دیگر متحارب سلاطین
غرناطہ میں ابن حابوس کی حکومت
جس زمانے میں بنو حمود نے ملاقہ میں اپنی حکومت قائم کی تھی‘ اسی زمانے میں ابک بربری سردار زادی بن زیری مناد نے غرناطہ میں اپنی حکومت قائم کی‘ اندلس میں خانہ جنگی کا سلسلہ جاری ہوا تو ۴۱۰ھ میں امیر زادی اپنے بیٹے کو غرناطہ میں اپنا قائم مقام بنا کر خود شاہ قیروان کے پاس افریقہ گیا‘ زادی کی غیر موجودگی میں زادی کے بھائی ماکس بن زیری نے غرناطہ پر قبضہ کر کے اپنے بھتیجے کو بے دخل کر دیا اور خود غرناطہ کا بادشاہ بن گیا ۴۲۹ھ میں ماکس بن زیری کا انتقال ہو گیا‘ اس کا بیٹا بادیس جو ابن حابوس کے نام سے مشہور ہے تخت نشین ہوا‘ ابن حابوس کی ابن ذی النون اور ابن عباد سے متعدد لڑائیاں ہوئیں‘ ابن حابوس کا وزیراعظم اسمٰعیل نامی ایک یہودی تھا‘ ۴۶۷ھ میں ابن حابوس کا انتقال ہوا‘ اس کی جگہ اس کا پوتا ابومحمد عبداللہ بن بلکین بن بادیس تخت نشین ہوا اور اپنا خطاب مظفر رکھا‘ اس نے اپنے بھائی تمیم کو اپنے دادا کی وصیت کے موافق مالقہ کی حکومت پر مامور کیا‘ ۴۸۳ھ میں مرابطین نے ان دونوں بھائیوں کو معزول و جلا وطن کر کے اغمات کی طرف بھیج دیا۔