مراکش و افریقہ

ابراہیم بن اغلب

عاملوں کی تبدیلی کے سلسلہ میں جب محمد بن مقاتل نے دوبارہ اس صوبہ کی حکومت اپنے ہاتھ میں لی تو اس ملک کے باشندوں نے اظہار ناراضگی کیا۔ اور ابراہیم بن اغلب کو جو دربار خلافت میں موجود تھا۔ لکھا کہ آپ اس صوبہ کی حکومت خلیفہ سے کہہ کر اپنے نام مقرر کرا لیں۔ اس پیغام سے مطلع ہو کر ابراہیم بن اغلب نے خلیفہ ہارون الرشید کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ملک مصر کی آمدنی سے ایک لاکھ دینار سالانہ ملک افریقہ میں نظام حکومت قائم رکھنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ اس ملک سے آپ کو کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔ آپ مجھ کو اس ملک کا حاکم مقرر کر کے بھیج دیجئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ خزانہ مصر سے وہ ایک لاکھ دینار سالانہ نہیں لوں گا۔ اور چالیس ہزار دینار سالانہ ملک افریقہ سے بطور خراج دربار خلافت میں بھیجتا رہوں گا۔ ابراہیم بن اغلب کی اس درخواست کو سن کر خلیفہ ہارون الرشید نے ہرثمہ بن اعین سے مشورہ کیا۔ ہرثمہ نے عرض کیا کہ ابراہیم کی اس درخواست کو ضرور منظور فرما لیجیے۔ اور ملک افریقہ کی سند حکومت اس کو دیجیے۔ چنانچہ ہارون الرشید نے ابراہیم بن اغلب کو سند حکومت عطا کر دی۔ یہ ایک قسم کا ٹھیکہ تھا۔ جو ابراہیم بن اغلب کو دیا گیا تھا۔ ابراہیم بن اغلب نے محمد بن مقاتل سے حکومت کا چارج لے لیا۔ اور چونکہ رعایا ابراہیم سے خوش تھی۔ اس لیے تمام ملک میں امن و امان قائم ہو گیا۔ ابراہیم بن اغلب نے ۱۸۴ھ میں ملک افریقہ کی عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لی۔ اور قیروان کے متصل ایک نیا شہر آباد کر کے اس کا نام عباسیہ رکھا۔