مصر و شام کی اسلامی تاریخ کا اجمالی تتمہ

دولت مملوکیہ مصر /طبقہ دوم دولت قلائونیہ

ملک عادل بدر الدین کے بعد ابو المعانی ملک منصور قلائون اسی سلسلہ انتخاب کے ذریعہ مصر کا بادشاہ منتخب ہوا مگر اس کے بعد چونکہ اسی کے خاندان کو عرصہ دراز تک لوگوں نے حکومت مصر کے لئے منتخب کیا اور اس لئے یہ مملوکیوں کے طبقہ دوم کا پہلا بادشاہ سمجھا گیا اس نے ۶۷۸ھ ھ سے ۶۸۹ھ تک گیارہ سال حکومت کی۔ اس کے زمانے میں سلطنت مصر کا رقبہ کسی قدر وسیع ہوا۔ اس کے بعد ملک اشرف صلاح الدین خلیل تخت نشین ہوا۔ اس نے چند روز کے بعد خود سلطنت سے دست کشی اختیار کی۔ مگر لوگوں نے مجبور کر کے اس کو پھر تخت سلطنت پر بٹھایا اور ۴۴ سال کی حکومت کے بعد ۷۳۷ھ میں فوت ہوا۔ اس کے بعد ملک عادل کتبغا منصوری تخت سلطنت کے لئے منتخب ہوا۔ مگر اس کو ایک مہینہ بھی حکومت کا موقعہ نہ ملا۔ اس کے بعد ملک منصور حسام الدین بادشاہ بنایا گیا۔ دو برس کے بعد وہ بھی مقتول ہوا۔ اس کے بعد ملک ناصر محمد بن قلائون تخت نشین ہوا۔ اس کے بعد ملک مظفر رکن الدین ایک سال کے لئے منتخب ہوا۔ اس کے بعد ۷۴۱ھ میں ملک منصور ابوبکر بادشاہ بنایا گیا مگر دو ہی مہینے کے بعد اس کو جلا وطن کیا گیا۔ اس کے بعد ملک اشرف کو بادشاہ بنایا گیا۔ مگر آٹھ مہینے کے بعد وہ بھی جلا وطن ہوا۔ پھر ۷۴۲ھ میں ملک ناصر احمد تخت نشین ہوا۔ ۷۴۵ھ میں اس کے مقتول ہونے پر ابو الفدا ملک صالح اسمٰعیل تخت سلطنت پر متمکن ہوا۔ اس نے صرف ایک سال حکومت کی۔ یہ وہی ابوالفدا ہے جس نے وہ مشہور تاریخ لکھی جو تاریخ ابوالفدا کے نام سے مشہور ہے اور نہایت معتبر و مستند تاریخ سمجھی جاتی ہے۔ ۷۴۶ھ میں ملک کامل شعبانی تخت نشین ہو کر چند ماہ کے بعد معزول ہوا۔ ۷۴۷ھ میں ملک مظفر حاجی تخت نشین ہوا۔ اور ایک ہی سال کے اندر قتل کیا گیا ۷۴۸ھ میں ملک ناصر حسن تخت نشین ہوا۔ قریباً ۱۴ سال حکومت کی آخر یہ بھی مقتول ہوا۔ اس کے بعد ملک صالح ۷۶۲ھ میں تخت نشین ہو کر ۷۶۵ھ میں معزول کیا گیا اور اس کی جگہ ملک منصور بن حاجی کو تخت سلطنت ملا۔ دو برس کے بعد وہ بھی معزول ہوا اور تخت سلطنت ملک اشرف شعبان کے حصے میں آیا گیارہ سال کے بعد وہ بھی مقتول ہوا۔ اور اس کی جگہ ملک منصور علی ۷۷۸ھ میں تخت نشین ہو کر پانچ سال کے بعد فوت ہوا اور اس کے بعد ۷۸۳ھ میں صالح حاجی تخت نشین ہوا اور آٹھ نو سال کے بعد خود تخت سلطنت سے دست بردار ہو کر دولت قلائونیہ کا خاتمہ کر گیا۔ یہ سلطنت قریباً ۱۱۴ سال تک قائم رہی۔ اس طبقہ اور طبقۂ اول میں حکومت و سلطنت کے اعتبار سے کوئی فرق نظر نہیں آتا۔