مغولان چنگیزی

سلطان محمد خوارزم شاہ

یہ وہ زمانہ تھا۔ کہ سلطان محمد خوارزم شاہ ایران و خراسان و کابل و ترکستان وغیرہ ممالک پر قابض و مستولی ہو کر خلافت بغداد کے انہدام و بربادی کے ارادے کر رہا تھا۔ اور برّاعظم ایشیاء میں سب سے زیادہ طاقتور زبردست مسلمان بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ عباسی خلیفہ ناصرلدین اللہ اور محمد خوارزم شاہ کے درمیان ناچاقی نے جب یہاں تک نوبت پہنچائی کہ خوارزم شاہ نے بغداد پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ تو خلیفہ نے سیدنا شیخ شہاب الدین سہروردیa کو سفیر بنا کر خوارزم شاہ کی خدمت میں روانہ کیا۔ شیخ ممدوح نے سلطان کے دربار میں پہنچ کر مناسب تقریر کی۔ اور اس کو بغداد پر چڑھائی کرنے سے باز رہنے کی نصیحت کی۔ خوارزم شاہ نے کہا کہ شیخ صاحب آپ عباسیوں کے بہت مداح اور خیر خواہ ہیں۔ لہٰذا آپ بغداد کو واپس تشریف لے جائیے۔ میں توعلویوں کو عباسیوں پر ترجیح دیتا ہوں۔ اور عباسی خلافت کو مٹا کر علویوں کی امداد کرنا چاہتا ہوں۔ میں ضرور بغداد پر چڑھائی کروں گا۔