ہجرت کا آٹھواں سال
جنگ قضاعہ
اس جنگ کے ایک ماہ بعد مدینے میں خبر پہنچی کہ سرحد شام کے قریب قبیلہ قضاعہ نے مدینہ پر حملہ کے لیے لشکر جمع کیا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ کو تین سو مہاجرین و انصار کے لشکر کا امیر بنا کر اس طرف روانہ کیا‘ سیدنا عمرو بن العاص رات کو سفر اور دن کو پوشیدہ مقامات میں قیام کرتے ہوئے روانہ ہوئے‘ دشمن کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ دشمن کی جمعیت بہت زیادہ ہے‘ ایک قاصد مدینہ کی طرف بھیجا گیا‘ یہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو کمک دے کر روانہ کیا‘ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پہنچنے پر لشکر اسلام حملہ آور ہوا اور دشمن تاب مقادمت نہ لا سکا اور ان کا تمام لشکر منتشر ہو گیا‘ اسلامی لشکر صحیح سالم مدینہ منورہ میں واپس آیا۔۱؎
مدینہ سے پانچ منزل کے فاصلے پر ساحل سمندر کے قریب قبیلہ جہنیہ نے غدر و سرکشی اور مدینہ پر حملہ آوری کے سامان جمع کئے اس کا حال ۸ ھ میں آپ کو معلوم ہوا‘ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو تین سو مہاجر و انصار کے ساتھ اس طرف روانہ کیا‘ یہ مہم بغیر کسی مقابلہ میں اور مقاتلہ کے واپس آئی اور دشمنوں پر اس مہم کی خبر ہی سن کر ہیبت طاری ہو گئی۔