ہجرت کا چھٹا سال
منافقوں کی شرارت کا ایک واقعہ
چنداشخاص جو قبیلہ عرینہ وعکل سے تعلق رکھتے تھے مدینہ میں آ کر بظاہر مسلمان ہو گئے اور چند روز مدینہ میں رہ کر بیمار اور سخت جسمانی اذیت میں مبتلا ہو گئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو احد کے شمال جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اونٹوں کی چراگاہ تھی بھیج دیا‘ وہاں چوپایوں کا پیشاب اور دودھ پی پی کر جب یہ لوگ خوب تندرست اور موٹے تازے ہو گئے تو انہوں نے یہ شرارت کی کہ یسار رضی اللہ عنہ نامی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خادم کو جو اونٹوں کی حفاظت کے لیے مقرر تھا تنہا پا کر بڑی بے رحمی سے قتل کیا‘ اس کے ہاتھ پائوں کاٹے‘ اس کی آنکھوں میں ببول کے کانٹے چبھوئے‘ اس کی دست و پابریدہ لاش کو ایک درخت کی شاخ سے باندھ کر لٹکایا‘ اور تمام اونٹوں کو ہانک کر لے گئے‘جب یہ خبر مدینہ میں پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کرز بن جابر الفہری کو بیس سواروں کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ کیا‘ چنانچہ بدمعاش ابھی راستے ہی میں تھے کہ گرفتار کئے گئے‘ جب گرفتار ہو کر مدینے میں پہنچے تو قتل کا حکم صادر ہوا اور وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔۲؎