رومی سلطنت
ارخان
عثمان خان کا بڑا بیٹا علائو الدین تھا اور چھوٹا ارخان تھا۔ علائو الدین اگرچہ علم و فضل عقل و بصیرت اور ہمت و استقلال میں بے نظیر تھا۔ مگر ارخان کے فوجی اور جنگی کارنامے سب سے بڑی سفارش اس امر کی ہوئے کہ عثمان خان نے ارخان کو اپنا جانشین تجویز کیا۔ عثمان خان کی وفات کے بعد قوی احتمال ہو سکتا تھا۔ کہ دونوں بھائی تخت و تاج کے لئے آپس میں لڑیں گے۔ مگر بڑے بھائی علائو الدین نے جو ہر طرح سلطنت کی قابلیت رکھتا تھا اپنے بڑے ہونے کے حق فائق کو باپ کی وصیت کے مقابلے میں بالکل ہیچ سمجھا اور نہایت خوشی کے ساتھ بھائی کو تاج و تخت کی مبارک باد دے کر اس کے ہاتھ پر اطاعت کی بیعت کی اور اپنے لئے صرف اسی قدر کافی سمجھا کہ بروصہ کے متصل اس کو صرف ایک گائوں گزارہ کے لئے بطور جاگیر دے دیا جائے۔ ارخان بھی اپنے بھائی کی قابلیت اور پاک باطنی سے واقف تھا۔ اس نے بہ منت عرض کیا اور اراکین سلطنت کو سفارشی بنایا کہ وزارت قبول فرما لیجئے۔ علائو الدین کے لئے اپنے چھوٹے بھائی کا وزیر بننا موجب عزت نہ تھا۔ لیکن اس نے بھائی کے اصرار پر اس عہدے کو قبول کر لیا اور اس خوبی اور نیک نیتی کے ساتھ مہمات سلطنت کو انجام دیا کہ دنیا کے پاک باطن اور عالی دماغ وزیروں کی فہرست میں اس کا نام اگر سب سے پہلے لکھا جائے تو کچھ بے جا نہیں ہے۔
سلطان ارخان نے تخت نشین ہوتے ہی ایک سال کے اندر تمام ایشیائے کوچک فتح کر کے درہ دانیال کے ساحل تک اپنی سلطنت کو وسیع کر لیا اور ایشیائے کوچک کو بتمامہ عیسائی حکومت سے پاک کر
۱؎عیسائیوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو زیر کرنے اور انہیں اپنی طرف مائل کرنے کے لیے ہمیشہ سازشوں اور دھوکہ دہی سے کام لیا ہے۔ یہ باطل کی پہچان ہے کہ وہ دھوکہ و فریب اور سازشوں سے کام لے کر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ حق اور طاقتور دلائل اپنا آپ منواتے ہیں اور یہ چیزیں عیسائیوں کے پاس موجود نہیں۔
کے اپنے بھائی علائو الدین کے مشورے سے اپنی مملکت میں ایسے آئین و قوانین جاری کئے جس سے سلطنت کو استحکام حاصل ہوا۔ اس وقت تک یہ دستور تھا کہ بہادر و جنگ جو سرداروں کو ملک کے چھوٹے چھوٹے قطعات بطور جاگیر دے دئیے جاتے تھے۔ ان جاگیروں کا سرکاری محصول یا لگان یہی تھا کہ ضرورت کے وقت بادشاہ کے طلب کرنے پر مقررہ تعداد کی فوج لے کر بادشاہ کے ساتھ میدان جنگ میں داد شجاعت دیں اور جنگ کے ختم ہونے پر یہ فوج منتشر ہو کر اپنے اپنے مسکن کی طرف چلی جائے۔ جو لوگ ایک وقت میں کاشتکاریا چوپان ہوتے تھے۔ دوسرے وقت میں مسلح سپاہی کی حیثیت سے داد شجاعت دیتے ہوئے نظر آتے اور جو سردار ایک وقت میں زمیندار یا جاگیر دار ہوتے تھے۔ دوسرے وقت میں وہی سپہ سالار نظر آتے تھے۔ ایشیائے کوچک میں پہلے ہی سے مسمانوں کی بڑی تعداد آباد تھی اور ان میں ترک خاندانوں کا زیادہ حصہ شامل تھا کیونکہ معتصم باللہ عباسی کے زمانے سے ایشیائے کوچک کے اندر سرحدی شہروں میں ترکوں کے آباد کرنے کا سلسلہ جاری کر دیا گیا تھا۔ سلجوقیوں کے عہد حکومت میں بہت سے قبائل ترکستان سے آ آ کر ایشیائے کوچک میں آباد ہوئے تھے۔ سلاجقہ روم کی حکومت نے بھی بہت سے اپنے ہم وطنوں یعنی ترکوں کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ ترکان غز کی ترک تاز اور مغلوں کے حملوں نے بھی خراسان‘ ایران اور عراق کی طرف سے ترکوں کو اس طرف ریل دیا تھا۔ اس طرح ایشیائے کوچک کا تمام مشرقی حصہ جو اکثر مسلمانوں کے قبضے میں رہا تھا۔ ترک قبائل سے پرتھا صرف شمالی و مغربی ایشیائے کوچک میں عیسائیوں کی کثرت تھی۔