دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
قاہرہ میں دارالسلطنت کی منتقلی!
چند روز کے بعد تمام خزانہ اور سامان تحمل بار برداروں کے ذریعہ وہیں آ گئے اس تمام سامان اور لشکر کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوا۔ بلکین بن زیری بطریق مشایعت ساتھ ہوا۔ ایک دو منزل کے بعد بلکین کو قیروان کی طرف رخصت کیا اور خود برقہ کی جانب چلا وہاں سے روانہ ہو کر شعبان ۳۶۲ھ کو اسکندریہ پہنچا۔ اہل شہر نے استقبال کیا اور عزت و احترام کے ساتھ شہر میں لے گئے۔ وہاں سے روانہ ہو کر ۵ رمضان ۳۶۳ھ کو قاہرہ میں داخل ہوا۔ معز قیروان سے روانہ ہو کر قریباً ایک سال کے بعد قاہرہ پہنچا۔ جعفر بن فلاح کتامی کا حال اوپر بیان ہو چکا ہے کہ اس نے دمشق کو فتح کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ اس سے پیشتر دمشق پر بنی طخجکی حکومت تھی۔ جو قرامطہ کو خراج ادا کیا کرتے تھے۔ جب جعفر بن فلاح کا دمشق پر قبضہ ہوا۔ تو اس نے قرامطہ کو خراج دینے سے انکار کیا۔ چنانچہ قرامطہ کے بادشاہ اعصم نے دمشق پر حملہ کیا۔ جعفر نے مقابل ہو کر قرامطہ کو شکست دے دی۔ اور ان کی فوج منتشر ہو کر میدان سے بھاگ گئی اس کے بعد ۳۶۱ھ میں قرامطہ نے دوبارہ زبردست فوج لے کر دمشق پر حملہ کیا۔ اس مرتبہ بھی جعفر نے مقابلہ کیا۔ مگر وہ لڑائی میں مارا گیا۔ اور دمشق پر قرامطہ کا قبضہ ہو گیا۔ قرامطہ نے دمشق کے بعد رملہ پر قبضہ کیا اور مصر پر حملہ کی تیاریاں کرنے لگے۔ یہ تمام حالات معز کو دوران سفر معلوم ہوئے۔ قاہرہ پہنچ کر اس کو معلوم ہوا کہ قرامطہ نے یافہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور سرحد مصر پر ان کی فوجیں آ آ کر جمع ہو رہی ہیں۔