مغولان چنگیزی
ارپاخان از اولاد ارتق بوقا ابن تولی خان
سلطان ابو سعید کی وفات کے بعد بعض امراء کے اتفاق سے ارپا خان تخت نشین ہوا۔ اس نے تخت نشین ہو کر کہا کہ مجھ کو آرائش اور ناز و نعم کی مطلق ضرورت نہیں۔ میں کمر زرین کی بجائے تسمہ‘ اور تاج مرصع کی بجائے کلاہ نمد کو کافی سمجھتا ہوں۔ چونکہ ازبک خان کی فوجوں سے مقابلہ در پیش تھا۔ لہٰذا ارپا خان نے مقابلہ کی تیاری میں ہمت صرف کی اور جابجا حملہ آوروں کی روک تھام کے واسطے فوجیں تعینات کیں۔ اسی اثناء میں ازبک خان کے پاس خبر پہنچی کہ دشت قبچاق میں بغاوت و فتنہ پیدا ہونے والا ہے۔ وہ اس وحشت ناک خبر کو سنتے ہی اس طرف روانہ ہوا ادھر امیر علی نے اس کے خلاف خروج کیا۔ اس خروج میں امیر علی کو اس لیے اور بھی کامیابی ہوئی۔ کہ ارپا خان نے اولاد ہلاکو خان کو جہاں کہیں پایا قتل کیا۔ اور اس خاندان کے استیصال سے اکثر امراء کو بد دل بنا دیا۔