ہجرت کا چوتھا سال

وفائے عہد

جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرو بن امیہ سے راستہ میں ان دو شخصوں کے قتل کا حال سنا تو فرمایا کہ وہ دونوں تو ہماری امان تھے اور ہم سے عہدو پیمان کر گئے تھے‘ اب ان کا خون بہا دینا ضروری ہے۔‘ یہودیوں کا قبیلہ بنو نضیر قبیلہ بنو عامر کا ہم عہد تھا‘ ادھر مسلمانوں سے بھی ان کا معاہدہ تھا جس کی رو سے ان کو خوں بہا میں مدد کرنی چاہیے تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس خون بہا کے معاملہ میں بنو نضیر سے مشورہ کر لینا مناسب سمجھا‘ اور ان کے محلے یا ان کی بستی میں خود تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمارہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی گئے‘ بنو نضیر نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریف لے جانے پر بظاہر خوں بہا میں شرکت کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے قلعہ کی دیوار کے سایہ میں بٹھایا تھا کہ قلعہ کی منڈیر پر اس جگہ ایک بہت بڑا پتھر دیوار کی طرح سے کھڑا ہوا رکھا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے جدا ہو کر انہوں نے مشورہ کیا کہ یہ بہت اچھا موقع ہے کوئی شخص قلعہ پر چڑھ کر اوپر سے یہ پتھر دھکیل دے تاکہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کچلے جائیں۔