مراکش و افریقہ

زیادۃ اللہ

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ ابراہیم بن اغلب نے اس ملک کی حکومت ہارون الرشید سے ٹھیکہ پر لی تھی۔ لہٰذا خطبہ میں عباسی کا نام لیا جاتا تھا۔ مگر حکومت خود مختارانہ تھی۔ زیادۃ اللہ کی تخت نشینی کے بعد اس کے پاس مامون الرشید عباسی کی طرف سے سند حکومت آئی اور ساتھ ہی یہ بھی حکم آیا کہ منبروں پر عبداللہ بن طاہر کے لئے دعا کی جائے اس حکم سے زیادۃ اللہ کو انقباض پیدا ہوا اور اس نے قاصد کو رخصت کرتے وقت تحف و ہدایا کے ہمراہ چند دینار حکومت ادریسیہ کے مسکوک شدہ روانہ کئے۔ مدعا اس سے یہ تھا کہ ہم بجائے آپ کے ادریسی حکومت سے تعلق پیدا کر سکتے ہیں۔