اندلس میں عیسائیوں کی چیرہ دستی

تمام اندلس پر یوسف بن تاشفین کا قبضہ

۴۸۵ھ میں تمام اسلامی اندلس یوسف بن تاشفین کے تحت و تصرف میں آ گیا‘ اور طوائف الملوکی کا خاتمہ ہو کر یوسف بن تاشفین بادشاہ مرابطین کے وائسرائے اور گورنر اندلس پر حکمرانی کرنے لگے‘ اس طرح وہ ملک جو پارہ پارہ ہو کر عیسائیوں کے قبضے میں جانے والا تھا‘ مراکش کے مسلمان بادشاہ کے قبضہ میں آ کر محفوظ ہو گیا اور عیسائیوں کی امیدیں خاک میں مل گئیں‘ اب بھی عیسائی جزیرہ نما کے شمالی علاقوں پر قابض تھے‘ لیکن اندلس کا بڑا حصہ اور آباد و زرخیز جنوبی علاقہ مسلمانوں کے زیر حکومت تھا‘ یوسف بن تاشفین کو ۴۷۹ھ میں خلیفہ بغداد مقتدی بامر اللہ نے امیر المسلمین کا خطاب اور خلعت و علم بھیجا تھا۔