰ کے پاس مالقہ کی جانب گئی اور قاسم قرطبہ سے نکل کر اشبیلیہ کی طرف آیا‘ قاسم نے اپنے بیٹے کو اشبیلیہ کا حاکم بنا کر محمد بن زیری اور محمد بن عباد کو اس کا وزیر و مشیر بنایا تھا۔ اب قاسم کو قرطبہ سے شکست خوردہ آتے ہوئے سن کر ان دونوں امیروں نے اشبیلیہ کا دروازہ بند کر لیا اور مقابلہ پر مستعد ہو گئے۔ قاسم نے شہر سے باہر مقیم ہو کر ان امیروں کے پاس پیغام بھیجا کہ میرے بیٹے کو میرے پاس بھیج دو تو میں یہاں سے کسی دوسری طرف چلا جائوں‘ چنانچہ انھوں نے قاسم کے بیٹے اور رشتہ داروں کو اس کے پاس بھیج دیا۔ قاسم اپنے اہل و عیال کو لے کر مع اپنے حبشی غلاموں کے قلعہ سریش میں جا کر مقیم ہو گیا۔ یہاں تک کہ یحییٰ بن علی نے ۴۱۵ھ میں قلعہ سریش کو فتح کر کے قاسم کو گرفتار و قید کر لیا اور ۴۲۷ھ میں قاسم‘ یحییٰ کے حکم سے مقتول ہوا۔