مراکش و افریقہ

ابومضر زیادۃ اللہ

ابومضر زیادۃ اللہ کی تخت نشینی کے بعد ابوعبداللہ شیعی نے بڑھ کر شہر سطیف پر قبضہ کر لیا۔ اور اس کی طاقت میں خوب اضافہ ہو گیا۔ ابومضر عیش پرست اور پست ہمت شخص تھا۔ اس نے تونس کو چھوڑ کر مقام رقادہ میں سکونت اختیار کی اور اپنے ایک سردار ابراہیم بن جیش کو ابوعبداللہ شیعی کے مقابلہ پر روانہ کیا۔ ابراہیم بن جیش چالیس ہزار فوج لے کر روانہ ہوا۔ اور مقام قسطیلہ میں پہنچ کر چھ مہینے مقیم رہا۔ اور اس عرصہ میں فوجیں ہر طرف سے فراہم کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک لاکھ فوج اس کے پاس فراہم ہو گئی۔ اس لشکر عظیم کو لے کر وہ کتامہ کی طرف بڑھا۔ مقابلہ ہوا۔ اتفاق کی بات ابراہیم بن جیش کو شکست ہوئی۔ اور اس نے قیروان میں آ کر دم لیا۔ ابوعبداللہ شیعی نے شہر طبنہ کو فتح کر کے وہاں کے عامل فتح بن یحییٰ کو قتل کیا۔ ابو عبداللہ شیعی کی ان فتوحات کا حال سن کر قیروان اور دوسرے شہروں میں ہلچل اور بدامنی کے آثار نمایاں ہوئے۔ زیادۃ اللہ نے ان حالات کو درست کرنے میں روپیہ بہت خرچ کیا۔ اور فوجوں کی بھرتی بھی جاری کر دی۔ مقابلہ کے لیے فوجیں بھیجیں مگر ابوعبداللہ شیعی کی پیش قدمی برابر جاری رہی اور جلد جلد ایک شہر کے بعد دوسرا شہر اس کے قبضے میں آتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ابوعبداللہ شیعی نے شہر قمودہ پر قبضہ کیا۔