ہجرت کا ساتواں سال
فتح خیبر کے بعد
فتح خیبر سے واپسی کے وقت ایک منزل پر صبح کے وقت نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آنکھ کھلی‘ نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے کسی کی آنکھ کھلی تمام لشکر اسلام سوتا ہی رہا اور آفتاب نکل آیا‘ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کی آنکھ کھلی‘ سب کو بیدار کیا‘ وہاں سے روانہ ہو کر اور تھوڑے فاصلہ پر جا کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہ نے نماز فجر ادا کی‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر اس طرح آنکھ نہ کھلے تو جب بیدار ہوا کرو اسی وقت نماز ادا کیا کرو۔۳؎
یہود لوگ بڑے مالدار تھے اور خیبر کی زمینیں جو یہودیوں کے قبضے میں تھیں خوب زرخیر اور قیمتی تھیں‘ فتح خیبر کے اموال غنیمت اور زرعی زمینیں جو مسلمانوں میں تقسیم ہوئیں تو مہاجرین کی پریشان حالی اور افلاس سب دور ہو گیا‘ اب مہاجرین صاحب جائداد بھی ہو گئے اور انصار کی مالی امداد سے بھی ان کو بے نیازی حاصل ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس وقت تک اپنے ذاتی اخراجات اور اپنے اہل بیت کے لیے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو کوئی تکلیف نہ دی تھی‘ انصار یا مہاجرین کی طرف سے اگر کوئی کبھی ہدیہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے بھی ان کو ہدیہ بھیجے جاتے تھے‘ خیبر کی زمینوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حصے میں فدک کی جائداد آئی تھی‘ اسی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے مہمانوں کی ضیافت اور بنی نضیر کی زمین سے اپنے رشتہ داروں اور یتیموں اور مفلس مسلمانوں کی پرورش کرتے تھے۔
مشرکین مکہ کو جب خیبر پر مسلمانوں کی چڑھائی کا حال معلوم ہوا تو وہ بڑی بے صبری سے اس لڑائی کے نتائج کا انتظار کرنے لگے۔ مکہ والوں میں سے ایک شخص حجاج بن علاط سلمی رضی اللہ عنہ جو بہت مالدار شخص تھے کسی سفر کے بہانے سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے اور جنگ خیبر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ تھے‘ بعد فتح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ ابھی تک مکہ والوں کو میرے مسلمان ہونے کا حال معلوم نہیں ہوا‘ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم اجازت دیں تو میں مکہ میں جا کر اپنا روپیہ جو میری بیوی کے قبضہ میں ہے اور قرضہ جو لوگوں کے ذمہ ہے وصول کر کے لے آئوں‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اجازت دے دی۔
حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ مکہ میں آئے تو مکہ والوں کو خیبر کی خبر کا بے حد منتظر پایا انہوں نے مکہ والوں کے ساتھ عجیب تمسخر کیا اور ان سے خیبر کا اصل حال بیان نہ کیا‘ اپنے روپے فراہم کرانے میں سب سے مدد لی‘ تمام روپے لے کر اور صرف عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو چلتے وقت فتح خیبر کا اصل حال سنا کر مکہ سے روانہ ہو گئے‘ اس کے بعد کفار کو حجاج کے مسلمان ہونے اور خیبر میں مسلمانوں کے کامیاب و فتح مند ہونے کا حال معلوم ہوا تو وہ کف افسوس ملتے تھے اور حجاج کے اس طرح معہ دولت صاف نکل جانے پر اور بھی زیادہ متاسف تھے۔۱؎
خیبر سے واپس مدینہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تمام قبائل کی طرف جو مسلمانوں کی بیخ کنی کی کوششوں اور سازشوں میں لگے ہوئے تھے ایک ایک دستہ فوج ادب آموزی اور رعب قائم کرنے کے لیے روانہ کیا‘ تاکہ کوئی بڑی بغاوت اور خطرناک سازش سر سبز نہ ہونے پائے۔
چنانچہ نجد کے قبیلہ فزارہ کی جانب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ‘ سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ کئے گئے‘۲؎ قوم ہوازن کی طرف سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو تیس سواروں کے ساتھ روانہ کیا گیا‘ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو تیس شتر سواروں کے ہمراہ بشر بن زرام یہودی کی گرفتاری کے لیے بھیجا گیا‘ جو خیبر کے یہودیوں کو بغاوت پر آمادہ کر رہا تھا‘ بشیر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ تیس سواروں کے ساتھ بنی مرہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کئے گئے‘ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک جماعت کے ساتھ قوم جہنیہ کے ایک قبیلہ حرقات کی طرف بھیجا گیا‘ سیدنا غالب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ لیثی کو ایک جماعت کے ساتھ قوم بنی الملوح کی تادیب کے لیے بھیجا گیا‘ سیدنا ابی حدرو اسلمی کو صرف تین آدمیوں کے ساتھ قبیلہ حشم بن معاویہ کے سردار رفاعہ بن قیس کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا گیا‘ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور محلم بن جثامہ کو مقام اضم کی طرف روانہ کیا گیا۔
یہ تمام فوجی دستے کامیاب و فتح مند واپس ہوئے اور ہر جگہ مسلمانوں کو فتح و کامیابی نصیب ہوئی‘ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے لڑائی میں جب ایک شخص کے قتل کو تلوار اٹھائی تو اس نے لا الہ الا اللہ کہا مگر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں یہ واقعہ بیان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم بہت ناراض ہوئے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے جواب طلب کیا گیا‘ انہوں نے عرض کیا کہ اس شخص نے دھوکہ دینے اور اپنی جان بچانے کے لیے لا الہ الا اللہ کہا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ منافقت سے کلمہ پڑھتا ہے‘ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے توبہ کی اور آئندہ ساری عمر اس قسم کی غلطی سے محترز رہنے کا وعدہ کیا۔۱؎
اسی طرح ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور محلم رضی اللہ عنہ بن جثامہ چلے جا رہے تھے کہ قوم اشجع کا ایک شخص عامر بن اصنبط جو اپنے مال و متاع کے ساتھ سفر کر رہا تھا ملا‘ عامر بن اصنبط نے اس اسلامی لشکر کو دیکھ کر اسلامی طریق پر السلام علیکم کہا مسلمانوں نے دشمن قبیلے کے ایک شخص کو اس طرح سلام کرتے ہوئے دیکھ کر یہ سمجھا کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لیے ڈر کے مارے السلام علیکم سے فائدہ اٹھانا چاہا ہے‘ چنانچہ اس کو جواب دینے اور وعلیکم السلام کہنے میں سب کو تامل ہوا‘ اور محلم رضی اللہ عنہ بن جثامہ نے عامر پر حملہ کر کے اس قتل کر ڈالا‘ جب یہ مہم واپس آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس واقعہ کا حال معلوم ہوا تو سخت ناخوش ہوئے اور محلم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نے ایک شخص کو مومن باللہ ہونے کی حالت میں کیوں قتل کیا؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے عامر کے ورثاء کو پچاس اونٹ خوں بہا میں دے کر رضا مند کر لیا اور محلم رضی اللہ عنہ کو قصاص سے آزادی ملی۔