قرامطہ بحرین

حسن اعظم قرمطی

حسن اعظم قرمطی اپنے خیالات و عقائد میں بہت معتدل تھا۔ اس کو عبیدیین سے کوئی عقیدت نہ تھی۔ اور خلافت عباسیہ سے کوئی نفرت یا عداوت نہ رکھتا تھا۔ اوپر بیان ہو چکا ہے۔ کہ ابوطاہر نے دمشق پر خراج سالانہ مقرر کر دیا تھا۔ اور جو شخص دمشق کا والی ہوتا تھا۔ وہ خراج کی مقررہ رقم قرامطہ کے بادشاہ کی خدمت میں بھجواتا رہتا تھا۔ تاکہ قرامطہ کی حملہ آوری اور قتل و غارت سے محفوظ رہے۔ اعظم کی تخت نشینی کے وقت دمشق کو جعفر بن فلاح کتامی نے بنی طغج سے فتح کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ اعظم نے حسب معمول والی دمشق سے خراج سالانہ طلب کیا۔ چونکہ اب تک قرامطہ اور عبیدیہ حکومتوں میں محبت و اتحاد قائم تھا۔ لہٰذا توقع یہ ہو سکتی تھی کہ دمشق جب کہ دولت عبیدیہ میں شامل ہو گیا۔ تو بادشاہ قرامطہ دولت عبیدیہ کے سردار جعفر بن فلاح سے دمشق کا خراج طلب نہ کرے گا۔ مگر اعظم نے سختی سے خراج کا مطالبہ کیا۔ اور جعفر بن فلاح نے خراج کے دینے سے قطعی انکا کیا۔ چنانچہ اعظم نے دمشق کی جانب فوج بھیجی۔ ادھر معز عبیدی کو جو قیروان سے قاہرہ کی جانب آ رہا تھا۔ یہ حال معلوم ہوا تو اس نے اراکین دولت قرامطہ کے نام خط بھیجا کہ تم اعظم کو سمجھائو کہ وہ دمشق سے متعرض نہ ہو۔ ورنہ پھر ہم ابوطاہر کی اولاد کو تخت سلطنت کا وراث قرار دے کر اعظم کی معزولی کا اعلان کر دیں گے۔ اعظم کو جب یہ حال معلوم ہوا۔ تو اس نے بلا تامل عبیدیین کی خلافت سے انکار کر کے علم مخالفت بلند کیا۔ اور اپنے ممالک مقبوضہ میں خلافت عباسیہ کا خطبہ پڑھوایا۔ پہلی فوج جو اعظم نے دمشق کی جانب روانہ کی تھی اس کو جعفر کتامی نے ۳۶۰ھ میں شکست دی۔ اس کے بعد ۳۶۱ھ میں اعظم خود فوج لے کر دمشق کی جانب متوجہ ہوا۔ اور میدان جنگ میں جعفر کتامی کو قتل کر کے دمشق پر قبضہ کر لیا۔ اہل دمشق کو امان دے کر ہر قسم کا انتظام کیا۔ اور فوج لے کر حدود مصر کی طرف بڑھا۔ آئندہ جو واقعات حدود مصر میں پیش آئے۔ اور اعظم کی معز عبیدی سے جو خط و کتابت ہوئی اس کا حال اوپر معز عبیدی کے حالات میں بیان ہو چکا ہے۔ جس زمانے میں اعظم قرمطی شام و مصر کی طرف مصروف تھا۔ اس زمانے میں معز عبیدی نے خطوط بھیج کر ابو طاہر کے بیٹوں کو جو جزیرہ اوال میں نظر بند تھے۔ ترغیب دی کہ تم اس وقت بحرین میں آ کر احساء پر قبضہ کر لو اور خود بادشاہ بن جائو۔ اور ایک اعلان اپنی طرف سے ملک بحرین میں شائع کرا دیا۔ کہ ہم نے اعظم کو معزول کر کے ابو طاہر کے بیٹوں کو بحرین کی حکومت عطا کر دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابوطاہر کے بیٹوں نے آ کر احساء کو تاخت و تاراج کر ڈالا۔ یہ حال دیکھ کر بغداد کے خلیفہ طائع عباسی نے ابو طاہر کے بیٹوں کو خط لکھا کہ تم آپس میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو اور ہمارے احکام کی تعمیل کرو۔ اور اس بغاوت سے باز رہو۔ مگر اس کا کوئی اثر ان پر نہ ہوا آخر اعظم نے احساء کی طرف واپس آ کر سب کو درست کیا۔ اور خلیفہ طائع عباسی کے فرستادوں نے آ کر ان میں مصالحت کرا دی۔ ۳۶۳ھ میں معز عبیدی کی فوجوں نے تمام ملک شام پر قبضہ کر لیا۔ اعظم قرمطی فوجیں مرتب کر کے ملک شام کی طرف آیا۔ تمام ملک شام سے عبیدی فوجوں کو شکست دے دے کر بھگا دیا۔ اور مصر پر حملہ آور ہو کر بلبیس تک پہنچ گیا۔ معز عبیدی نے اعظم قرمطی کی فوج کے ایک بڑے حصے اور بعض عرب سرداروں کو لالچ دے کر اپنی طرف مائل کر لیا۔ اس لیے حسن اعظم کو شکست ہوئی۔ اور وہ احساء کی طرف واپس چلا آیا۔ اور شام پر عرب سرداروں کا قبصہ ہو گیا۔ دمشق پر بعض ترکی سردار قبضہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ معز عبیدی ۳۶۵ھ میں خود دمشق کی طرف روانہ ہوا۔ اتفاقاً راستے ہی میں فوت ہو گیا۔ اعظم قرمطی نے ۳۶۶ھ میں حملہ کر کے ملک شام کو پھر فتح کر لیا۔ اس حملہ میں افتگین نامی ترکی سردار اس کے ساتھ تھا۔ آخر عزیز عبیدی سے حدود مصر میں معرکہ آرائی کی نوبت آئی جیسا کہ اوپر عزیز عبیدی کے حالات میں بیان ہو چکا ہے۔ افتگین تو گرفتار ہو گیا اور اعظم اپنے دارالسلطنت احساء کی جانب چلا آیا چونکہ اعظم نے خلافت عباسیہ کی اطاعت قبول کر لی تھی اور اس کو عبیدیین سے سخت نفرت تھی اس لیے قرامطہ اس سے کبیدہ خاطر اور افسردہ دل رہتے تھے۔ ادھر عبیدیوں کی طرف سے قرامطہ کے عام لوگوں میں غیر محسوس طور پر اعظم کے خلاف تبلیغی سلسلہ جاری تھا لہٰذا قرامطہ نے اعطم کے خلاف ایک بغاوت برپا کر دی۔ یہ بغاوت اس لیے زیادہ کامیاب ہو سکی کہ اعظم اپنے دارلسلطنت سے دور ملک شام میں زیادہ مصروف رہا۔ اگر وہ دارالسلطنت کو نہ چھوڑتا تو کوئی بغاوت اس کے خلاف کامیاب نہ ہو سکتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب اعظم شام کی طرف سے واپس احساء میں آیا تو تمام اہل شہر کو اپنا مخالف و سرکش پایا۔ اس کی رکابی فوج بھی باغیوں میں شامل ہو گئی۔ انہوں نے اعظم کو گرفتار کر کے ابوسعید جنابی کے تمام خاندان کو حکومت و سلطنت سے محروم کر کے اپنے گروہ میں سے جعفر و اسحٰق دو شخصوں کو مشترکہ طور پر تخت حکومت پر بٹھا دیا اور اعظم اور اس کی اولاد اور رشتہ داروں کو جزیرہ ادال میں جلا وطن کر دیا۔ اس جزیرہ میں ابوطاہر کی اولاد پہلے سے بحالت جلا وطنی موجود تھی۔ اور ان کی تعداد زیادہ تھی۔ انہوں نے ان نئے جلا وطنوں کو جزیرہ میں قدم رکھتے ہی حملہ کر کے قتل کر ڈالا۔