دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
ناعاقبت اندیشی کے نتائج
یہ واقعہ ۵۶۲ھ ماہ ذیقعدہ وقوع پذیر ہوا۔ شاور کی اس ناعاقبت اندیشی کے نتائج بہت برے نکلے جو اس نے عیسائیوں کو مصر میں بلا کر کی۔ شیرکوہ کے واپس چلے جانے کے بعد عیسائی لشکر نے مصر میں مستقل قیام کرنے اور عیسائیوں نے مصر پر قبضہ کرنے کی بنیاد ڈالی۔ چنانچہ انھوں نے شاور کے سامنے مندرجہ ذیل شرائط پیش کیے اور شاور نیز عاضد عبیدی کو وہ شرائط قبول و منظور کرنے پڑے (۱) عیسائی فوجیں قاہرہ میں مقیم رہیں گی۔ (۲) عیسائیوں کی طرف سے ایک ناظم قاہرہ میں رہا کرے گا۔ (۳) شہر پناہ کے دروازوں پر عیسائیوں کا قبضہ رہے گا۔ (۴) حکومت مصر ایک لاکھ دینار سالانہ بیت المقدس کے عیسائی بادشاہ کو ادا کیا کرے گی۔
جب اس طرح عیسائیوں نے مصر میں اپنے قدم جما لیے تو انھوں نے سلطنت مصر کے کاموں میں دخل اندازی شروع کی۔ بلبیس کو عیسائی حکومت میں شامل کر لیا۔ پھر دارالسلطنت قاہرہ پر قبضہ کرنے پر آمادہ ہو گئے اور شاور کو اپنا طرف دار بنا کر عیسائی فوجیں بڑی تعداد میں بلوالیں اور بجائے ایک لاکھ دینار کے دو لاکھ دینار اور بمقدار کثیر غلہ کا مطالبہ کیا۔ عاضد عبیدی بادشاہ مصر کو یہ رنگ دیکھ کر بہت فکر ہوئی۔