ہجرت کا تیسرا سال

یہودیوں کا معاندانہ رویہ

عبداللہ بن ابی ابن سلول کا ذکر اوپر آ چکا ہے کہ مدینہ والے اس کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریف لے جانے سے اس کی بادشاہت خاک میں مل گئی تھی‘ اس کو مسلمانوں سے دلی عداوت تھی‘ مگر چونکہ آدمی عقل مند تھا اس نے اپنی عداوت کو چھپایا‘ پھر قریش مکہ کے ساتھ ساز باز شروع کر کے مدینہ والوں کو علانیہ مسلمانوں کے مقابلہ پر ابھارنا چاہا‘ مگر ناکام رہا‘ اب مسلمانوں کی فتح بدر کو دیکھ کر وہ بہت مرعوب ہوا اور بظاہر اسلام قبول کر لیا لیکن دل میں چونکہ حسد اور دشمنی رکھتا تھا لہذا اس ظاہری طور پر داخل اسلام ہونے سے اس کو کوئی فائدہ نہ پہنچا بلکہ اس کی عداوت اور دشمنی مسلمانوں کے لیے پہلے سے زیادہ خطرناک و مضرت رساں ثابت ہوئی‘ اس کے زیر اثر جس قدر مشرکین ابھی تک شرک پر قائم اور مسلمانوں کے دشمن تھے ان کو بھی اس نے ظاہری طورپراسلام قبول کر لینے کا مشورہ دیا‘ اس قسم کے لوگوں کا وہ سردار‘ پیشوا بنا رہا‘ اس گروہ کو منافقین کا گروہ کہا جاتا ہے‘ ان منافقوں کے گروہ میں بعض یہودی بھی شامل ہو کراور ظاہری طور پر مسلمان ہو کر فائدہ اٹھانے لگے۔ یہودیوں کا معاندانہ رویہ یہودی بھی مسلمانوں کے اقتدار اور مذہب اسلام کی اشاعت کو بہت مکروہ سمجھتے تھے‘ اور ان کی عداوت عبداللہ بن ابی کی عداوت سے بڑھی ہوئی تھی‘ مدینہ کی متعلقہ بستیوں یا یوں سمجھئے کہ مدینہ کے نواحی محلوں میں یہودیوں کے تین قبیلے بہت طاقتور تھے اور اپنی جدا جدا گڑھیاں یا قلعے رکھتے تھے‘ ان تینوں قبیلوں کے نام یہ تھے‘ بنی قینقاع‘ بنی نضیر‘ بنی قریظہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ میں تشریف لاتے ہی جو معاہدہ مرتب فرمایا تھا اس میں یہودیوں یہ تمام قبیلے کے شامل تھے‘ قریش نے جس طرح عبداللہ بن ابی کے ساتھ ساز باز کی تھی اسی طرح وہ ان یہودیوں کو بھی برابر اپنا ہمساز بنانے میں مصروف رہے۔ یہودیوں کو چونکہ مسلمانوں کی ترقی دل سے نا پسند تھی لہذا وہ قریش کی ہمدردی اور مسلمانوں کی بربادی کے لیے برابر کوشاں رہے‘ اب جنگ بدر کے بعد ان کی عداوت مسلمانوں کے ساتھ اور بھی بڑھ گئی اورآتش حسد میں وہ جل کرکباب بن گئے۔ چنانچہ جب بدر سے فتح کی خوشخبری لے کر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں پہنچے تو کعب بن اشرف نامی ایک یہودی نے اس خبر کو سن کر سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تیرا برا ہو مکہ والے لوگوں کے بادشاہ اور اشراف عرب ہیں‘ اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ان لوگوں پر فتح پائی ہے ۔۔۔۔۔۔ تو پھر اس زمین پر رہنے کا کوئی لطف باقی نہیں رہا۔ جب اس خبر کی خوب تصدیق ہو گئی تو کعب بن اشرف مدینہ چھوڑ کر مکے کی جانب چلا گیا‘ مکہ میںجا کر اس نے مقتولین بدر کے نوحے لکھنے اور سنانے شروع کئے اور چند روز تک اپنے اشعار سنا سنا کر اہل مکہ کی آتش انتقام کے بھڑکانے میں مصروف رہا پھر مدینہ میں واپس آ کر مسلمانوں کے ہجو میں اشعار لکھتا‘ اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا رہا‘ ۱؎یہودی سب کے سب سود خور اور بڑے مال دار تھے‘ قبائل اوس اور خزرج یعنی انصار مدینہ ان یہودیوں کے مقروض اور مالی اعتبار سے ان کے دبیل تھے‘ یہودیوں کو اپنی دولت اور چالاکیوں پر بھی بڑا گھمنڈ تھا‘ وہ اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف جانتے تھے اور ہمسایہ قبائل کو جاہل اور بیوقوف سمجھ کر خاطر میں نہ لائے تھے۔ جنگ بدر کے بعد وہ پورے طور پر قریش مکہ کے ہمدرد و شریک کار بن گئے‘ عبداللہ بن ابی اور یہودیوں کے درمیان دوستی اور محبت قائم ہوئی اور مسلمانوں کے خلاف مدینہ کے منافقوں اور یہودیوں نے بڑی بڑی عظیم الشان اور خطرناک تدبیریں سوچیں اور قریش مکہ کی مہمات کو کامیاب بنانے کا اہتمام گویا اپنے ہاتھ میں لے لیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبولیت اور اثر کو مٹانے کے لیے عام طور پربد زبانیوں کا سلسلہ بھی برابر جاری کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں بھی آ آ کر ہتک آمیز اور بیہودہ کلمات کہنے شروع کئے‘ السلام علیکم کی جگہ السام علیکم (تم پر موت آئے) کہتے۔ را عنا (ہماری رعایت کیجئے یا ہماری بھی بات سنئے)کی جگہ رعن(احمق ہے) وغیرہ ناشائستہ الفاظ استعمال کرتے۔ منافقوں اور یہودیوں نے مل کریہ بھی منصوبہ گانٹھا کہ اول بظاہر مسلمان ہو جائواورپھر یہ کہہ کر کہ ہم نے مسلمان ہو کر دیکھ لیا ہے کہ یہ مذہب اچھا نہیں ہے‘ مرتد بن جائو‘ اس طرح ممکن ہے کہ بہت سے مسلمان بھی ہمارے ساتھ مرتد ہو جائیں اور ان کی جمعیت منتشر ہو جائے۔ غرض کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کے لیے مدینہ میں اب نہایت سخت اور نئی نئی مشکلات کا سامنا ہوا … رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں کے جلسوں اورمجمعوں میں خود جا جا کر ان کو نصیحتیں کیں اور کہا کہ تم خوب واقف ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اورتم خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کے آنے کا انتظار کر رہے تھے‘ تمہارا فرض تھا کہ سب سے پہلے میری تصدیق کرتے اور اپنی آسمانی کتاب میں لکھی ہوئی پیش گوئیوں کو تلاش کرتے‘ تم انکار و مخالفت میں ترقی کرتے جا رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ کے غضب سے ڈرو‘ ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اسی طرح عذاب الہی نازل ہو جس طرح ابوجہل و عتبہ وغیرہ کا انجام ہوا کہ میدان بدر میں ذلیل و نامراد ہو کر مرے‘ یہودیوں نے بجائے اس کے کہ نصیحت حال کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سخت و سست جواب دیے اورکہا کہ قریش مکہ تدبیرات جنگ ہی سے ناواقف تھے ہم سے جب مقابلہ کرو گے تو قدر عافیت معلوم ہو جائے گی‘ ہم کو قریش مکہ کی طرح نہ سمجھنا۔۱؎