دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
عاضد بن یوسف عبیدی
عاضد چونکہ صالح کے ہاتھ میں تھا۔ عاضد برائے نام بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ حقیقتاً بادشاہی وزیر السلطنت صالح کے ہاتھ میں تھی۔ یہ بات امرائے سلطنت کو گراں گذرتی تھی۔ عاضد کی چھوٹی پھوپھی نے جو اپنی مقتول بہن کا انتقام صالح سے لینا چاہتی تھی۔ صالح کے قتل کا بیڑا اٹھایا۔ اس نے امرائے سوڈانیہ کو صالح کے قتل پر آمادہ کیا۔ چنانچہ ایک سردار نے موقعہ پا کر صالح پر نیزے کا وار کیا وہ زخمی ہو کر گر پڑا۔ اور اپنے مکان پر آ کر تھوڑی دیر کے بعد مر گیا۔ مرنے سے پہلے عاضد عبیدی کو وصیت کر گیا کہ میرے بیٹے زریک کو وزیر السلطنت بنانا۔ چنانچہ عاضد نے صالح کے بیٹے کو قلمدان وزارت سپرد کر کے ’’عادل‘‘ کا خطاب دیا۔ عادل نے وزیر ہو کر عاضد کی اجازت سے اپنے باپ کے قصاص میں عاضد کی پھوپھی اور سوڈانی سردار کو قتل کیا۔ اس کے بعد عادل امور سلطنت کی انجام دہی میں مصروف ہوا۔ اس نے صعید کے والی شاور سعدی کو معزول کر کے اس کی جگہ امیر بن رقعہ کو صعید کا والی مقرر کیا۔ شاور یہ خبر سن کر مقابلہ پر مستعد ہو گیا۔ اور فوراً فوجیں لے کر قاہرہ کی طرف چل دیا۔ عادل اس کے مقابلے کی تاب نہ لا سکا اور قاہرہ سے نکل بھاگا۔ شاور ۵۵۸ھ میں مظفر و منصور قاہرہ کے اندر داخل ہوا۔ زریک عادل گرفتار ہو کر آیا۔ اور ایک سالہ وزارت کے بعد مقتول ہوا۔ شاور آتے ہی دار الوزارت پر قابض و متصرف ہوا۔ عاضد نے اس کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ عطا کر دیا۔ نو مہینے کے بعد ضرغام نامی ایک شخص نے جو محل سرائے کا داروغہ تھا۔ قوت پا کر شاور کو قاہرہ سے نکال دیا۔ اور خود دارالوزارت پر قابض ہو گیا۔ شاور مصر سے نکل کر شام کی طرف روانہ ہوا۔ ضرغام نے شاور کے بیٹے علی کو جو قاہرہ میں تھا۔ گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اور بہت سے امیروں کو جن سے اس کو مخالفت کا اندیشہ تھا قتل کیا۔