دیگر متحارب سلاطین

بنو عباد‘ بنو ذوالنون‘ بنو ہود وغیرہ

خاندان بنو حمود کی حکومت کا حال اوپر ذکر ہو چکا ہے‘ لیکن خاندان بنو امیہ کی حکومت چوتھی صدی ہجری کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی‘ خاندان بنو حمود کا حال بیان کرتے ہوئے ہم ۴۵۰ھ تک پہنچ گئے‘ حالانکہ حمود کا تعلق جزیرہ نمائے اندلس کے بہت چھوٹے سے ٹکڑے کے ساتھ رہا‘ ان کے ہم عصر اور بھی خاندان الگ الگ صوبوں پر خود مختارانہ حکومت کر رہے تھے‘ ان سب کے حالات تفصیلی طور پر بیان کرنے میں زیادہ وقت اور زیادہ اوراق صرف نہیں کئے جا سکتے‘ لہٰذا بطور اجمال ذیل میں اس طوائف الملوکی کی باقی داستان سنائی جاتی ہے‘ اندلس کی تاریخ کے اس حصہ کو حسرت و افسوس‘ اور خون کے آنسوئوں سے لبریز سمجھنا چاہیئے‘ ذیل میں صرف وہ قابل تذکرہ باتیں درج کی جاتی ہیں جن کے وقوع کا زمانہ معلوم ہونے سے واقعات تاریخی کا تسلسل بہ آسانی قائم ہو سکے‘ ذیل کے واقعات کو ملاحظہ فرماتے ہوئے یہ تصور ہمیشہ قائم رکھنا چاہیئے کہ شمالی عیسائی حکومتیں دم بہ دم اپنی طاقت اور وسعت کو ترقی دے رہی ہیں اور سب کی تمام تر توجہ اسی کوشش میں صرف ہو رہی ہے کہ مسلمان سلاطین اندلس آپس میں دست و گریباں رہیں اور وہ مسلمانوں کی دولت اور مملکت کو جہاں تک ممکن ہو بہ آسانی غصب کرتے رہیں۔