مغولان چنگیزی

ایک غلط فہمی کا ازالہ

بعض لوگ غلطی سے قوم اوزبک کو تاتاری قوم سمجھتے ہیں حالانکہ اوزبک چنگیز خان کی اولاد میں سے ایک قبیلہ کا نام ہے۔ یہ غلط فہمی غالباً اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ ہندوستان کے سلاطین مغلیہ کی قبیلہ اوزبک کے کئی فرماں روائوں سے لڑائیاں ہوئی ہیں۔ اور وہ اوزبک اس زمانے میں ملک ترکستان کے بادشاہ تھے ان کو ترکستان کا بادشاہ دیکھ کر آج کل کے تاریخ دانوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ تاتاری تھے۔ ہاں تاتاری لوگوں کی سلطنت عثمانیہ سلطنت ہے۔ قبائل مغولیہ میں قچاق‘ ایغور‘ خلج‘ قاچار‘ افشار‘ جلائر‘ ارلات‘ دو غلات‘ قنقرات‘ سلدوز‘ ارغون‘ قوچین‘ ترخانی‘ طغانی‘ قاقشال وغیرہ بہت سی شاخیں ہیں جن کی تفصیل بیان کرنے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔ یہ بات اب بخوبی سمجھ میں آ گئی ہو گی۔ کہ ترک ایک ایسا عام لفظ ہے جو مغلوں اور تاتاریوں کے ہر ایک قبیلہ پر بولا جا سکتا ہے کیونکہ تاتار اور مغل دونوں ایک ہی قبیلہ ترک کی دو شاخیں ہیں مغلوں کا اصل وطن چین و منگولیا تھا۔ اور تاتاریوں کا وطن ترکسان تھا۔ بعد میں تاتاریوں کو ترک کہنے لگے اور لفظ ترک کی عمومیت محدود ہو کر تاتار کی مترادف رہ گئی۔ اس طرح تاتار کا لفظ عرف عام سے غائب ہو گیا۔ اور ترک و مغل دونوں قوموں کے نام مشہور ہوئے۔ اب بعض مؤرخین نے اصلیت کی بنا پر مغلوں کو بھی ترک کے نام سے یاد کیا۔ کیونکہ وہ ترک بن یافث کی اولاد سے ہیں۔ بعض نے سلجوقیوں کو بھی ترک کہا اور بعض نے سلاطین عثمانیہ کو بھی اسی وجہ سے مغلوں کا ہم قوم قرار دیا۔ غرض اوپر کے بیان کو اگر بغور پڑھ لیا جائے تو تاریخ کے مطالعہ کرنے والے کی بہت سی دقتیں حل ہو سکتی ہیں۔ اب ہم کو فتنۂ مغولان چنگیزی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے لیکن اس سے پہلے یہ بات اور ذہن نشین کر لینی چاہیے۔ کہ تاتاریوں کی قوم جو مغلوں سے زبردست ہونے کی وجہ سے مغلوں کو اپنے علاقے سے باہر قدم رکھنے کا موقعہ نہیں دیتی تھی۔ ترکستان سے نکل کر خراسان‘ ایران‘ عراق‘ شام‘ ایشیائے کوچک تک پھیل گئی تھی۔ اور اس قوم کے بہادر اولو العزم افرا دو قبائل ممالک اسلامیہ میں بڑے بڑے مناصب اور عہدوں پر فائز ہو کر اپنے قدیمی وطن ترکستان کا خیال چھوڑ چکے تھے۔ ان میں ہر قسم کی تہذیب و شائستگی بھی آ گئی تھی اور مغول قوم کا پشتینی دشمن ان کے راستے سے الگ ہو چکا تھا۔ لہٰذا وقت آ گیا تھا۔ کہ یہ قوم بھی اپنے انتہائی جہل و بدتمیزی اور سفاکی و بد تہذیبی کے ساتھ اپنے کو ہستانی مامن اور قدیمی وطن کو چھوڑ کر متمدن دنیا میں نکلے اور غافلوں کیے لیے تازیانہ عبرت ثابت ہو۔