مغولان چنگیزی

برکہ خان ابن جوجی خان

باتو خان کی وفات کے بعد اس کا بھائی برکہ خان تخت نشین ہوا۔ باتو خان تو مثل چنگیز خان کے نامسلمان تھا۔ لیکن برکہ خان نے دین اسلام قبول کر لیا تھا۔ برکہ خان کے عہد حکومت میں مسلمانوں کو مغلوں کی زیادتی سے ہر قسم کا امن حاصل ہوا برکہ خان کے ایک رشتہ دار کو ہلاکو خان نے ہلاک کر دیا تھا۔ اس لیے برکہ خان نے ناراض ہو کر بوقا خان کو تیس ہزار سوار دے کر ہلاکو خان کے ملک پر حملہ کرنے کو بھیجا۔ ہلاکو خان نے بھی مقابلہ پر ایک سردار کو روانہ کیا۔ لیکن ہلاکو خان کو شکست ہوئی۔ ۶۶۱ھ میں ہلاکو خان خود فوج لے کر برکہ خان کے ملک پر حملہ آور ہوا۔ اباقا خان کو فوج دے کر آگے روانہ کیا۔ اول ہلاکو خان کی فوج کو شکست ہوئی۔ لیکن پھر برکہ خان کا لشکر منہزم ہوا۔ برکہ خان کے بعد جوجی خان کی اولاد میں ۳۲ شخص تخت نشین ہوئے۔ برکہ خان کے بعد اس کا بیٹا منکور خان تخت نشین ہوا۔ اس کے بعد تو قتائی خان تخت نشین ہوا۔ ۷۰۳ھ میں تو قتائی خاں اور تو قائی خاں کے درمیان سخت جنگ واقع ہوئی۔ تو قتائی خاں نے فتح مند ہو کر اطمینان سے حکمرانی و فرماں روائی شروع کی اور غازان خان کو لکھا کہ ہلاکو خان اور اس کی اولاد نے غاصبانہ طور پر آذر بائیجان کو اپنی حدود حکومت میں شامل کر لیا ہے حالانکہ آذر بائیجان کا ملک تقسیم چنگیزی کے موافق جوجی خان کی اولاد کا حق ہے۔ مناسب یہ ہے کہ آپ آذر بائیجان کا ملک ہمارے سپرد کر دیں۔ رونہ پھر آپ کو معلوم ہے کہ ہم بزور شمشیر اس پر قبضہ کر لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ غازان خان نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ اور مقابلہ پر آمادگی ظاہر کی۔ مگر پھر جنگ و جدل تک نوبت نہیں پہنچی۔ اور شروع ہونے والی جنگ رفت و گذشت ہو گئی۔ اور توقتائی خان نے مل کر آذر بائیجان کا خیال چھوڑ دیا۔ قتائی خان کی وفات کے بعد اس کا بیٹا طغرل خان تخت نشین ہوا۔ طغرل خان کی وفات کے بعد اس کا بیٹا اوزبک خان تخت نشین ہوا۔ اوزبک بہت نامور شخص ہوا ہے اس کی حکومت جوجی خان کی اولاد کے ساتوں قبیلوں پر تھی۔ اسی کے نام پر قوم اوزبک موسوم ہوئی۔ اوزبک خان کے اولاد بہت بھی۔ اور وہ سب قوم اوزبک کے نام سے مرسوم ہوئی ۷۱۸ھ میں اوزبک نے سلطان ابوسعید بہادر خان بادشاہ ایران پر فوج کشی کی ادھر سے سلطان ابوسعید بہادر خان بھی مقابلہ پر مستعد ہوا۔ مگر اوزبک خان لوٹ مار کر کے فوراً واپس چلا گیا ۷۲۵ھ میں اوز بک خان دوبارہ ایران پر فوج کشی کی۔ سلطان ابوسعید خان یہ خبر سن کر مقابلہ پر گیا۔ اسی سفر میں سلطان ابوسعید بہادر خان کا انتقال ہوا۔ اور ارپا خان اس کی جگہ تخت نشین ہو کر مقابلہ پر آمادہ ہوا۔ اس کے بعد اوزبک خان واپس ہوا۔ اور عرصہ تک حکومت کرنے کے بعد فوت ہوا۔ اس کے بعد بیگ خان اوزبک تخت نشین ہوا۔ اس کے زمانے میں جوجی خان کی اولاد یعنی ازبک قبیلہ کے متعدد اشخاص نے اپنی اپنی الگ الگ حکومتیں قائم کیں۔ جانی بیگ خان کے بعد اس کا بیٹا بیردی بیگ خان تخت نشین ہوا۔ ۸۰۹ھ میں تبریز میں ایک بادشاہ شادی خان ازبک برسر حکومت تھا۔ اسی طرح ارس خان ازبک تیمور صاحب قران کے زمانے میں موجود تھا۔ ارس خان ازبک کا بیٹا تیمور ملک خان ازبک تھا۔ اس کا جانشین توقتمش خان ازبک تھا۔ جس کی دشت قبچاق پر حکومت تھی۔ اور جس نے امیر تیمور صاحب قران سے جنگ کر کے شکست کھائی تھا۔ فولاد خان ازبک ۸۱۵ھ میں ترکستان پر قابض و حاکم تھا۔ سلطان سعید مرزا شاہ رخ نے اس کے خاندان کی ایک لڑکی سے شادی کی تھی۔ فولاد خان کے بعد محمد خان ازبک تخت نشین ہوا۔ براق خان ازبک جو ارس خان کی اولاد سے تھا۔ مرزا الغ بیگ تیموری سے مدد لے کر محمد خان ازبک پر حملہ آور ہوا اور ۸۲۸ھ میں فتح یاب ہو کر ترکستان پر قابض اور تخت نشین ہوا۔ اس کے بعد الغ بیگ خان تیموری اور براق خان کے درمیان ناچاقی ہوئی۔ اور نوبت محاربہ و قتال تک پہنچی۔ اتفاق سے الغ بیگ کی فرستادہ فوج نے شکست کھائی۔ اس شکست کا حال سن کر سلطان سعید مرزا شاہ رخ نے خود فوج کشی کی اور الغ بیگ کو مورد عتاب بنایا۔ مرزا شاہ رخ کی فوج کشی کا حال سن کر براق خان سمرقند سے واپس چلا گیا۔ اور مقابلہ میں مصلحت نہ سمجھی لیکن ۸۳۲ھ میں سلطان محمود خان اور براق خان مقتول ہوا۔ اور سلطنت ازبکیہ کا خاتمہ ہوا۔ چند روز تک پریشان و منتشر رہے۔ اس کے بعد ۸۵۵ھ میں سلطان ابو الخیر خان اور بداق خان ازبک نے سمرقند پر قبضہ کر کے اپنی حکومت و سلطنت قائم کی۔ ابو الخیر خان کا بیٹا بداق خان اور بداق خان کا بیٹا سلطان ابو الفتح محمد خان تھا۔ جو ظہیر الدین بابر کا ہم عصر تھا۔ اسی سلطان ابو الفتح محمد خان اوزبک کو شیبانی خان ازبک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ اسمٰعیل صفوی کے مقابلہ میں مقتول ہوا۔ بڑا صاحب داعیہ اور بہادر شخص تھا۔ اسی نے بابر کو ترکستان و فرغانہ سے بے دخل کر کے بھگا دیا تھا۔ اسی کے کاسہ سر کی ہڈی پر سونے کے پتر چڑھوا کر اسمٰعیل صفوی نے شراب خوری کا پیالہ بنوایا تھا۔۱؎ اس کو شیبانی خان اس لئے کہتے تھے۔ کہ اس کے اجداد میں کسی شخص کا نام شیبانی خان تھا۔ سلطان ابو الفتح محمد خان ازبک ۹۱۷ھ میں مقتول ہوا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے تیمور سلطان کو ازبکوں نے اپنا بادشاہ بنایا۔ ۹۳۵ھ میں ازبکوں نے طہماسپ صفوی پر ایک سخت حملہ کر کے اس کو شکست دے دی تھی۔ مگر بعد شکست دینے کے وہ لوٹ مار میں مصروف ہو گئے۔ اور طہاسپ نے موقعہ پا کر بے خبری میں حملہ کر کے ازبکوں کی فتح کو شکست سے تبدیل کر دیا۔ جانی بیگ خان کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ جانی بیگ خان کا بیٹا اسکندر خان تھا۔ اسکندر خان کا بیٹا ۱؎تاریخ میں بادشاہوں نے مفتوح بادشاہوں اور اپنے دشمنوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے‘ یہ واقعہ اس کی ایک معمولی مثال ہے۔ ایسے متکبر و رعونت پسند بادشاہ اگر مفتوح بادشاہوں و اقوام کے حال اور انجام پر اگر غور کرتے تو ان کے حالات زندگی اور انجام سے ان کو بہت کچھ سبق مل جاتا لیکن حکومت‘ طاقت اور شراب کے نشہ نے ان کو ایسے غور و فکر کا موقع ہی نہیں دیا۔ عبداللہ خان تھا۔ عبداللہ خان ازبک نے ایرانیوں کو شکست فاش دی۔ عبداللہ خان ازبک ہندوستان کے بادشاہ اکبر کا معاصر تھا۔ اکبر کے ساتھ اس کی اکثر خط و کتابت رہتی تھی۔ عبداللہ خان نے ۱۰۰۶ھ میں وفات پائی اس کے بعد اس کا بیٹا عبدالمومن خان تخت نشین ہوا۔ مگر چند روز کے بعد اپنے چچا رستم سلطان کے ہاتھ سے مارا گیا۔ اس کے بعد سلطنت ازبکیہ کے ٹکڑے ہو گئے عبداللہ خان کے خواہر زادہ ولی محمد خان نے عبدالمومن خان کے بعد ترکستان پر قبضہ کر کے امام قلی خان کو ماوراء النہر کی حکومت سپرد کی اور اپنے خواہر زادہ نذر محمد خان کو بد خشان وغیرہ کا علاقہ سپرد کیا۔ ولی محمد خان کو چند روز کے بعد نذر محمد خان نے بے دخل کر دیا۔ اس نے ایران میں جا کر شاہ عباس کے ہاں پناہ لی۔ اس طرح ازبکوں کی ایک سلطنت خوارزم میں بھی قائم تھی۔ مگر وہ کچھ زیادہ طاقتور اور قابل تذکرہ نہیں ہوئے۔ جوجی خان ابن چنگیز خان کی اولاد کے حالات مؤرخین نے مسلسل نہیں لکھے۔ اس جگہ ازبکوں کے ضروری اشخاص کا تذکرہ آ چکا ہے۔ اور آئندہ ان کے ہم عصر سلاطین کے حالات میں جب ان لوگوں کے نام آئیں گے۔ تو سمجھنے میں بہت آسانی ہو گی۔ اسی لیے اس سلسلہ کو دور تک پہنچا دیا۔ جوجی خان کی اولاد میں علاوہ قبیلہ ازبک کے ایک اور قبیلہ قوم قزاق کے نام سے مشہور تھا۔ قبیلہ قزاق کے بعض اشخاص نے دشت قبچاق یا اس کے بعض حصوں پر حکومت کی۔ چنانچہ اسی قبیلہ کے ایک بادشاہ قائم سلطان قزاق کی شیبانی خان یعنی سلطان محمد خان ازبک سے لڑائیاں ہوئی تھیں اب ہم کو چنگیز خان کے بیٹے چغتائی خان کی اولاد کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔