ہجرت کا پانچواں سال

بنو قریظہ کی بدعہدی کا حشر

سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جو غزوہ خندق کے زمانہ میں بنو قریظہ کو سمجھا بجھا کر راہ راست پر رکھنے کے لیے بنو قریظہ کے پاس ان کے قلعہ میں بھیجے گئے تھے اور بنو قریظہ نے نہایت درشتی اور سختی کے ساتھ ان کو ناکام واپس بھیجا تھا‘ بنو قریظہ کے ہم عہد اور ان کی قوم سے محبت کا تعلق رکھتے تھے‘ وہ جنگ خندق کے زمانہ میں تیر سے زخمی ہو گئے تھے‘ ان کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کے اندر خیمہ میں رہیں اس لیے وہ بنو قریظہ کے محلے کی طرف مجاہدین اسلام کے ساتھ نہیں جا سکے تھے‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے علم سپرد کیا اور مقدمۃ الجیش کے طور پر آگے روانہ کیا‘ مدینہ میں ابن ام مکتوم کو بدستور عامل رہنے دیا‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بنو قریظہ کے قلعہ کے قریب پہنچے تو انہوں نے سنا کہ بنو قریظہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو (نعوذ باللہ) گالیاں دے رہے تھے‘ غرض شام تک بلکہ نماز عشاء کے وقت تک صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی آمد کا سلسلہ جاری رہا‘ جن لوگوں کو کسی وجہ سے روانگی میں دیر لگی اور وہ عشاء کے وقت پہنچے انہوں نے بھی نماز عصر بنو قریظہ کے محلے میں پہنچ کر عشاء کے وقت ہی ادا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے اس فعل کو جائز رکھا‘ ۳؎بنو قریظہ کے قلعہ میں حیی بن اخطب بھی موجود تھا‘ جب ابوسفیان اورکفار عرب جنگ خندق سے فرار ہوئے تو حیی بن اخطب بنو قریظہ کے قلعہ میں چلا آیا تھا اس نے ان کو مسلمانوں سے لڑنے اور مقابلہ کرنے پر خوب آمادہ کیا‘ مسلمانوں نے بنو قریظہ کے قلعہ کا محاصرہ کر لیا تھا‘ یہ محاصرہ پچیس روز تک قائم رہا۔ بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد تھا‘ حیی بن اخطب بھی بنو قریظہ کے ساتھ محصور تھا‘کعب بن اسد نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ میری قوم سے نہیں ہو سکتا تو اس نے اپنی قوم کو ایک جگہ جمع کر کے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہونے میں تو شک نہیں‘ کیونکہ ان کے متعلق ہماری آسمانی کتاب توریت میں پیش گوئیاں صاف صاف موجود ہیں اور یہ وہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں جن کے ہم منتظر تھے‘ پس مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم سب ان کی تصدیق کریں اور اپنے جان و مال و اولاد کو محفوظ کر لیں‘ بنو قریظہ نے اس مشورہ کی مخالفت کی اور مسلمان ہونے سے انکارکیا‘ اس کے بعد کعب بن اسد نے کہا دوسرا مشورہ میرا یہ ہے کہ اپنی عورتوں اور بچوں کو قتل کر دو اورقلعہ سے نکل کر میدان میں مسلمانوں سے جان توڑ کر مقابلہ کرو‘ اگر فتح مند ہوئے تو عورتیں اور بچے پھر میسر آ سکتے ہیں‘ مارے گئے تو ننگ و ناموس کی طرف سے بے فکر مریں گے‘ بنو قریظہ نے اس مشورہ کے قبول کرنے سے بھی انکار کیا۔ کعب بن اسد نے کہا کہ میرا تیسرا مشورہ یہ ہے کہ سبت کی رات میںمسلمانوں پر شب خون مارو کیونکہ اس روز ہمارے یہاں قتل کرنا اور حملہ آور ہونا ناجائز ہے‘ مسلمان اس رات کو ہماری طرف سے بالکل بے فکر اور غافل ہوں گے اس لیے ہمارا شبخون بہت کامیاب رہے گا اور ہم مسلمانوں کا بہ کلی استیصال کر دیں گے‘ اس بات پر بھی بنو قریظہ رضا مند نہ ہوئے اور کہا کہ ہم سبت کی بے حرمتی بھی نہیں کرنا چاہتے‘ شرفاء بنو قریظہ میں سے تین شخصوں نے جن کے نام ثعلبہ بن سعید‘ اسد بن عبید اور اسید بن سعید تھے اسلام قبول کر لیا‘ ایک شخص عمروبن سعد نے کہا کہ میری قوم بنو قریظہ نے بدعہدی کی ہے میں اس بدعہدی میں اس کا شریک نہیں رہنا چاہتا‘ یہ کہہ کر وہ قلعہ سے باہر نکل گیا اور لشکر اسلام کے ایک سردار محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جو طلایہ گردی کی خدمت انجام دے رہے تھے اس کو قلعہ سے نکلتے ہوئے دیکھا‘ اس کا نام و نشان اور ارادہ معلوم کر لینے کے بعد نکل جانے دیا مگر گرفتار نہیں کیا۔ آخر ایک صبح کو بنو قریظہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ہم اپنے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس شرط پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سپرد کرتے ہیں کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہمارے لیے جو سزا تجویز کریں وہی سزا ہم کو دی جائے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس شرط کو قبول فرما لیا‘ بنو قریظہ نے جب اپنے آپ کو مسلمانوں کے سپرد کر دیا تو قبیلہ بنی اوس کے مسلمان انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ جب زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج کی لڑائیاں ہوتی تھیں تو بنو قریظہ ہمارے یعنی قبیلہ اوس کے طرفدار ہوتے تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قبیلہ بنو قینقاع کو قبیلہ خزرج کے انصار کی مرضی کے موافق چھوڑ دیا تھا‘ اب ہماری باری ہے‘ لہذا بنو قریظہ کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کو حکم مقرر فرمائیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم نے پہلے ہی تمہارے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حکم تسلیم کر لیا ہے‘ اور بنو قریظہ نے بھی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف سے وکیل مطلق بنا دیا ہے۔ یہ سن کر قبیلہ اوس کے تمام انصار خوش ہو گئے‘ چنانچہ اسی وقت انصار مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف روانہ ہو گئے‘ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مجروح اور زیر علاج تھے‘ ان کو لشکر اسلام کی طرف لائے‘ راستے میں لوگ ان سے کہتے آتے تھے کہ آپ کا فیصلہ ناطق ہو گا‘ اب آپ کو موقع حاصل ہے کہ نبو قریظہ کے ساتھ رعایت کریں‘ سعد ابن معاذ نے جب اس قسم کی باتیں اپنی قوم کے آدمیوں سے سنیں تو انہوں نے کہا کہ انصاف و عدل کے مطابق فیصلہ کروں گا اور کسی کی ملامت دامن گیر نہ ہونے دوں گا‘ جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی سواری قریب پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انصار کو جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں موجود تھے حکم دیا کہ اپنے سردار کی تعظیم کو اٹھو‘ چنانچہ سب نے ان کو عزت و تعظیم کے ساتھ لیا‘ اس کے بعد سیدنا سعدبن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تمہارے قدیمی دوستوں یعنی بنو قریظہ کا معاملہ تمہارے سپرد کر دیا ہے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ تم سب خدائے تعالی کو حاضر و ناظر جان کر اقرار کرو کہ میرے فیصلہ کو بخوشی قبول کرو گے اورکوئی چون و چراں نہ کرو گے‘ سب نے اقرار کیا کہ ہم تمہارے فیصلہ پر رضا مند ہوں گے‘ پھر سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہی اقرار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مہاجرین سے بھی لیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر رضا مند ہونے کا اقرار فرمایا‘ اس کے بعد سیدنا سعد بن معاذ نے فرمایا کہ میں حکم دیتا ہوں کہ بنو قریظہ کے تمام مرد قتل کر دئیے جائیں ان کی بیوی بچوں کے ساتھ اسیران جنگ کا سا سلوک کیا جائے اور ان کے اموال و املاک کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد بنو قریظہ کو قلعہ سے نکلنے کا حکم دیا گیا اور ان کو زیر حراست مدینہ میں لایا گیا‘ ان کے مرد قتل کئے گئے اور ان کے مکانات مسلمانوں کو رہنے کے لیے دئیے گئے۔۱؎