دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
صلاح الدین ایوبی بحیثیت وزیراعظم مصر
عاضد نے اس کے بھتیجے صلاح الدین کو عہدئہ وزارت عطا کیا۔ صلاح الدین نے بھی اپنی وفاداری اور تعلقات کو سلطان نورالدین محمود سے برابر قائم رکھا۔ شیرکوہ کی وزارت سے عاضد بہت خوش تھا۔ اور تمام سیاہ و سفید کا اختیار اس کو دے دیا تھا۔ اسی طرح صلاح الدین کو بھی کلی طور پر اختیارات حکمرانی حاصل تھے۔ شیرکوہ اور صلاح الدین دونوں امام شافعیa سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔ صلاح الدین ایوب نے شیعہ قاضیوں کو موقوف کر کے شافعی قضاۃ مامور کئے۔ مدرسہ شافعیہ اور مدرسہ مالکیہ کی بنیاد رکھی ۵۶۴ھ میں جب شیرکوہ نے عیسائی فوجوں کو مصر سے نکال کر خود بطور وزیراعظم مصر کا انتظام شروع کیا تو عیسائیوں کو وہ خراج ملنا بھی موقوف ہو گیا۔ جو وہ مصر سے حاصل کرنے لگے تھے۔ نیز عیسائیوں کو یہ فکر پیدا ہوئی کہ دمشق و قاہرہ کی اسلامی حکومتوں میں جب اتحاد قائم ہو گیا ہے تو اب بیت المقدس پر قبضہ قائم رکھنا دشوار ہے۔ لٰہذا انہوں نے صقلیہ اور اندلس کے پادریوں کو پیغام بھیجا کہ بیت المقدس کے بچانے اور عیسائی حکومت کے یہاں قائم رکھنے کے لئے امداد کی سخت ضرورت ہے۔ چنانچہ ان ملکوں میں پادریوں نے جہاد کے وعظ کہنے شروع کئے۔ اور اندلس وغیرہ سے عیسائی فوجیں روانہ ہو کر ساحل شام پر آ آ کر اترنا شروع ہوئیں۔ عیسائیوں نے یورپ سے ہر قسم کی امداد پا کر اور خوب طاقتور ہو کر ۵۶۵ھ میں دمیاط کا محاصرہ کر لیا۔ دمیاط کے عامل شمس الخواص منکور نامی نے صلاح الدین ایوب کو مطلع کیا۔ ادھر مصر میں شیعہ لوگ وزیرالسلطنت صلاح الدین ایوب سے ناراض تھے۔ صلاح الدین نے ایک افسر بہائوالدین قراقوش کو فوج دے کر دمیاط کی طرف بھیجا اور سلطان نورالدین محمود کو لکھا کہ میں شیعوں اور سوڈانیوں کی وجہ سے مصر کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لئے خود دمیاط کی طرف نہیں جا سکا۔ آپ بھی دمیاط کی طرف التفات مبذول رکھیں۔ چنانچہ سلطان نورالدین محمود نے فوراً دمیاط کی جانب تھوڑی سی فوج بھیجی۔ اور عیسائیوں کی توجہ اور طاقت کے تقسیم کرنے کے لیے ساحل شام کے عیسائی علاقوں پر حملہ آوری شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عیسائی یعنی صلیبی جنگ جو پچاس دن کے محاصرے کے بعد دمیاط کو چھوڑ کر اپنے شہروں کی طرف واپس آئے۔ تو ان کو بھی سلطان نورالدین کے حملوں سے خراب و ویران پایا۔ اس کے بعد سلطان صلاح الدین نے اپنے باپ نجم الدین ایوب کو ملک شام سے مصر بلوایا۔ بادشاہ عاضد خود نجم الدین ایوب سے ملنے آیا۔ اور بہت کچھ تواضح و مدارات کی۔ بادشاہ عاضد ہمیشہ سلطان صلاح الدین ایوب کے کاموں کا مداح رہتا تھا اور خود اس نے امور سلطنت سے بے تعلقی اختیار کر لی تھی۔ مصر کے شیعوں کو صلاح الدین کا اقتدار و اعزاز اور اختیار و طاقت بے حد گراں گذرتی تھی۔ صلاح الدین کی وجہ سے مصر میں دم بدم شیعیت کو تنزل اور سنی مذہب کو ترقی تھی۔ آخر عمارہ یمنی‘ زبیدی‘ عویرش قاضی القضاۃ معزول‘ عبدالصمد‘ کاتب‘ موتمن الخلافتہ سردار خدام قصر سلطانی وغیرہ نے مل کر ایک سازش کی۔ اور یہ رائے قرار پائی کہ مصر کے ملک کو عیسائیوں کے سپرد کر دیا جائے۔ اور عیسائی سفیر کو بلوا کر بادشاہ عاضد سے اس کی خفیہ ملاقات کرائی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایک طرف عاضد کو ہموار کرنے کی کوشش کی دوسری طرف عیسائیوں سے خط و کتابت کر کے ان کے سفیر کو پوشیدہ طور پر بلوایا اتفاقاً ان لوگوں کا ایک خط جو انھوں نے عیسائی بادشاہ کے پاس روانہ کیا تھا۔ راستے میں پکڑا گیا۔ اور صلاح الدین کی خدمت میں پیش ہوا۔ صلاح الدین نے مجرموں کا نہایت احتیاط کے ساتھ پتہ لگایا۔ اور سب کو گرفتار کر کے دربار عام میں ان کے اظہار قلم بند کئے۔ جب وہ سب مجرم ثابت ہوئے تو ان کو قتل کیا۔ اور بہائوالدین قراش کو محل سرائے سلطانی کا داروغہ مقرر کیا۔
سلطان العادل یعنی سلطان نورالدین محمود پہلے سے صلاح الدین ایوب کو لکھتے رہتے تھے کہ تم مصر میں خلیفہ بغداد کے نام کا خطبہ پڑھوائو۔ مگر صلاح الدین یہ معذرت کر دیا کرتا تھا کہ اگر عاضد عبیدی کا نام خطبہ سے نکال دیا گیا تو اندیشہ ہے کہ مصر میں سخت فساد اور فتنہ برپا ہو جائے۔ صلاح الدین کا یہ اندیشہ غیر معقول نہ تھا۔ کیونکہ سوڈانیوں کی ایک بڑی تعداد مصر میں موجود تھی جو ترکوں کی مخالفت اور شیعہ سازشی لوگوں کی حمایت پر مستعدی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ مذکورہ سازش کے شرکاء کو جب صلاح الدین نے قتل کیا تو ان سوڈانیوں نے جو پچاس ہزار کی تعداد میں تھے۔ صلاح الدین اور ترکوں کی فوج کے خلاف ہتھیار سنبھال لئے۔ قصر سلطنت اور قصر وزارت کے درمیان ترکوں اور سوڈانیوں میں جنگ عظیم برپا ہوئی۔ ترک غالب ہوئے سوڈانی بہت سے مقتول اور باقی مفرور ہوئے۔ ان کے گھروں کو ترکوں نے لوٹ لیا۔ صلاح الدین نے سوڈانیوں کو امن عطا کر کے ان کے گھروں میں آباد کرا دیا۔ اس طرح سوڈانیوں کا زور بھی ٹوٹ گیا۔ اب سلطان العادل نے پھر صلاح الدین کو لکھا کہ عاضد کے نام کا خطبہ موقوف کر کے خلیفۂ مستضیٔ عباسی کے نام کا خطبہ پڑھوائو۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ بادشاہ عاضد بیمار اور مرض الموت میں گرفتار تھا۔ چنانچہ اس حکم کی تعمیل محرم ۵۶۷ھ کے پہلے جمعہ کو جامع مسجد قاہرہ کے ممبر پر بغداد کے عباسی خلیفہ کا خطبہ پڑھا گیا۔ اور کسی شخص نے اس کو ناپسند نہ کیا۔ اگلے جمعہ کو صلاح الدین کے گشتی فرمان کے موافق تمام ملک مصر کی مسجدوں میں خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھا گیا۔