سلطنت غرناطہ
سلطان ابو عبداللہ زغل
سلطان ابو عبداللہ زغل نے تخت نشین ہو کر ملک کا بندوبست شروع کیا۔ مگر عیسائیوں کے ایک عظیم الشان لشکر نے صوبہ مالقہ پر حملہ کیا۔ اور جو قلعے غیر محفوظ اور بے انتظام تھے‘ ان پر بآسانی قابض ہو گئے۔ آخر قلعہ بقوان کا محاصرہ کیا اور اپنی شدید گولہ باری سے قلعہ کی ایک دیوار گرا دی۔ مسلمانوں نے جو بہت تھوڑی تعداد میں قلعہ کے اندر محصور تھے۔ بڑی ہمت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ عیسائیوں کی ایک عظیم الشان تعداد کو کاٹ کر رکھ دیا۔ آخر ایک ایک کر کے سب شہید ہو گئے۔ اور یہ قلعہ عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ ماہ جمادی الاول ۸۹۰ھ کو سلطان زغل غرناطہ سے سرحدی انتظام کے لیے روانہ ہوا۔ ابھی یہ غرناطہ کے متصل قلعہ مثلین کے انتظام میں مصروف اور قلعہ سے باہر ایک میدان میں خیمہ زن تھا کہ عیسائیوں کے ایک لشکر عظیم نے بالکل غیر مترقبہ طور پر حملہ کیا اور یکایک آ کر مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ اس حملہ کا وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اس لیے مسلمانوں کی جمعیت میں سخت پریشانی پیدا ہوئی۔ عیسائیوں نے قتل کرتے ہوئے بڑھنا شروع کیا۔ اور سلطان زغل کے خیمے کے قریب پہنچ گئے۔ مسلمانوں نے اپنے سلطان کو خطرہ کی حالت میں دیکھ کر اپنے آپ کو سنبھالا اور پوری ہمت کے ساتھ عیسائیوں پر حملہ آور ہوئے۔ بہت جلد لڑائی کا نقشہ بدل دیا۔ عیسائی بد حواس ہو کر بھاگے اور ہزار ہا لاشیں اس میدان میں چھوڑ گئے۔ ساتھ ہی عیسائیوں کا پورا توپ خانہ جو ان کے ساتھ تھا۔ مسلمانوں کے قبضے میں آ گیا۔ ان حملہ آور عیسائیوں کے پیچھے بادشاہ فردی نند خود بھی ایک لشکر عظیم لیے ہوئے آ رہا تھا ان مفروروں کو راستے میں روک کر حالات معلوم کئے اور آگے بڑھنے کا ارادہ کیا تو اس کو معلوم ہوا کہ سلطان زغل نے انہیں توپوں کو جو عیسائیوں سے چھینی ہیں۔ قلعہ مثلین پر چڑھا کر اس کو خوب مضبوط کر لیا ہے۔ اور مدافعت کے لیے ہر طرح تیار ہے۔ یہ سن کر فردی نند کی ہمت نہ پڑی واپس چلا گیا۔ اور دوسرے قلعوں کو جو غیر محفوظ تھے۔ فتح کرتا اور اسلامی مقبوضات کو مختصر اور تنگ کرنے میں مصروف رہا۔
فردی نند کو باوجود کامیابیوں کے اس بات کا کامل یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کی حکومت کا استیصال کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اور اگرچہ اسلامی ریاست کا رقبہ بہت ہی محدود و مختصر رہ گیا ہے۔ تاہم اگر مسلمان متحد و متفق ہو کر شمشیر بکف ہو جائیں گے۔ تو ان کے لیے تمام جزیرہ نمائے اندلس کا فتح کر لینا کچھ دشوار نہ ہو گا۔ جیسا کہ طارق و موسٰی کے زمانے میں مٹھی بھر مسلمانوں نے عیسائی سلطنت کو بیخ و بن سے اکھیڑ کر پھینک دیا تھا۔ فردی نند کی اس مآل اندیشی اور دانائی نے اس کو چند روز کے لیے جنگی سرگرمیوں سے روک دیا۔ اور اس نے فریب و دغا سے کام لینا مناسب سمجھا اس کے پاس ابو عبداللہ محمد بن ابوالحسن جو جنگ نوشینہ میں گرفتار ہو کر آیا تھا موجود تھا۔
اس نے ابو عبداللہ محمد کو اپنے سامنے بلوا کر بڑی محبت و ہمدردی اور دل سوزی کی باتیں کیں۔ اور کہا کہ سلطنت غرناطہ کے اصل وارث و حق دار تو تم ہو۔ تمھارے چچا زغل نے غاصبانہ طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ میری خواہش یہ ہے کہ زغل کو بے دخل کر کے تم خود سلطنت غرناطہ پر قابض و متصرف ہو۔ اس کام میں تم کو جس قسم کی ضرورت پیش آئے میں امداد کو موجود ہوں۔ یہ بھی کہا کہ میری عین خواہش یہ ہے کہ میری ہمسایہ اسلامی سلطنت اچھی حالت میں رہے۔ اور ہمارے درمیان کبھی جنگ و پیکار کی نوبت نہ آئے۔ غرض ابوعبداللہ محمد کو خوب سبز باغ دکھا کر اور یہ وعدہ دے کر کہ جس قدر رعایا اور شہر تیرے قبضے میں آ جائیں گے۔ میں ان کو ہرگز کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائوں گا۔ مگر زغل کے قبضے میں جو ملک و شہر ہو گا۔ وہ اس سے ضرور چھین لینے کی کوشش کروں گا۔ کیونکہ زغل سے مجھ کو کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ابوعبداللہ محمد فردی نند سے رخصت ہو کر سیدھا مالقہ میں آیا اور یہاں کے لوگوں کو فردی نند کے عہد و مواثیق سے مطلع کر کے اپنی فرماں برداری کی درخواست کی مالقہ والوں نے یہ سمجھ کر کہ ہم ابوعبداللہ محمد کو اگر اپنا سلطان تسلیم کر لیں گے۔ تو عیسائیوں کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ فوراً اس کو اپنا سلطان تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد ابوعبداللہ محمد نے اپنے قبضہ کو وسیع کرنا شروع کیا۔ زغل نے اس بغاوت کے فرو کرنے کی کوشش کی مگر ان عیسائیوں نے جو ابھی تک اسلامی ملک میں آباد اور مقام بیزین میں سب سے زیادہ موجود تھے۔ ابوعبداللہ کی حمایت و اعانت میں سب سے زیادہ حصہ لیا۔ آخر ایک نہایت اہم مقام لوشہ کو ابوعبداللہ نے اپنے چچا زغل سے طلب کیا کہ لوشہ کی حکومت مجھ کو سپرد کر دو۔ تو میں آپ کے ساتھ مل کر فردی نند پر حملہ کروں گا۔ زغل نے اپنی رعایا کے اکثر افراد اور بعض سرداروں کو اس طرح متوجہ دیکھ کر لوشہ ابوعبداللہ کو دے دیا۔ ادھر ابوعبداللہ نے لوشہ پر قبضہ کیا۔ ادھر فردی نند نے مع فوج لوشہ کی طرف کوچ کیا۔ ابوعبداللہ نے فردی نند کا استقبال کیا اور لوشہ پر اس کا قبضہ کرا کر بماہ جمادی الثانی ۸۹۱ھ قلعہ البیرہ۔ مثلین اوصخرہ کے محاصرہ کو روانہ ہوا۔ ان قلعوں پر بھی ابوعبداللہ محمد نے عیسائی افواج کی مدد سے قبضہ کر کے فردی نند کو دے دیا۔ اور سلطنت غرناطہ کا ایک بڑا اہم اور قیمتی حصہ جس کا فتح کرنا فردی نند کے لیے بے حد دشوار تھا۔ ابوعبداللہ محمد کی وجہ سے بآسانی قبضہ میں آ گیا۔ کیونکہ رعایا کے اکثر افراد ابوعبداللہ کو اپنا شہزادہ اور وارث تخت و تاج سمجھ کر اس کی مخالفت سے دست کش تھے اور عام طور پر مسلمانوں میں وہ جوش لڑائی کا پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ جو ایک عیسائی حملہ آور کے مقابلے میں پیدا ہونا لازمی تھا۔ اب ان اہم مقامات کے نکل جانے پر مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں۔ اور انھوں نے دیکھا کہ ابوعبداللہ محمد تو عیسائی بادشاہ کا ایجنٹ ہے اور اس نے شہروں اور قلعوں پر قبضہ کر کے ان کو بادشاہ قسطلہ کے سپرد کر دیا ہے مقام نبیرین میں قیام کر کے اہل غرناطہ کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنا چاہا۔ یہاں یہ ریشہ دوانیاں جاری تھیں۔ ادھر اہل مالقہ نے سلطان زغل کی فرماں برداری کا ارادہ کر کے عیسائی حکومت کے تمام علامات کو مٹا دیا۔ فرڈی نند نے بماہ ربیع الثانی ۸۹۶ھ میں بذات خود ایک عظیم الشان فوج کے ساتھ مالقہ پر حملہ کیا۔ اور جنگی جہاز بھی ساحل مالقہ پر روانہ کئے۔ فرڈی نند کے اس حملہ کی خبر سن کر سلطان زغل غرناطہ سے مالقہ کی طرف مع فوج روانہ ہوا۔ ادھر ۱۵ ماہ جمادی الاول ۸۹۲ھ کو ابوعبداللہ محمد نے موقعہ پا کر اور غرناطہ کو خالی دیکھ کر اس پر قبضہ کر لیا۔ زغل نے جب یہ سنا کہ غرناطہ پر ابوعبداللہ محمد قابض ہو چکا ہے۔ تو وہ مالقہ کو فرڈی نند کے محاصرے میں چھوڑ کر خود غرناطہ کی طرف چلا راستے میں یہ معلوم کر کے کہ ابوعبداللہ محمد کا غرناطہ پر قبضہ مکمل ہو چکا ہے۔ وادی آش میں ٹھہر گیا۔ اہل مالقہ نے عیسائیوں کے حملوں کو بڑی پامردی اور بہادری کے ساتھ روکا ساتھ ہی شاہ مراکش‘ شاہ تونس۔ شاہ مصر اور سلطان ترکی کو لکھا کہ اس وقت ہماری مدد کرو اور عیسائیوں کے پنجے سے چھڑائو۔ مگر کسی نے بھی ان کی مدد کے لیے کوئی فوج نہ بھیجی۔ {وَمَالَھُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّ لِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ} ’’اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست اور مددگار نہیں۔‘‘ (البقرہ : ۲/۱۰۷) ہر طرف سے مایوس ہو کر ماہ شعبان ۸۹۲ھ میں مالقہ فردی نند کے حوالہ کر دیا۔ اہل مالقہ نے جب اپنی نااتفاقیوں اور خانہ جنگیوں کی پاداش میں ہر طرف سے مایوس ہو کر فردی نند سے صلح و امن کی درخواست کی تو اس نے کہلا بھیجا۔ کہ اب تمھارے پاس سامان رسد ختم ہو گیا ہے۔ نیز تم ہر طرف سے مایوس ہو چکے ہو لہٰذا بلا شرط شہر کی کنجیاں ہمارے پاس بھیج دو۔ اور ہمارے رحم و کرم کے امید وار ہو۔ جب فردی نند مالقہ پر قابض ہوا تو اس نے حکم دیا کہ ہر ایک مسلمان کو قید کر لو اور ان کے تمام اموال و جائداد ضبط کر لیے جائیں۔ چنانچہ پندرہ ہزار مسلمانوں کو تو عیسائیوں نے غلام بنایا باقی تمام باشندگان مالقہ کو بے سروسامانی کے عالم میں وہاں سے نکال کر جلا وطن کر دیا۔ ان میں بہت سے فاقہ اور بے سرو سامانی کے سبب ہلاک ہو گئے۔ بعض ساحل افریقہ تک پہنچے اور وہیں آباد ہوئے۔ مالقہ کے بعد فردی نند نے اس کے تمام نواحی شہروں اور قلعوں کو فتح کر کے وہاں کی تمام مسلم آبادی کو مقتول و جلا وطن کیا۔ اس کے بعد اس نے یکے بعد دیگرے ایک ایک شہر اور ایک ایک قلعہ کو فتح کرنا اور وہاں سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانا شروع کیا۔ وادی آش میں پہنچ کر جہاں سلطان زغل مقیم تھا۔ کوشش کی کہ کسی طرح زغل میرا شریک ہو جائے۔ ابوعبداللہ محمد جو غرناطہ پر قابض ہو کر اب فردی نند کی پیش قدمی کو ناپسند کرتا اور غرناطہ اور اس کے نواحی رقبہ کو اپنے تخت حکومت میں رکھنا چاہتا تھا۔ اہل غرناطہ کی پامردی سے مقابلہ پر آنے اور عیسائیوں سے جنگ کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اس حالت میں فردی نند نے زغل کو اپنا دوست بنانے اور غرناطہ کی حکومت دوبارہ دلوانے کا سبز باغ دکھایا۔ اور زغل مجبوراً یا حقیقتاً اپنے رقیب ابوعبداللہ محمد کی تباہی دیکھنے کے شوق میں وادی آش فردی نند کے سپرد کر کے اس کے ساتھ ہو لیا۔ غرض کہ اس عیسائی بادشاہ نے آخر وقت تک مسلمانوں کی تباہی میں مسلمانوں سے ہی امداد لینی ضروری سمجھی۔ زغل کے شریک ہونے سے فردی نند کا المیریہ پر بہ آسانی قبضہ ہو گیا۔ المیریہ اور وادی آش پر قبضہ ہونا گویا اندلس سے مسلمانوں کی حکومت کا نام و نشان گم ہونا تھا۔ اب صرف شہر غرناطہ اور اس کے مختصر مضافات ہی مسلمانوں کے قبضے میں رہ گئے۔ فردی نند نے ماہ صفر ۸۹۵ھ میں وادی آش اور المیریہ پر قبضہ کر کے سلطان زغل کو اپنے ہمراہ لیا تھا۔ اس وقت سلطان ابوعبداللہ قصر الحمراء میں اپنے چچا زغل کی اس بد انجامی کا حال سن کر خوش ہو رہا تھا۔ کہ اس کے قبضے سے تمام ملک نکل گیا۔ ابوعبداللہ کو یقین تھا کہ غرناطہ میں اب تنہا میری ہی حکومت قائم رہے گی۔ اور فردی نند غرناطہ کے لینے کی جرأت ہرگز نہ کرے گا۔ لیکن فردی نند نے ابوعبداللہ کو لکھا کہ جس طرح تمھارے چچا زغل نے اپنا تمام مقبوضہ ملک مجھ کو سپرد کر دیا ہے تم بھی قصر حمراء اور غرناطہ میرے سپرد کر دو۔ اس تحریر کے آنے پر سلطان ابوعبداللہ نے باشندگان غرناطہ میں سے بااثر اشخاص کو جمع کر کے فردی نند کے خط کا مضمون سنایا۔ اور کہا کہ زغل نے فردی نند کو غرناطہ کے لینے کی ترغیب دی ہے۔ اب ہمارے لیے دو ہی باتیں باقی ہیں یا تو غرناطہ اور قصر حمراء فردی نند کے سپرد کر دیں یا یہ کہ جنگ پر آمادہ ہو جائیں اہل غرناطہ ابوعبداللہ کی غداریوں اور نالائقیوں سے خوب واقف تھے اور جانتے تھے کہ اسی نے حکومت اسلامیہ کے برباد کرنے کے تمام سامان مہیا کئے ہیں۔ مگر اس حالت میں وہ بجز اس کے اور کسی بات پر متفق نہیں ہو سکتے تھے کہ عیسائیوں سے جنگ کرنی چاہیئے۔ چنانچہ سب نے جنگ کی رائے دی ابوعبداللہ کی دلی خواہش چاہے کچھ ہو مگر سب کو جنگ پر آمادہ دیکھ کر اس نے بھی اسی پر اپنی آمادگی ظاہر کی۔ یہاں یہ مشورے ہو رہے تھے۔ ادھر فردی نند شاہ قسطلہ اپنی عیسائی فوجوں کا ٹڈی دل لیے ہوئے آ پہنچا۔ اور آتے ہی ماہ رجب ۸۹۵ھ میں غرناطہ کا محاصرہ کر لیا۔ ادھر شہر والوں نے مدافعت اور مقابلہ پر کمر ہمت چست باندھی لڑائیوں کا سلسلہ جاری ہوا۔ عیسائیوں نے غرناطہ کے کئی نواحی قلعوں پر قبضہ کر لیا۔ مگر مسلمانوں نے قدم قدم پر اس بے جگری سے مقابلہ کیا کہ عیسائیوں کے دانت کھٹے کر دئیے اور ان قلعوں کو جن پر عیسائیوں نے قبضہ کر لیا تھا واپس لے لیا۔ فردی نند نے یہ حالت دیکھ کر مناسب سمجھا کہ غرناطہ کی فتح کو کسی دوسرے وقت پر ملتوی کیا جائے۔ اور زیادہ ساز و سامان اور زیادہ سے زیادہ تازہ دم فوج لا کر محاصرہ کیا جائے۔ چنانچہ وہ محاصرہ اٹھا کر چلا گیا۔ سلطان ابوعبداللہ نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا اور اہل غرناطہ کو لے کر اس علاقہ کی طرف بڑھا جو عیسائیوں کے قبضے میں آ چکا تھا۔ بعض قلعوں کو فتح کر کے وہاں کی عیسائی افواج کو تہ تیغ کیا۔ اور مسلمانوں کی فوج وہاں مقرر کی۔ غرناطہ میں واپس آ کر پھر جنگی تیاری کی اور فوج لے کر بشرات کی جانب روانہ ہوا۔ یہاں کے بعض قصبوں کو اپنے قبضے میں لایا۔ اور قلعہ اندرش کو فتح کر کے عیسائی جھنڈا وہاں سے اتار کر پھینکا اور اسلامی علم نصب کیا۔ علاقہ بشرات کے تمام باشندوں نے اطاعت قبول کی اور از سر نو اس ملک میں اسلامی حکومت جاری ہو۔
اتفاقاً بشرات کے کسی گائوں میں ابوعبداللہ کا چچا زغل بھی مقیم تھا۔ اس نے ابوعبداللہ کو اس طرح کامیاب و فائز المرام دیکھ کر مقابلہ کی تیاری کی۔ اور وہاں سے المیریہ میں جا کر عیسائیوں کو اپنے گرد جمع کیا۔ اور ابوعبداللہ کے مقابلہ پر مستعد ہو کر فردی نند کو اطلاع دی کہ ابوعبداللہ اس قدر طاقتور ہو گیا ہے کہ اگر اس کی طرف سے چند روز بے التفاتی اختیار کی گئی۔ تو پھر اس کا روکنا دشوار ہو جائے گا۔ زغل کا یہ خیال صحیح تھا۔ مگر اس نے خود ابوعبداللہ کے مد مقابل ہو کر اور لڑائیوں کا سلسلہ جاری کر کے ابوعبداللہ اور اہل غرناطہ کی اس رفتار ترقی کو روک دیا۔ جو چند روز میں فردی نند اور عیسائیوں کے بس کی نہ رہتی۔ اس موقعہ پر زغل کو چاہیئے تھا کہ وہ اتفاق و اتحاد سے کام لیتا اور ذاتی رقابتوں کو فراموش کر کے اسلامی مقصد کو فوت نہ ہونے دیتا۔ مگر مسلمانوں کی بد نصیبی نے ان کو یہ حالات دکھائے۔ اور اس خانہ جنگی و نااتفاقی نے مسلمانوں کو سنبھلنے نہ دیا۔ چنانچہ ماہ رمضان ۸۹۵ھ میں زغل نے عیسائی فوجوں کو فراہم و متفق کر کے قلعہ اندرش کو مسلمانوں کے قبضے سے نکال لیا۔ سلطان ابوعبداللہ نے اسی مہینے اہل غرناطہ کی پامردی و جواں ہمتی سے قلعہ ہمدان۔ منکب۔ شلوبانیہ کو فتح کر لیا۔ شلوبانیہ کا قلعہ ابھی فتح نہ ہوا تھا۔ کہ خبر لگی کہ فردی نند بادشاہ قسطلہ مع فوج غرناطہ کے قریب پہنچ گیا ہے یہ سنتے ہی ابوعبداللہ قلعہ شلوبانیہ سے غرناطہ کی طرف متوجہ ہوا۔ اور ۳ شوال ۸۹۵ھ کو غرناطہ پہنچا۔ عیسائی لشکر نے برج ملاحہ کو مسمار کر دیا تھا۔ آٹھویں روز انھوں نے غرناطہ کو چھوڑ کر وادی آش کا راستہ لیا۔ اور وہاں پہنچ کر مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا۔ جو باقی رہے ان کو جلا وطن کر دیا۔ ایک شخص بھی قسم کھانے کو وہاں اللہ کا نام لینے والا نہ رہا۔ قلعہ اندلش کو بھی مسمار کر کے زمین کے برابر کر دیا اور اس قتل و غارت کے بعد تمام عیسائی لشکر واپس چلا گیا۔
فردی نند نے قسطلہ کی جانب واپس جاتے ہوئے زغل کو (جس نے فردی نند کی حمایت میں ابوعبداللہ کی مؤثر مخالفت کی تھی) بلا کر حکم سنایا کہ اب آپ کی اس ملک میں کوئی ضرورت نہیں ہم آپ پر صرف اس قدر احسان کر سکتے ہیں کہ اگر آپ اس ملک یعنی جزیرہ نمائے اندلس سے کہیں باہر جانا چاہیں تو ہم آپ کو جانے دیں گے۔ زغل یہ حکم سنتے ہی اندلس سے روانہ ہو کر افریقہ پہنچا اور مقام تلمسان میں اپنی زندگی کے دن گمنامی کی حالت میں بسر کر دیئے۔ اس موقعہ پر فرد نند شاہ قسطلہ کے عزم و استقلال اور حزم و احتیاط کی ضرور داد دینی پڑتی ہے کہ وہ چونکہ اندلس سے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کا نام و نشان مٹانا چاہتا تھا لہٰذا اس کے کاموں میں صبر و تامل اور عقل و دانائی زیادہ تھی عجلت و شتاب زدگی سے وہ کوسوں دور نفور تھا۔ اس مرتبہ پھر فردی نند کے واپس چلے جانے پر ابوعبداللہ نے برشانہ کی طرف قدم بڑھایا۔ اور محاصرہ کے بعد فتح کر لیا۔ مگر چند ہی روز کے بعد ماہ ذیقعدہ کے آخر ایام میں عیسائیوں نے متفق ہو کر اس شہر کو مسلمان کے قبضے سے چھڑا لیا۔ اور وہاں کسی مسلمان متنفس کو زندہ باقی نہ چھوڑا۔ اب اہل غرناطہ اپنی تعداد کی کمی اور کاموں کی کثرت سے تنگ آ کر افسردہ ہو گئے تھے۔ ان کی افسردگی و پژمردگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ ملک اندلس سے مسلمانوں کے جا بجا قتل اور جلا وطن ہونے کے حالات سنتے رہتے تھے۔ اور بیرونی ممالک سے امداد نہ پہنچنے کا ان کو یقین ہو چکا تھا۔