سلطان محمد فاتح کے بعد خانہ جنگی
فتح مصر و شام
اوپر کسی باب میں ذکر آچکا ہے کہ خاندان ایوبیہ کے ساتویں بادشاہ الملک الصالح نے مصر میں ممکوکی فوج قائم کی تھی جس کو غلاموں کی فوج کہنا چاہیے‘ بہت جلد ان غلاموں نے مصر کے تخت پر قبضہ کر لیا اسی زمانہ کے قریب ہندوستان میں بھی غلاموں کا خاندان فرماں روا تھا‘ لیکن یہاں ہندوستان میں غلاموں کے خاندان کے صرف دو بادشاہ غلام تھے‘ باقی انہیں غلاموں کی اولاد نسلاً بعد نسل تخت نشین ہوتی رہی‘ مصر میں اس کے خلاف یہ دستور قائم ہوا تھا کہ ایک فرمانروا کے فوت ہونے پر غلاموں ہی میں سے کسی کو منتخب کر کے تخت حکومت پر بٹھایا جائے مصر کے یہ غلام بادشاہ مملوکی کہلاتے تھے‘ سلطان سلیم کے زمانہ تک ان کی سلطنت مصر میں قائم تھی اور انہی سلاطین مصر کی حفاظت میں عباسی خلفاء مصر کے اندر رہتے تھے مصر کی مملوکی سلطنت بھی بڑی شان دار اور معزز سلطنت تھی ان مملوکیوں نے عالم اسلام کی دو سب سے بڑی اور اہم خدمات انجام دی تھیں‘ ایک تو انھوں نے فلسطین و شام کو عیسائیوں کے حملوں سے بچایا اور ہمیشہ کے لئے صلیبی چڑھائیوں کا استیصال کر دیا دوسرے انھوں نے مغلوں کے سیلاب عظیم کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور چنگیز و ہلاکو وغیرہ کی فوجوں کو شکست دے کر بھگا دیا‘ عجب بات ہے کہ ان فتح مند مغلوں نے مصر کے غلاموں یعنی مملوکیوں سے جس طرح شکست کھائی اسی طرح ہندوستان کے غلام خاندان سے انھوں نے ہمیشہ نیچا دیکھا گویا ان کی قسمت میں یہی لکھا تھا کہ وہ مسلمانوں کے معزز ترین اور اعلیٰ خاندانوں کو برباد کریں‘ لیکن جب مسلمانوں کے غلاموں سے معرکہ آراہوں تو شکست کھا کر بھاگیں۔
بہرحال مصر کی مملوکی سلطنت مصر و شام و حجاز پر حکمران اور قدیم سے سلاطین عثمانیہ کے ساتھ کوئی پر خاش نہیں رکھتی تھی‘ سلطان فاتح کے بعد جب سلطان بایزید ثانی تخت نشین ہوا اور شہزادہ جمشید شکست کھا کر مصر پہنچا تو دربار قاہرہ کے تعلقات دربار قسطنطنیہ کے ساتھ پہلی مرتبہ کشیدہ ہوئے اور جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے جنگ و پیکار تک نوبت پہنچی‘ اس موقعہ پر سلطنت عثمانیہ کو مملوکیوں سے نیچا دیکھنا اور نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ اب سلطان سلیم کے تخت نشین ہونے کے بعد مثل دوسری سلطنتوں کے مملوکی بھی اس نئے سلطان کی حرکات کو بغور دیکھ رہے تھے‘ انھوں نے جب اسمٰعیل صفوی کی شکست اور سلیم کی فتوحات کا حال سنا تو اب ان کو یہ فکر ہوئی کہ سلیم اب ہم سے چھیڑ چھاڑ کئے بغیر نہ رہے گا اس لئے کہ دیاربکر وغیرہ صوبے جو سلطنت عثمانیہ میں شامل ہو چکے تھے‘ انھوں نے مملوکیوں کے مقبوضہ ملک یعنی شام کو سلطنت عثمانیہ سے اور بھی زیادہ قریب کر دیا تھا ان کو یہ بھی محسوس ہو چکا تھا کہ سلطان سلیم ضرور ان شہروں اور قلعوں کے واپس لینے کی کوشش کرے گا جو مملوکیوں نے سلطان بایزید ثانی سے چھین لئے تھے‘ ادھر شاہ اسمٰعیل صفوی نے سلطان سلیم سے شکست فاش کھانے کے بعد اپنے ایلچی مصر کے سلطان قانصوہ غازی کے پاس بھیجے اورعہدنامہ صلح قائم کرنا چاہا مملوکی امیر کو اسمٰعیل صفوی کے سفیر کی مدارات کرنے اور معاہدہ صلح کے قائم کرنے میں کوئی تامل نہ ہوا‘ اسمٰعیل صفوی کے سفیر نے قانصورہ غازی کو اور بھی زیادہ ان خطرات کی طرف توجہ دلائی جو سلطان سلیم سے سلطنت مصر کے لئے پیدا ہو سکتے تھے‘ ان مذکورہ و جوہات سے یا کسی اور سبب سے یہ ضرور ہوا کہ امیر کبیر قانصوہ غازی سلطان مصر خود شہر حلب میں آ کر مقیم ہوا اور اس نے سرحد شام پر مناسب فوجیں فراہم و متعین کر دیں‘ جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ سلطان سلیم ملک شام پر حملہ نہ کرے اور یہ بھی ہو سکتا تھا کہ موقعہ پا کر مملوکی سلطنت خود ایشیائے کوچک کے مشرقی حصہ پر حملہ آور ہو‘ بہرحال سلطان سلیم کا غالباً یہ خیال نہ تھا کہ وہ مملوکی سلطنت پر حملہ کرے‘ کیوں کہ مملوکی بہت پابند شرع اور سلطان سلیم کے ہم عقیدہ و ہم مذہب تھے‘ مگر اسمٰعیل صفوی کی خفیہ تدابیر نے اس جگہ بخوبی کامیابی حاصل کی اور مملوکی بے چارے شاہ ایران کی چالاکی کے فریب میں آ کر ناحق مارے گئے۔
سلطان سلیم ایران کی طرف سے واپس آ کر قسطنطنیہ میں مقیم اور اندرونی انتظامات میں مصروف تھا اب اس کے لئے سوائے مغربی حدود اور عیسائی سلطنتوں کے اور کوئی چیز جاذب توجہ نہ تھی اس کے باپ دادا کئی پشتوں سے یورپ کے عیسائیوں سے دست و گریبان چلے آتے تھے‘ سلیم کے لئے سوائے یورپی ممالک کے اب کوئی علاقہ ایسا نہ تھا کہ وہ اس کا لالچ کرتا‘ لیکن ۹۲۲ھ میں اس کے پاس یکایک اس کے گورنر سنان پاشا کی ایک تحریر پہنچی (سنان پاشا ایشیائے کوچک کے مشرقی حصہ کا حاکم و سپہ سالار تھا) کہ میں آپ کے حکم کی تعمیل میں وادی فرات کی جانب فوج لے جانے سے اس لئے قاصر ہوں کہ سرحد شام پر مملوکی فوجیں موجود ہیں اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ میرے یہاں سے غیر حاضر ہوتے ہی وہ شاید ایشیائے کوچک کے مشرقی حصہ پر حملہ آور ہو جائیں‘ اس تحریر کو پڑھ کر سلطان سلیم نے قسطنطنیہ میں اپنے تمام سرداروں‘ عالموں اور وزیروں کو جمع کر کے ایک مجلس مشورت منعقد کی اور ان سے پوچھا کہ ہم کو مملوکیوں کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے‘ اس مسئلہ پر دیر تک گفتگو ہوتی رہی‘ آخر اس کے میر منشی محمد پاشا نے ایک پر جوش اور زبردست تقریر میں بیان کیا کہ سلطان عثمانی کو ضرور اپنی طاقت کا اظہار کرنا چاہیے اور حقیقت یہ ہے کہ مملوکی سلطان عثمانی کے سامنے ہرگز اس بات کے مستحق نہیں ہیں کہ وہ حرمین شریفین کے خادم ہوں اور ملک حجاز کو اپنے قبضہ میں رکھیں‘ سلطان عثمانی کو یہ شرف ضرور حاصل کرنا چاہیے اور اس کا حاصل کرنا عین خدمت اسلامی ہے اور اس کے لئے مملوکیوں سے لڑنا بالکل جائز اور مناسب ہے‘ چنانچہ سلطان نے اس رائے کو بہت ہی پسند کیا اور اپنے میر منشی کو اسی وقت وزیراعظم بنا دیا۔
سلطان سلیم نے مصر کی سلطنت مملوکیہ سے جنگ کا مصمم ارادہ کر کے اول ایک سفارت امیر قانصوہ غازی کے پاس روانہ کی اور پیغام بھیجا کہ تم ہماری اطاعت و فرماں برداری قبول کر کے اظہار اطاعت کے لئے خراج گذاری قبول کرو‘ ورنہ ہم فوج کشی کر کے تم سے ملک چھین لیں گے‘ سلطان کے سفیر جب حلب میں قانصوہ غازی کے پاس پہنچے تو وہ بہت برا فروختہ ہوا اور سفیروں کو قید کر لیا‘ بس اتنا بہانہ فوج کشی کے لئے کافی تھا سلطان فوراً قسطنطنیہ سے فوج لے کر روانہ ہوا‘ جب عثمانیہ لشکر قریب پہنچا‘ تو مملوکی سلطان گھبرایا اور اس نے مصلحت مصالحت ہی میں دیکھی‘ چنانچہ عثمانی سفیروں کو آزاد کر کے ان کے ہاتھ صلح کا پیغام بھیجا۔ مگر اب یہ کوشش بے سود تھی‘ سلطان سلیم برابر بڑھتا چلا گیا۔ حلب کے قریب میدان مرج وابق میں جہاں حضرت دائود uکی قبر ہے دونوں فوجیں جنگ خالدران سے پورے دو سال کے بعد ۲۴ اگست ۱۵۱۶ء مطابق ۹۲۲ھ کو ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوئیں۔ مملوکی اپنی شجاعت و بہادری میں ہرگز عثمانیوں سے کم نہ تھے ان کی بہادری کی عام طور پر ہر ملک کے مؤرخین نے تعریف کی ہے‘ لیکن اس زمانہ میں ان کے اندر آپس کے اختلاف پیدا ہو چکے تھے اور اندرونی رقابتوں نے ان کی مشہور و مسلم بہادری کے اظہار کا موقع ضائع کر دیا تھا‘ چنانچہ سلطان سلیم کی کثیر التعداد فوج کے مقابلہ میں مملوکی لشکر پر آثار ہزیمت نمایاں ہوئے اور مملوکی سلطان جو بہت بوڑھا شخص تھا‘ نہایت جرات و ہمت کے ساتھ لڑتا ہوا میدان جنگ میں مارا گیا مملوکی سلطان کے مارے جانے کی خبر مملوکی لشکر میں مشہور ہوئی تو ان کے پائوں اکھڑ گئے اور سلطان سلیم آگے بڑھ کر حلب پر قابض ہو گیا۔
اس شکست سے مملوکیوں کی ہمت مطلق پست نہیں ہوئی کیوں کہ وہ عثمانیوں کو اپنی برابر بہادر نہیں جانتے تھے‘ قانصوہ غازی کے مارے جانے پر تمام سردار ان لشکر قاہرہ کی طرف اس لئے چلے گئے کہ وہاں جدید سلطان کا انتخاب کریں‘ مملوکیوں میں چوبیس سردار اعلیٰ درجہ کے ہوا کرتے تھے جو اس بات کا حق رکھتے تھے کہ ایک سلطان کے فوت ہونے پر اتفاق رائے سے کسی شخص کو اپنا سلطان منتخب کریں‘ چوبیس سرداروں کا ایسے انتخاب کے موقعہ پر دارالسلطنت قاہرہ میں موجود ہونا ضروری تھا لہٰذا مملوکیوں کے ایسے بڑے بڑے تمام سرداروں کو فوراً قاہرہ کی طرف جانا ضروری ہو گیا کہ جلد از جلد نیا سلطان منتخب ہو سکے۔ بڑے بڑے سرداروں کی غیرموجودگی میں شام کا ملک سلطان سلیم کے لیے خود بخود خالی تھا‘ لہٰذا اس کو اس فرصت میں شام کے شہروں پر قبضہ کرنے کا خوب موقعہ مل گیا اور دمشق و بیت المقدس وغیرہ سب سلطان کے قبضے میں آ گئے۔ جنگ حلب کے بعد کوئی بڑی مزاحمت مملوکیوں کی طرف سے ملک شام میں نہ ہو سکی۔
ادھر قاہرہ میں مملوکیوں نے طومان بے کو اپنا سلطان منتخب کیا اس نے سلطان منتخب ہوتے ہی ایک زبردست فوج مصر و شام کے سرحدی مقام قلعہ غزا کی طرف بھیج دی‘ کہ سلیم کو مصر کی طرف پیش قدمی کرنے سے روکے اور خود قاہرہ کے قریب تمام افواج کو فراہم کرنے میں مصروف ہوا‘ اس فرصت میں سلطان سلیم کی خوش قسمتی کا دمشق و شام میں یہ اظہار ہوا کہ مصری سلطنت کا ایک بہت بڑا خزانہ جو شہر دمشق میں جمع تھا سلطان کے ہاتھ آ گیا بڑے بڑے شہروں سے جو مال غنیمت سلطان کے ہاتھ آیا تھا اس کے علاوہ صرف دمشق کے اس خزانہ میں ستر لاکھ روپیہ سے زیادہ موجود تھا‘ یہ خزانہ سلطان کی آئندہ فتوحات کے لیے بہت مفید ثابت ہوا‘ اور سلطان نے اس سے فائدہ اٹھانے اور اس کے صحیح استعمال کرنے میں کسی بخل و کنجوسی کو مطلق دخل نہیں دیا‘ اہل شام کے قلوب کو اپنی طرف مائل کرنے کی سلطان نے بہت ہی باموقعہ کوشش کی‘ اور عالموں‘ خطیبوں‘ درویشوں‘ قاضیوں کو انعام و اکرام سے مالا مال کر دیا‘ مساجد‘ مدارس‘ پل اور رفاہ رعایا کے لیے بڑی بڑی رقمیں عطا کیں اور مصر پر حملہ آور ہونے کے لیے بار برداری کے اونٹ اور ہر قسم کا ضروری سامان فراہم کر لیا‘ مصریوں کی فوج شہر غزہ پر جو مصر کی سرحد سمجھا جاتا تھا آ گئی‘ ادھر سلطان سلیم اپنی فوج کو لیے ہوئے شام کے آباد اور سر سبز مقامات سے گذرتا ہوا جب ریگستان میں داخل ہونے لگا تو بڑی احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ اونٹوں پر پانی لاد کر ساتھ لیا اور سپاہیوں کو انعامات تقسیم کر کے ان کا دل بڑھایا‘ سنان پاشا کو توپ خانہ دے کر ایک زبردست حصہ فوج کا سپہ سالار بنایا اور بطور ہر اول آگے روانہ کیا اور خود بقیہ تمام فوج لے کر بڑے اہتمام و انتظام کے ساتھ روانہ ہوا‘ ریگستان کا سفر دس روز کا تھا جو بحسن و خوبی طے ہوا سنان پاشا نے مقام غزہ میں پہنچ کر مصری فوج کا جو سپہ سالار غزالی کے ماتحت صف آرا تھی مقابلہ کیا‘ مملوکی لشکر بڑی بے جگری اور بہادری کے ساتھ حملہ آور ہوا مگر سنان پاشا نے اپنی توپوں کو میدان میں جما کر ایسی سخت گولہ باری کی اور اس طرح توپوں میں گراب بھر بھر کر چلایا کہ مصری لشکر عثمانی لشکر تک پہنچنے سے پہلے ہی میدان میں بھون ڈالا گیا مملوکی توپوں کے استعمال سے ناواقف اور اپنے پاس کوئی توپ خانہ نہ رکھتے تھے اس طرح جب کہ بارود کی طاقت جوان مردوں کے قلب کی طاقت یعنی بہادری پر غالب آ گئی اور میدان عثمانیہ لشکر کے ہاتھ آیا تو ان کے دل بہت بڑھ گئے‘ اور مملوکیوں کی جو ہیبت عثمانیہ لشکر پر چھائی ہوئی تھی یک لخت دور ہو گئی۔