مغولان چنگیزی
اوکتائی خان
چنگیز خان کی وفات کے بعد اس کا بڑا بیٹا اوکتائی قاآن مغلوں کا بادشاہ تسلیم کیا گیا۔ اور اس کے بھائی اپنے اپنے علاقوں اور ملکوں پر جو چنگیز خان نے مقرر و نامزد کیے تھے۔ قابض و متصرف ہو گئے۔ دو برس کے بعد اوکتائی قاآن نے اپنے تمام بھائیوں کو طلب کیا۔ اور ایک بہت بڑی ضیافت اور جشن کے سامان مرتب کیے۔ جب سب لوگ آ چکے تو اپنے بھائیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں قاآنی یعنی بادشاہی کے عہدے سے دست بردار ہوتا ہوں۔ آپ جس کو مناسب سمجھیں۔ اپنا بادشاہ بنا لیں۔ مگر چغتائی خان اور دوسرے بھائیوں اور سرداروں نے باصرار اس کو تخت پر بٹھایا۔ اور مغلوں کی رسم کے موافق سب نے آفتاب کی پرستش کی۔۱؎ اس کے بعد جوجی خان کا بیٹا باتو خان اور پوتا کیوک خان اور تولی خان کا بیٹا منکو خان مامور کیے گئے کہ روس و چرکس و بلغاریہ کی طرف فوج کشی کریں۔ چنانچہ ان شہزادوں نے ۶۳۳ھ میں سات برس کی کوشش کے بعد ان تمام ملکوں کو مفتوح و منقاد کر لیا۔ ارغون خان سپہ سالار کو خراسان کی حکومت دسرداری پر مامور کیا گیا۔ اور حکم ہوا کہ خراسان کے ان شہروں کو جو مغلوں کی تاخت و تاراج سے ویران ہو گئے ہیں۔ ازسرنو آباد کیا جائے۔
اوکتائی خان ابن چنگیز خان بہت سنجیدہ مزاج اور نیک طینت شخص تھا۔ اس نے ملکوں کی آبادی اور رفاہ رعایا کی طرف خصوصی توجہ مبذول کی۔ اوکتائی خان کو مسلمانوں سے خاص طور پر محبت و انسیت تھی وہ مسلمانوں کو قابل تکریم سمجھتا۔ اور ان کو ہر قسم کی راحت پہنچانا چاہتا تھا۔ مغلوں کے دستور کے موافق غوطہ مار کر نہانا گناہ کبیرہ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ اوکتائی خان اور چغتائی خان دونوں ہمراہ جا رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان دریا میں نہا رہا ہے۔ چغتائی خان نے فوراً اس کے قتل کا حکم دیا۔ اوکتائی خان نے کہا کہ اس کو گرفتار کر لو اور مجمع عام میں اس کو قتل کیا جائے۔ اوکتائی خان نے چغتائی خان سے جدا ہو کر تنہائی میں اس مسلمان قیدی سے کہا کہ تو یہ کہہ دینا کہ میرے پاس اشرفیوں کی ایک تھیلی تھی۔ اور مجھ کو ڈاکوئوں کے اندیشہ سے اس کے چھپانے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا میں دریا میں اس کو چھپانے کے لیے داخل ہوا تھا۔ جب اس مسلمان کو مجمع عام میں سیاست کے لیے حاضر کیا گیا۔ تو اس نے اپنی بے گناہی کے ثبوت میں وہی بات کہی۔ جو اوکتائی خان نے اس کو سمجھا دی تھی۔ یہ سن کر دریا میں اس مقام پر اشرفیوں کی تھیلی تلاش کرنے کے لیے آدمی بھیجے گئے۔ اوکتائی خان نے پہلے ہی وہاں تھیلی ڈال دی تھی۔ وہ برآمد ہوئی اور مسلمان کے بیان کی تصدیق ہو گئی۔ چنانچہ اس کو وہ اشرفیوں کی تھیلی اور چند اور تھیلیاں بطور انعام دے کر اوکتائی خان نے رہا کر دیا۔ اس طرح جہاں تک اس کو موقعہ ملتا تھا۔ وہ مسلمانوں کو نفع پہنچاتا تھا۔ مگر دوسرے مغول مسلمانوں کے دشمن اور ان کو نقصان پہنچانے کے شائق تھے۔
ایک مرتبہ ایک شخص اوکتائی خان کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے رات خواب میں قاآن اعظم چنگیز خان کو دیکھا ہے۔ اس نے مجھ سے فرمایا ہے کہ میرے بیٹے اوکتائی خان سے جا کر میرا یہ پیغام کہو کہ میری خوشی اور خواہش یہ ہے کہ دنیا سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ اور ان کے قتل کرنے
۱؎یعنی چنگیز خاں اور اس کی اولاد و خاندان وغیرہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔
میں ہرگز تامل روا نہ رکھا جائے۔ اوکتائی خان نے کہا کہ تو مغلی زبان جانتا ہے اس نے کہا کہ نہیں میں صرف فارسی میں گفتگو کر سکتا ہوں۔ اور فارسی ہی سمجھ سکتا ہوں۔ اوکتائی خان نے کہا کہ چنگیز خان سوائے مغلی زبان کے اور کوئی زبان نہیں جانتا تھا۔ اور فارسی قطعاً نہیں بول سکتا تھا۔ تونے اس کے کلام کو کس طرح سمجھا؟ یہ کہہ کر حکم دیا۔ کہ اس کو قتل کر دیا جائے یہ جھوٹا آدمی ہے اور چنگیز خان پر بہتان باندھتا ہے۔ چنانچہ فوراً اس کو قتل کر دیا گیا۔
اوکتائی خان کی نسبت عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اگرچہ علانیہ مسلمان نہ ہوا تھا۔ لیکن پوشیدہ طور پر وہ اسلام کو سچا مذہب یقین کر کے مسلمان ہو چکا تھا۔ اس کا دارالسلطنت قراقورم یا قراقرم تھا۔ اور تمام دنیا کی لوٹ کا مال قراقورم میں جمع ہو کر زرو جواہر سے خزانہ معمور تھا۔ اوکتائی خان کی سخاوت اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ خراسان اور شام تک سے لوگ اس کی سخاوت کا شہرہ سن کر قراقورم میں چلے آتے تھے۔ اور مالا مال ہو کر واپس جاتے تھے۔ باپ نے جس طرح ظلم و خونریزی کے ذریعہ دولت جمع کی تھی۔ بیٹے نے اسی طرح محبت و شفقت اور خدا ترسی کی راہ سے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغلوں کی زیادتی اور خشونت سے لوگ ابتداء وحشت زدہ اور متنفر تھے۔ تو اوکتائی کی سخاوت اور داد و دہش کے سبب اس سے محبت کرنے لگے۔ مغلوں کی سلطنت کا بانی اگر چنگیز خان تھا۔ تو اس کی بنیادوں کو پائدار و استوار بنانے والا اوکتائی خان تھا۔