دولت عبیدیین مصر و افریقہ میں
دولت عبیدیہ پر تبصرہ
دولت عبیدیین دو سو ستر سال تک قائم رہی۔ ابتداء عبیدیوں کی حکومت افریقیہ یعنی ملک مغرب میں قائم ہوئی پھر مصر پر قابض ہو کر انھوں نے قاہرہ کو دارالسلطنت بنایا۔ مراکش کی سلطنت ادریسیہ کو بھی لوگ عام طور پر علویوں اور شیعوں کی سلطنت سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ادریسیہ سلطنت نسباً بربری اور اس لئے نیم شیعہ یا برائے نام شیعہ سلطنت تھی۔ ادریسیوں کے اعمال و عبادات و عقائد میں کوئی ایسی بات نہ تھی جس کو سنیوں کے مقابلے میں مابہ الامتیاز قرار دیا جا سکے۔ نہ ادریسیوں کو سنیوں سے کوئی عداوت و نفرت تھی۔ نہ ان کے عقائد و عبادات میں کوئی فرق تھا۔ بجز اس کے کہ اس سلطنت کی ابتداء ادریس اول سے ہوئی تھی جس نے محبت اہل بیت کے مشہور ہتھیار سے کام لے کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ اس کے بعد ادریسیوں میں کوئی شیعی خصوصیت نہیں دیکھی گئی۔ ہاں عبیدیین کی حکومت ضرور شیعی حکومت تھی۔ لیکن نسباً وہ علوی حکومت ہرگز نہ تھی۔ عبیداللہ کا دادا تاریخ الخلفا سیوطی کی روایت کے موافق مجوسی اور ذات کا لوہار و تیر گر تھا۔ عبیداللہ مہدی نے ملک مغرب میں جا کر علوی فاطمی ہونے کا دعویٰ کیا۔ مگر علماء نسب نے اس کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا۔ ایک مرتبہ عزیز عبیدی نے اندلس کے اموی خلیفہ کے نام ایک خط بھیجا جس میں ہجو و دشنام درج تھیں۔ خلیفہ اموی نے اس کے جواب میں عزیز عبیدی کو لکھا کہ تجھ کو چونکہ ہمارا نسب معلوم تھا۔ اس لئے تو نے ہجو کی۔ اگر ہم کو تیرا نسب معلوم ہوتا تو ہم بھی تیری طرح تیرے بزرگوں کی نسبت ہجو کرتے۔ عزیز کو یہ جواب بہت ہی گراں گذرا مگر کوئی جواب نہ دے سکا۔ عبیدیین کو عام طور پر لوگ فاطمیین کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بڑی جہالت اور غلطی ہے۔ عبیدیین عام طور پر اسمٰعیلی شیعہ تھے۔ انہیں کو باطنیہ بھی کہتے ہیں۔ انہیں کی ایک شاخ فارس کی وہ سلطنت تھی جو حسن بن صباح نے قائم کی تھی۔ جس کا دارالحکومت قلعہ الموت تھا۔ اسی کو فدائیوں کی حکومت بھی کہتے ہیں۔ وہ بھی علوی نہ تھے۔
عبیدیین کی حکومت میں ہزارہا صلحاء محض اس لئے مقتول ہوئے کہ وہ صحابہ کرام کو برا نہ کہتے تھے۔۱؎ عبیدیین سے اسلام کو کوئی نفع نہیں پہنچا۔ اور ان کا کوئی جنگی‘ علمی‘ اخلاقی کارنامہ ایسا نہیں جس پر فخر کیا جا سکے۔ بعض علماء نے عبیدیین کو خارج از اسلام اور مرتد بھی قرار دیا ہے۔ ان میں سے بعض مثلاً عزیز عبیدی نے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ شراب خوری کو یہ لوگ جائز سمجھتے تھے۔ اسی قسم کی بہت سی باتیں ان کے عہد حکومت میں پائی جاتی تھیں۔ جن کے سبب ان کو علماء اسلام نے ننگ اسلام سمجھا ہے بہرحال عبیدیین کی سلطنت کے تاریخی حالات جو کچھ تھے وہ بیان ہو چکے۔ اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرامطہ بحرین اور ان کی دولت و حکومت کے حالات بھی عبیدیین کے بعد درج کر دئیے جائیں۔
۱؎اسی سے ان کی خباثت ذہن و فکر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صحابہ کرامy پر سب و شتم ایک مخصوص گروہ کا شعار تھا اور ہے۔ جناب رسول اللہe نے صحابہ کرامy جن کو اللہ تعالیٰ نے رضی اللہ عنہم و رضو عنہ کا خطاب مرحمت فرمایا تھا‘ ان کے بارے میں امت کو یہ تنبیہہ اور نصیحت فرمائی تھی کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہنا اور ان کو گالیاں نہ دینا یعنی ان پر سب و شتم نہ کرنا۔ (ترمذی بہ حوالہ مشکوٰۃ المصابیح المحقق الالبانیa‘ کتاب المناقب و الفضائل‘ حدیث ۶۰۱۴)