ہجرت کا تیسرا سال

میدان جنگ کا نظارہ

اس کے بعد مطمئن ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم پہاڑی سے اترے‘ میدان میں شہداء کی لاشوں کو دفن کیا گیا‘ ۶۵ انصار اور چار مہاجرین شہید ہوئے تھے‘ کافروں نے بعض شہدا کی لاشوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے تھے‘ ہند بنت عتبہ زوجہ ابوسفیان نے موقع پا کر سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش کا مثلہ کیا یعنی ان کے کان‘ ناک وغیرہ کاٹ ڈالے تھے‘ آنکھیں نکال لی تھیں‘ سینہ چاک کر کے جگر کاٹ کر نکالا اور اس کو دانتوں سے چبایا‘ مگر نگل نہ سکی اگل دیا اسی لیے جگر خوارہ مشہور ہوئی‘ سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدنا صفیہ رضی اللہ عنھا جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن تھی‘ بھائی کی لاش کو دیکھنے آئیں‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان کو لاش کے پاس جانے سے روکو‘ انہوں نے منع کیا تو سیدنا صفیہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ مجھ کو معلوم ہو چکا ہے کہ میرے بھائی کی لاش کا مثلہ کیا گیا ہے‘ میں نوحہ کرنے نہیں آئی میں صبر کروں گی اور دعائے مغفرت مانگوں گی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ سن کر اجازت دے دی‘ انہوں نے اپنے بھائی کی لاش اور ان کے جگر کے ٹکڑے زمین پر پڑے ہوئے دیکھے‘ صبر کیا‘ انا للٰہ و انا الیہ راجعون پڑھا‘ دعائے مغفرت کی اور چلی آئیں۔۱؎ علمبردار اسلام سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے کفن کے لیے صرف ایک چادر تھی جو اس قدر چھوٹی تھی کہ سرچھپاتے تھے تو پائوں کھل جاتے تھے‘ پائوں چھپاتے تھے تو سر کھل جاتا تھا‘ آخر سر چھپایا اورپائوں کوگھاس ڈال کر چھپایا‘ ۲؎ تمام شہداء بلاغسل ایک ایک قبر میں دو دو دفن کئے گئے۔۳؎ میدان جنگ سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف چلے تو راستہ میں سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی بیوی حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنھا آتی ہوئی ملیں‘ ان کو ان کے ماموں سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر سنائی گئی‘ انہوں نے انا للہ پڑھا‘ پھر ان کے بھائی عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال سنایا انہوں نے انا للہ پڑھ کر دعاء مغفرت کی‘ پھر ان کے شوہر مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی گئی یہ خبر سن کر وہ بے تاب ہو گئیں‘ اور رو پڑیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا کہ عورت کو شوہر کی محبت زیادہ ہوتی ہے۴؎…انصار کے قبیلہ کی ایک خاتون کے باپ‘ بھائی اور شوہر تینوں شہید ہو گئے تھے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی شہادت کی افواہ سن کر مدینہ سے چلیں‘ راستے میںکسی نے کہا کہ تمہارا باپ شہید ہو گیا‘ انہوں نے فرمایا یہ بتائو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو بخیریت ہیں؟ پھر ان سے کہا گیا کہ تمہارا بھائی بھی شہید ہو گیا‘ انہوں نے یہ سن کر بھی یہی فرمایا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا حال سنائو‘ پھر ان سے کہا گیا کہ تمہارا شوہر بھی شہید ہو گیا‘ انہوں نے یہ سن کر بھی یہی فرمایا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا حال سنائو‘ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی قریب پہنچ گئے تھے‘ ان کو بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو وہ تشریف لا رہے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا چہرہ مبارک دیکھ کر اس خاتون نے فرمایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم سلامت ہیں تو پھر تمام مصائب ہیچ ہیں۔۵؎ اس لڑائی میں جو مدینے میں صرف تین چار میل کے فاصلہ پر ہوئی تھی عہد نامے کے موافق یہود مدینہ کو مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑنا اور کفار مکہ کا مقابلہ کرنا چاہیے تھا۔ عبداللہ بن ابی کے واپس آنے اور جمعیت کے کم ہو جانے کے بعد بعض صحابہ رضی اللہ عنھم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ عرض بھی کیا تھا کہ یہودیوںسے مدد طلب کرنی چاہیے‘ مگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہودیوں سے مدد مانگنی مناسب نہیں سمجھی‘ چنانچہ یہودی مزے سے اپنے گھروں میں بیٹھے اوراس لڑائی کے نتیجے کا انتظار دیکھتے رہے۔ یہودیوں میں سے ایک شخص مخیریق نامی نے اپنی قوم سے کہا کہ تم پر محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی مدد فرض ہے‘ انہوں نے کہا کہ آج شنبہ کا دن ہے ہم نہیں لڑ سکتے‘ مخیریق نے کہا کہ یہ نبی اور کفار کا مقابلہ ہے شنبہ مانع نہیں ہو سکتا‘ چنانچہ اس نے تلوار اٹھائی اور سیدھا میدان جنگ میں پہنچا‘ جاتے ہوئے یہ اعلان کر گیا کہ اگر میں مارا جائوں تو میرا مال محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہے جو چاہیں کریں ان سے کچھ تعرض نہ کرنا۔ لڑائی میں شریک ہوا اور مقتول ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب یہ حال معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ بہترین یہود تھا۔۱؎ ایک شخص حارث بن سوید نامی منافق مسلمانوں کے ہمراہ میدان جنگ تک گیا‘ جب لڑائی شروع ہوئی تو مجذر بن زیاد رضی اللہ عنہ اور قیس بن رضی اللہ عنہ زید و مسلمانوں کو شہید کر کے مکہ کی طرف بھاگ گیا‘ چند روز کے بعد مدینے میں واپس آیا اور گرفتار ہو کر سیدنا عثمان عفان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے قتل ہوا۔۲؎ اس لڑائی میں سب سے بڑا فائدہ مسلمانوں کو یہ ہوا کہ وہ منافقوں کو خوب پہچان سکے‘ اور دوست و دشمن میں تمیز کرنے کے مواقع ان کو مل گئے‘ مدینہ پہنچ کر اگلے دن یعنی شوال ۳ ھ بروز یک شنبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جو لوگ کل لڑائی میں شریک تھے صرف وہی کفار سے مقابلہ کرنے کے لیے نکلیں‘ کسی نئے شخص کو یعنی ایسے شخص کو ہمراہ چلنے کی اجازت نہ تھی جو جنگ احد میں شریک نہ تھا‘ صرف ایک شخص جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمراہ چلنے کی اجازت دے دی تھی‘ چنانچہ تمام صحابہ رضی اللہ عنھم جو شریک جنگ احد تھے‘ حتیٰ کہ زخمی بھی‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ مدینے سے نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ سے روانہ ہو کر آٹھ میل چل کر مقام حمراء الاسد میں مقام کیا‘ اور تین دن تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم حمراء الاسد میں مقیم رہے‘ اتفاقاً معبد بن ابی معبد خزاعی جو مکہ کو جا رہا تھا‘ اس طرف سے گذرا۔ ادھر مقام روحا میں پہنچ کر مشرکین نے سوچا کہ اس لڑائی میں ہم کو مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی فتح نہیں ہوئی‘زیادہ سے زیادہ یہ کہ برابر کا مقابلہ رہا‘ کیونکہ اگر ہم یہ کہیں گے کہ فتح مند واپس آ رہے ہیں تو لوگ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھ مسلمان قیدی کہاں ہیں؟ پھر پوچھیں گے کہ مال غنیمت کہاں ہے؟ جب کہ کوئی قیدی ہمارے پاس نہیں‘ مال غنیمت بھی نہیں اور ولید بن عاصی‘ ابوامیہ بن حذیفہ ہشام بن ابی حذیفہ‘ ابی بن خلف‘ عبداللہ بن حمید اسدی‘ طلحہ بن ابی طلحہ‘ ابوسعید بن ابوطلحہ‘ مسافع و جلاسی پسران طلحہ‘ ارطاۃ بن شرجیل وغیرہ سترہ ایسے شخص جو مشہور سردارن قریش میں تھے‘ اور پانچ چھ دوسرے بہادر قتل کروا آئے تو ہم کون فتح مند خیال کرے گا‘ جب کہ ہمارے ہاتھ سے صرف حمزہ رضی اللہ عنہ و معصب رضی اللہ عنہ وغیرہ تین چار قابل تذکرہ آدمی مقتول ہو سکے‘ یہ سوچ کر سب کی رائے بدلی‘ از سر نو پھر مارنے مرنے پر اظہار مستعدی کیا گیا۔ اور ابوسفیان اس تمام لشکر کو لے کر مقام روحا سے واپسی پر آمادہ ہوا کہ مدینہ پر حملہ آور ہو۔ اسی حالت میں معبد بن ابی معبد مقام روحا میں پہنچا۔ اس نے ابوسفیان کو خبر سنائی کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ سے نکل کر تمہارے تعاقب میں روانہ ہو چکے ہیں‘ مجھ کو ان کا لشکر حمراء الاسد میں ملا تھا اورو ہ غالباً بہت جلد تم تک پہنچ جانے والے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی لشکر کفار بدحواس ہو کر وہاں سے سیدھا مکہ کی جانب روانہ ہوا اور مکہ پہنچ کر اس کے دم میں دم آیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب یہ تحقیق ہو گئی کہ کفار بدحواسی سے مکہ کیطرف بھاگے چلے جا رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم واپس مدینہ میں تشریف لے آئے‘ یہ سفر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا غزوہ حمراء الاسد کے نام سے مشہور ہے۱؎ اس کے ذریعہ کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب قائم ہوا‘ اور مدینہ ان کے حملہ سے محفوظ رہا۔ جنگ احد میں تیراندازوں کی غلطی اور حکم کی تعمیل میں کوتاہی کرنے کے سبب مسلمانوں کو صدمہ پہنچا اور پریشانی کا سامناہوا‘ اس جنگ کی نسبت عام طور پر مشہور ہے کہ مسلمانوں کو شکست ہوئی لیکن یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ مسلمانوں نے کفار کو اپنے سامنے سے بھگا دیا تھا‘ اور کفار شکست پا چکے تھے بعد میں وہ پھر حملہ آور ہو سکے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کے لشکر نے میدان نہیں چھوڑا‘ کفار ہی نے جنگ کو آئندہ سال پر ملتوی کیا اور مسلمانوں نے اس التوا کو منظور کرلیا‘ میدان سے اول کفار مکہ کی طرف روانہ ہوئے بعد میں مسلمان وہاں سے مدینہ کی طرف چلے‘ حمراء الاسد میں مسلمانوں کے آنے کی خبر سن کرکفار ہی سراسیمہ ہو کر بھاگے‘ ہاں اس میں شک نہیں کہ مسلمان کفار مقتولین کی نسبت زیادہ شہید ہوئے اور یہ میدان جنگ کے معمولی واقعات ہیں‘ اس لڑائی کے بعد ماہ ذی الحجہ تک اس سال میں اور کوئی قابل تذکرہ واقعہ نہیں ہوا‘ اسی سال نصف رمضان المبارک کے قریب سیدنا حسن ابن علی رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے‘ جنگ احد میں مسلمانوں کو چشم زخم پہنچنے سے مدینہ کے منافق اور یہودی بہت خوش ہوئے اور ان کی جراتیں بڑھ گئیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم در گذری سے کام لیتے رہے