ہجرت کا تیسرا سال

غزوہ احد (سنہ۔۳ ھ)

جنگ بدر کے بعد ایک طرف تو خود اہل مکہ کے دلوں میں آتش انتقام موجزن تھی ‘ دوسری طرف مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے ان کو برانگیختہ کرنے میں کوتاہی نہیں کی‘ تیسری طرف ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے‘ جس کے باپ اوربھائی اور بیٹا بدر میں قتل ہوئے تھے‘ ابوسفیان کو غیرتیں دلائیں۔ چنانچہ ابوسفیان‘ جو تمام سرداران مکہ کے مقتول ہونے کے بعد مکہ میں سب سے بڑا سردار سمجھا جاتا تھا‘ جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوا‘ تجارت شام کا قافلہ جو جنگ بدر کے قریب ابوسفیان کی نگرانی میں واپس آیا تھا‘ ۵۰ ہزار مثقال سونا‘ ایک ہزار اونٹ منافع میں لایا تھا‘ اس قافلہ کا یہ تمام مال اس کے مالکوں میں تقسیم نہیں کیا گیا‘ بلکہ یہ سب سامان جنگ کی تیاری و فراہمی میں لگا دیا گیا۔ ملک عرب کے دوسرے قبیلوں میں شعراء روانہ کئے گئے‘ انہوں نے لوگوں کو قریش کی امداد پر آمادہ کیا‘ چنانچہ تمام بنو کنانہ اور اہل تہامہ قریش کے شریک ہو گئے‘ قریش کے تمام حلیف قبائل نے ان کی مدد کی‘ احباش نام کے حلیف قبائل کو بھی شریک جنگ اور داخل فوج کیا گیا‘ رجز خواں مرد اور بہادری دلانے کے لیے عورتیں بھی ساتھ لے لی گئیں‘ غرض پورا سال مکہ والوں نے تیاریوں میں صرف کیا اور ان تیاریوں میں مدینہ کے یہودیوں اور منافقوں نے خفیہ طور پر ہر قسم کی خبریں پہنچا کر اور مشورے دے کر قریش کی سب سے زیادہ امداد کی۔ غرض تین ہزار جنگ جو اور نبرد آزما بہادروں کا لشکر ماہ شوال کی ابتدائی تاریخوں میں روانہ ہوا‘ جنگ بدر کے مقتول سرداران قریش کی لڑکیاں اور بیویاں بھی ہمراہ چلیں کہ اپنے عزیزوں کے قاتلوں کو قتل ہوتا ہوا دیکھیں۔ شعراء بھی ساتھ تھے‘ اور وہ اپنے اشعار سنا سنا کر راستہ بھر بہادروں کے دلوں میں لڑائی کا جوش اور شوق پیدا کرتے ہوئے آئے‘ شرفاء قریش کی عورتوں میں ابوسفیان کی بیوی ہند بن عتبہ سپہ سالار تھی‘ جس طرح مردوں میں ابوسفیان تمام لشکر کا سپہ سالار اعظم تھا‘ جبیر بن مطعم کا ایک حبشی غلام وحشی نامی تھا‘ اس نے وحشی کو بھی ہمراہ لیا‘ کیونکہ وحشی حربہ (چھوٹا نیزہ) چلانا خوب جانتا تھا‘ یعنی حربہ کو پھینک کر مارتا تھا‘ جس کا نشانہ بہت ہی کم خطا جاتا تھا‘ جبیر بن مطعم نے کہا کہ اگر تو نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو تجھے آزاد کردوں گا‘ ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان نے کہا کہ اگر تو نے میرے باپ کے قاتل حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو تجھے اپنا تمام زیور اتار کر دے دوں گی۔۱؎ بعض تاریخوں میں اس لشکر کفار کی تعداد پانچ ہزار بھی لکھی ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ ان کی تعداد تین ہزار جنگ جو آدمیوں پر مشتمل تھی‘ عورتیں اور شاگرد پیشہ لوگ ان تین ہزار کے سوا ہوں گے۔ کفار کا یہ لشکر مکہ سے روانہ ہو کر مدینہ کے قریب پہنچ گیا‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کے قریب پہنچنے کی خبر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو بلا کر مجلس مشورت منعقد کی۔ عبداللہ بن ابی منافق بھی جو مسلمانوں میں شامل سمجھا جاتا تھا۔ اس مجلس میں موجود تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی رائے یہ تھی کہ ہم کو مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کرنی چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ رائے اس لیے بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب میں دیکھا تھا کہ تلوار کی تھوڑی سی دھار گر گئی ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اندیشہ تھا کہ شاید اس معرکہ میں مسلمانوں کو کچھ نقصان پہنچے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تھا کہ اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک زرہ میں ڈال دیا ہے۔ زرہ کی تعبیر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ کو سمجھا تھا … عبداللہ بن ابی منافق کی بھی یہی رائے تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر مدافعت کی جائے ممکن ہے کہ اس نے اس سے رائے کے پیش کرنے میں اپنی کوئی خاص مصلحت مدنظر رکھی ہو‘ مگر صحابہ رضی اللہ عنھم میں سے اکثر کی یہ رائے ہوئی کہ ہم کو مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے‘ تاکہ دشمن کو ہماری کمزوری کا احساس نہ ہو۔ بوڑھی عمر کے صحابہ رضی اللہ عنھم میں سے تو اکثر کی رائے یہی تھی کہ مدینہ میں بیٹھ کر مدافعت کریں‘ مگر نوجوانوں نے اس کو پسند نہ کیا‘ یہ ۱۴ شوال جمعہ کا واقعہ ہے۔ اس مشورہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز جمعہ ادا کی‘ نماز پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم گھر میں تشریف لے گئے اور وہاں سے زرہ پہن کر اور مسلح ہو کر باہر نکلے۔اب لوگوں کو خیال آیا کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رائے کی مخالفت کی‘ کہیں یہ بات مصیبت نہ ہو‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اگر پسند فرماتے ہیں کہ مدینہ کے اندر رہ کر ہی مدافعت کی جائے تو ایسا ہی کیجئے ہم کو کوئی عذر نہیں‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کثرت رائے اور مجلس مشورت کے نتیجے کو اس لیے پامال کرنا مناسب نہ سمجھا‘ کیونکہ کوئی وحی اور اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی طرف سے حکم اس کے متعلق نازل نہ ہوا تھا‘ ان لوگوں کی دلداری بھی مدنظر تھی جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوئے اور اب اپنی بہادریوں کے جوہر دکھلانے کے لیے بیتاب تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بعد نماز جمعہ مدینہ سے روانہ ہوئے‘ مدینہ میں ایک صحابی ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو چھوڑ گئے کہ نماز پڑھایا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی غیر موجودگی میں مدینہ کا انتظام درست رکھیں‘ ایک ہزار آدمی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ مدینہ سے روانہ ہوئے۔۱؎